ماہرین صحت کی وضاحت: کیلشیئم کا بہترین ذریعہ کون سا ہے؟

کیلشیئم کا بہترین ذریعہ – دودھ، سبزیاں اور متبادل غذائیں
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

کیا صرف ڈیری مصنوعات ہی کیلشیئم کا بہترین ذریعہ ہیں؟ مکمل رہنمائی

جب بھی ہم ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی یا جسمانی صحت کی بات کرتے ہیں تو سب سے پہلے ذہن میں کیلشیئم آتا ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ دودھ، دہی اور پنیر ہی کیلشیئم کا بہترین ذریعہ ہیں، کیونکہ ان میں موجود کیلشیئم جسم میں آسانی سے جذب ہو جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف ڈیری مصنوعات ہی کیلشیئم کا بہترین ذریعہ ہیں یا اس کے علاوہ بھی متبادل ذرائع موجود ہیں؟

ڈیری مصنوعات اور کیلشیئم

ڈیری مصنوعات جیسے دودھ، دہی، پنیر وغیرہ کو دنیا بھر میں کیلشیئم کے بنیادی ذرائع کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔

ایک گلاس دودھ (250 ملی لیٹر) میں 250–300 ملی گرام کیلشیئم موجود ہوتا ہے۔

دہی کا ایک پیالہ بھی تقریباً اتنا ہی کیلشیئم فراہم کرتا ہے۔

پنیر میں کیلشیئم کی مقدار اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے، جو ہڈیوں کے لیے بے حد فائدہ مند ہے۔

اسی لیے ماہرین انہیں کیلشیئم کا بہترین ذریعہ قرار دیتے ہیں، کیونکہ ان سے حاصل ہونے والا کیلشیئم جسم میں 30–35٪ تک آسانی سے جذب ہو جاتا ہے۔

کیا ڈیری مصنوعات کے بغیر بھی کیلشیئم حاصل ہو سکتا ہے؟

جی ہاں، بالکل! یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دودھ یا دہی کھائے بغیر بھی ہم اپنی روزانہ کی کیلشیئم کی ضرورت پوری کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر وہ لوگ جو لیکٹوز اِنٹالرینٹ ہیں یا ڈیری مصنوعات استعمال نہیں کرنا چاہتے، ان کے لیے بھی کئی قدرتی ذرائع موجود ہیں جو کیلشیئم کا بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

سبز پتوں والی سبزیاں

کئی سبزیاں کیلشیئم سے بھرپور ہیں:

بروکلی

کیل (Kale)

بند گوبھی

شلجم کے پتے

ان سبزیوں میں موجود کیلشیئم زیادہ مقدار میں جذب ہوتا ہے۔ اس طرح یہ سبزیاں ڈیری کے بغیر بھی کیلشیئم کا بہترین ذریعہ ثابت ہوتی ہیں۔

البتہ پالک میں آکسیلیٹ (Oxalates) موجود ہوتے ہیں جو کیلشیئم کے جذب کو کم کر دیتے ہیں، اس لیے پالک کو مکمل طور پر بہترین ذریعہ نہیں کہا جا سکتا۔

دالیں اور لوبیا

دالیں، چنے اور لوبیا نہ صرف پروٹین بلکہ کیلشیئم سے بھی بھرپور ہوتے ہیں۔

سفید لوبیا

چنے

مونگ کی دال

یہ تمام غذائیں ان افراد کے لیے شاندار ہیں جو ڈیری استعمال نہیں کرتے لیکن پھر بھی کیلشیئم کا بہترین ذریعہ تلاش کر رہے ہیں۔

بادام، تل اور انجیر

خشک میوہ جات اور بیج بھی کیلشیئم سے بھرپور ہیں:

100 گرام بادام میں تقریباً 260 ملی گرام کیلشیئم ہوتا ہے۔

تل کے بیج (Sesame seeds) بھی کیلشیئم کے خزانے ہیں۔

خشک انجیر نہ صرف کیلشیئم بلکہ فائبر اور آئرن کا بھی اہم ذریعہ ہے۔

انہیں اپنی غذا کا حصہ بنا کر ڈیری مصنوعات کے بغیر بھی کیلشیئم کا بہترین ذریعہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

مچھلی اور سمندری غذائیں

چھوٹی ہڈیوں والی مچھلیاں جیسے سارڈین (Sardines) اور سالمن (Salmon) بھی کیلشیئم سے بھرپور ہیں۔ چونکہ ان مچھلیوں کو ہڈیوں سمیت کھایا جاتا ہے، اس لیے یہ جسم کو کیلشیئم فراہم کرتی ہیں اور کیلشیئم کا بہترین ذریعہ بن جاتی ہیں۔

فورٹیفائیڈ اشیا

آج کل مارکیٹ میں کئی فورٹیفائیڈ غذائیں دستیاب ہیں، جن میں کیلشیئم شامل کیا جاتا ہے۔ جیسے:

سویا ملک

بادام ملک

فورٹیفائیڈ جوس

یہ وہ افراد استعمال کر سکتے ہیں جو ڈیری کو پسند نہیں کرتے لیکن پھر بھی اپنی روزانہ کی ضرورت پوری کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح یہ بھی کیلشیئم کا بہترین ذریعہ ہیں۔

کیلشیئم کے جذب کے لیے دیگر غذائی اجزا

کیلشیئم کے ساتھ ساتھ وٹامن ڈی اور میگنیشیم بھی لازمی ہیں۔ اگر وٹامن ڈی نہ ہو تو چاہے آپ زیادہ کیلشیئم کھائیں، جسم اسے صحیح طرح جذب نہیں کرے گا۔ اسی طرح میگنیشیم بھی ہڈیوں کی صحت کے لیے اہم ہے۔

ماہرین کی رائے

ماہرین صحت کے مطابق ڈیری مصنوعات واقعی میں کیلشیئم کا بہترین ذریعہ ہیں، لیکن صرف انہی پر انحصار ضروری نہیں۔ سبزیاں، دالیں، مچھلیاں اور خشک میوہ جات بھی کیلشیئم فراہم کرتے ہیں۔ متوازن غذا میں مختلف ذرائع شامل کر کے آپ ہڈیوں اور دانتوں کو زیادہ مضبوط بنا سکتے ہیں۔

انرجی ڈرنک گھر میں بنانے کا آسان اور صحت مند نسخہ

سوال یہ تھا کہ کیا صرف ڈیری مصنوعات ہی کیلشیئم کا بہترین ذریعہ ہیں؟ تو جواب ہے نہیں۔ اگرچہ دودھ، دہی اور پنیر کو ہمیشہ سے بنیادی ذریعہ سمجھا جاتا ہے، لیکن ان کے علاوہ بھی بے شمار قدرتی ذرائع موجود ہیں جو جسم کو اتنا ہی فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔

لہٰذا اگر کوئی شخص ڈیری استعمال نہیں کرنا چاہتا تو اسے فکر کی ضرورت نہیں، کیونکہ سبزیاں، دالیں، مچھلیاں، بادام اور فورٹیفائیڈ غذائیں بھی اتنی ہی مؤثر ہیں۔

قدرتی اجزاء سے تیار انرجی ڈرنک گھر میں
انرجی ڈرنک گھر میں تیار کیا گیا جو کیمیکلز سے پاک ہے

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]