ٹک ٹاک اور یوٹیوب بچوں کیلئے محفوظ نہیں، برطانوی ادارے کا انکشاف
مشہور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز TikTok اور YouTube ایک بار پھر تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔ برطانوی ریگولیٹر ادارے آف کام نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ پلیٹ فارمز بچوں کو نقصان دہ مواد سے محفوظ رکھنے میں ناکام رہے ہیں اور اب بھی بڑی تعداد میں کم عمر صارفین غیر مناسب مواد تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔
برطانوی ادارے کے تازہ بیان کے مطابق ٹک ٹاک اور یوٹیوب نے بچوں کے تحفظ کے حوالے سے جو وعدے کیے تھے، وہ خاطر خواہ نتائج دینے میں ناکام رہے۔ آف کام کا کہنا ہے کہ متعدد شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ پلیٹ فارمز بچوں کے لیے مکمل طور پر محفوظ نہیں۔
بچوں کیلئے نقصان دہ مواد بدستور موجود
آف کام کے مطابق 11 سے 17 سال کی عمر کے تقریباً 35 فیصد بچوں نے اعتراف کیا کہ انہیں اسکرولنگ کے دوران ایسا نقصان دہ مواد دیکھنے کو ملا جو ان کی عمر کے لیے مناسب نہیں تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق:
- 53 فیصد بچوں نے TikTok پر نقصان دہ مواد دیکھنے کا بتایا۔
- 36 فیصد بچوں نے YouTube پر ایسے مواد تک رسائی کا اعتراف کیا۔
- 34 فیصد بچوں نے Instagram پر غیر مناسب مواد دیکھا۔
- 31 فیصد بچوں نے Facebook پر نقصان دہ مواد کا سامنا کیا۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بچوں کے لیے محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔
آف کام کے نئے قوانین
برطانوی ریگولیٹر Ofcom نے جولائی 2025 میں بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے نئے قوانین نافذ کیے تھے۔ ان قوانین کا مقصد بچوں کو غیر مناسب، پرتشدد، ذہنی دباؤ پیدا کرنے والے اور خطرناک مواد سے بچانا تھا۔
تاہم نئے بیان میں کہا گیا کہ ان قوانین کے باوجود نقصان دہ مواد تک بچوں کی رسائی میں نمایاں کمی نہیں آ سکی۔
ماہرین کے مطابق الگورتھمز اب بھی بچوں کو ایسی ویڈیوز اور پوسٹس تجویز کرتے ہیں جو ذہنی صحت، خود اعتمادی اور رویوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔
کم عمر بچوں کا سوشل میڈیا استعمال
تحقیقی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ 8 سے 12 سال کی عمر کے 84 فیصد بچے اب بھی مقبول ترین سوشل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کر رہے ہیں، حالانکہ ان ایپس کے لیے کم از کم عمر 13 سال مقرر کی گئی ہے۔
ان پلیٹ فارمز میں شامل ہیں:
- YouTube
- TikTok
- Snapchat
ماہرین کے مطابق کم عمر بچوں کی بڑی تعداد کا ان پلیٹ فارمز تک رسائی حاصل کرنا والدین اور ریگولیٹری اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
والدین کیلئے تشویش میں اضافہ
برطانوی رپورٹ سامنے آنے کے بعد والدین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر غیر مناسب مواد بچوں کی ذہنی صحت، تعلیمی کارکردگی اور سماجی رویوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق بچوں کو اکثر:
- پرتشدد ویڈیوز
- نامناسب زبان
- جعلی معلومات
- خطرناک چیلنجز
- ذہنی دباؤ پیدا کرنے والا مواد
دیکھنے کو ملتا ہے۔
ماہرین والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور اسکرین ٹائم محدود کریں۔
میٹا، ٹک ٹاک اور یوٹیوب سے وضاحت طلب
Ofcom نے بتایا کہ اس نے Meta، TikTok اور YouTube سے قانونی طور پر تفصیلات طلب کی ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ بچے کس قسم کا مواد دیکھ رہے ہیں اور انہیں محفوظ بنانے کے لیے مزید کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ اگر پلیٹ فارمز نے مناسب اقدامات نہ کیے تو ان کے خلاف مزید سخت کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا مؤقف
ٹیکنالوجی کمپنیاں مسلسل یہ دعویٰ کرتی رہی ہیں کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے جدید AI ٹیکنالوجی، مواد فلٹرنگ اور عمر کی تصدیق جیسے اقدامات کر رہی ہیں۔ تاہم ناقدین کے مطابق یہ اقدامات اب تک ناکافی ثابت ہوئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الگورتھم پر مبنی سسٹمز اکثر سنسنی خیز اور وائرل مواد کو ترجیح دیتے ہیں، جس کی وجہ سے بچوں تک نقصان دہ مواد آسانی سے پہنچ جاتا ہے۔
مستقبل میں مزید سخت قوانین کا امکان
برطانیہ سمیت دنیا بھر میں حکومتیں بچوں کے آن لائن تحفظ کے حوالے سے سخت قوانین متعارف کرانے پر غور کر رہی ہیں۔ ڈیجیٹل سیفٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں سوشل میڈیا کمپنیوں پر بھاری جرمانے اور مزید قانونی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
ٹک ٹاک اور یوٹیوب بچوں کیلئے محفوظ نہیں سے متعلق برطانوی ریگولیٹر کی رپورٹ نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ذمہ داریوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق والدین، حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو مل کر بچوں کیلئے محفوظ آن لائن ماحول یقینی بنانا ہوگا تاکہ نوجوان نسل کو ڈیجیٹل خطرات سے بچایا جا سکے۔








