انسدادِ پولیو مہم یکم ستمبر سے شروع، 2 کروڑ 80 لاکھ بچوں کو ویکسین پلائی جائے گی
پاکستان میں ایک بار پھر انسدادِ پولیو مہم کا آغاز ہو رہا ہے، جو یکم ستمبر سے ملک بھر میں شروع کی جائے گی۔ اس اہم قومی اقدام کے تحت 2 کروڑ 80 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ مہم نہ صرف پاکستان کو پولیو سے پاک بنانے کی جدوجہد کا حصہ ہے بلکہ عوام میں صحت و صفائی سے متعلق آگاہی پھیلانے کا بھی ایک موقع فراہم کرے گی۔
مہم کا دائرہ کار اور منصوبہ بندی
انسدادِ پولیو پروگرام کے اعلامیہ کے مطابق، یہ مہم ملک کے 99 اضلاع میں بیک وقت چلائی جائے گی، جس میں بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ دیہی اور دور دراز علاقوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور اسلام آباد میں گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو ویکسین پلائی جائے گی۔
مہم کے لیے 2 لاکھ 40 ہزار سے زائد پولیو ورکرز تعینات کیے جائیں گے جو گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گے۔
یہ جامع منصوبہ بندی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ کوئی بھی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہ سکے۔
سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں خصوصی توجہ
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ گیا ہے، اور ان علاقوں میں پولیو وائرس کے پھیلنے کے امکانات بھی زیادہ ہیں۔ اسی وجہ سے انسدادِ پولیو مہم کے دوران ان علاقوں میں اضافی ٹیمیں تعینات کی جائیں گی تاکہ ہر بچے کو ویکسین فراہم کی جا سکے۔
یہ اقدام نہ صرف پولیو بلکہ دیگر وبائی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
والدین کے لیے اہم پیغام
پولیو پروگرام کے حکام اور ماہرین صحت نے والدین سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ ہر انسدادِ پولیو مہم میں اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلائیں۔ ماہرین کے مطابق:
پولیو ایک ایسا موذی مرض ہے جو عمر بھر کے لیے معذوری کا سبب بن سکتا ہے۔
بچوں کو ہر مہم میں قطرے پلانا ضروری ہے، کیونکہ یہ ان کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں اور وائرس کے خلاف تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
حفاظتی ٹیکوں کا کورس بھی بروقت مکمل کرانا بچوں کو دیگر بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔
میڈیا اور آگاہی مہم
انسدادِ پولیو پروگرام نے اعلان کیا ہے کہ اس بار مہم کے دوران بی رول فوٹیج اور تصاویر میڈیا کے لیے فراہم کی جائیں گی تاکہ مہم کو زیادہ مؤثر طریقے سے اجاگر کیا جا سکے۔
میڈیا ٹیموں کو فیلڈ رسائی بھی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ مہم کی کوریج کر سکیں۔
اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر آگاہی مہم بھی چلائی جائے گی تاکہ والدین کو ویکسینیشن کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے۔
پاکستان اور پولیو کا چیلنج
پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں اب بھی پولیو وائرس موجود ہے۔ حکومت اور صحت کے ادارے اس وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔
انسدادِ پولیو مہم نہ صرف ایک صحت عامہ کا اقدام ہے بلکہ یہ ملک کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی جدوجہد بھی ہے۔
ماہرین کے مطابق، اگر ہر بچے کو حفاظتی قطرے پلائے جائیں تو پاکستان سے پولیو کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔
عالمی تعاون اور سپورٹ
انسدادِ پولیو مہم کو کامیاب بنانے میں نہ صرف قومی ادارے بلکہ عالمی تنظیمیں بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) اور یونیسف جیسے ادارے اس مہم میں تکنیکی اور مالی معاونت فراہم کر رہے ہیں تاکہ پاکستان جلد از جلد پولیو سے پاک ہو سکے۔
یہ عالمی تعاون پاکستان کی اس جدوجہد کو مزید مضبوط بناتا ہے اور مہم کی کامیابی کے امکانات کو بڑھاتا ہے۔
ورکرز کی خدمات اور چیلنجز
پولیو ورکرز اس مہم کا سب سے اہم حصہ ہیں۔ یہ ورکرز نہایت مشکل حالات میں بھی گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین پلانے کا کام انجام دیتے ہیں۔
کئی علاقوں میں ان ورکرز کو سکیورٹی خدشات کا سامنا رہتا ہے۔
بعض مقامات پر عوامی مزاحمت اور غلط فہمیوں کی وجہ سے مہم کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس کے باوجود، یہ ورکرز ہر مہم میں اپنی جان خطرے میں ڈال کر بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے کام کرتے ہیں۔

انسدادِ پولیو مہم اور مستقبل کی حکمت عملی
حکومت پاکستان اور صحت کے ادارے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ انسدادِ پولیو کے لیے مستقل حکمت عملی اپنانا ضروری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انسدادِ پولیو مہم کو ہر سطح پر کامیاب بنانے کے لیے عوامی تعاون ناگزیر ہے۔
اسکولوں، مساجد اور کمیونٹی لیڈرز کو بھی اس مہم میں شامل کیا جا رہا ہے تاکہ آگاہی زیادہ سے زیادہ پھیل سکے۔
پاکستان میں پولیو وائرس کیسز میں اضافہ – خیبر پختونخوا سے مزید 2 بچے متاثر
یکم ستمبر سے شروع ہونے والی انسدادِ پولیو مہم نہ صرف ایک صحت عامہ کا اقدام ہے بلکہ یہ پاکستان کے روشن اور صحت مند مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔ اس مہم کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ:
والدین اپنے بچوں کو لازمی ویکسین پلائیں۔
کمیونٹی ورکرز کو مکمل تعاون فراہم کیا جائے۔
حکومت اور عوام مل کر اس قومی مقصد کو کامیاب بنائیں۔
پاکستان کو پولیو سے مکمل طور پر پاک کرنے کا خواب اسی وقت پورا ہو سکتا ہے جب ہر فرد اس مہم میں اپنا کردار ادا کرے۔ یہ نہ صرف ایک مہم ہے بلکہ ایک عزم ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ایک صحت مند اور محفوظ مستقبل فراہم کریں گے۔
