کراچی ڈینگی اور ملیریا اسپرے بحران: 3 کروڑ آبادی کے لیے صرف 18 ملازمین، کروڑوں کا بجٹ غیر فعال

کراچی میں ڈینگی اور ملیریا اسپرے کرنے والا عملہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

کراچی میں ڈینگی اور ملیریا اسپرے بحران: 3 کروڑ آبادی کے لیے صرف 18 ملازمین

کراچی میں ڈینگی اور ملیریا کے خلاف مہم ناکام: 3 کروڑ آبادی پر صرف 18 ملازمین، وہ بھی تنخواہوں سے محروم

کراچی، جو پاکستان کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے، آج کل نہ صرف بدانتظامی، پانی کی قلت، اور ٹریفک کے مسائل کا شکار ہے، بلکہ ایک اور سنگین مسئلے نے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے— ڈینگی اور ملیریا کی تیزی سے پھیلتی ہوئی وبا، جس سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات نہایت ناکافی اور غیر سنجیدہ نظر آتے ہیں۔

محض 18 ملازمین، وہ بھی تنخواہوں سے محروم

رپورٹس کے مطابق، کراچی جیسے 3 کروڑ سے زائد آبادی والے شہر میں ملیریا اور ڈینگی اسپرے کرنے کے لیے صرف 18 ملازمین تعینات ہیں۔ اس سے زیادہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ یہ تمام ملازمین گزشتہ 8 ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔ ان میں سے اکثر ملازمین گزشتہ 8 سال سے کنٹریکٹ پر کام کر رہے ہیں، جنہیں مستقل نہ کیا گیا اور نہ ہی بروقت تنخواہیں دی جاتی ہیں۔

ان ملازمین کا کہنا ہے کہ انہیں سال میں محض ایک بار تنخواہ دی جاتی ہے، اور وہ بھی اس وقت جب کوئی احتجاج یا میڈیا پر خبر چلتی ہے۔

ڈینگی پروگرام کی 100 سے زائد اسامیاں خالی

ویکٹربون ڈیزیز کنٹرول پروگرام کے تحت چلنے والے اس ڈینگی کنٹرول سسٹم میں 100 سے زائد اسامیاں خالی پڑی ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومتی ادارے عوامی صحت سے جڑے ان اہم مسائل کو سنجیدگی سے لینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔

مزید یہ کہ 3 سال قبل اس پروگرام کا ہیڈ آفس کراچی سے حیدرآباد منتقل کر دیا گیا، جس کے بعد کراچی میں اسپرے مہم تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

ہر ضلع میں صرف 2 سے 3 اہلکار تعینات

شہر کے 7 اضلاع میں ان 18 ملازمین کو تعینات کیا گیا ہے۔ یعنی کہ ایک ضلع میں صرف 2 سے 3 افراد موجود ہیں جو کہ نہ صرف ناکافی ہیں بلکہ عملاً اسپرے مہم کے قابل بھی نہیں۔ یہ عملہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس کے ماتحت بھی نہیں، جس کی وجہ سے ان کی کارکردگی پر نگرانی کا کوئی موثر نظام موجود نہیں۔

اسپرے مہم سیاسی اثر و رسوخ کے تابع

متاثرہ ملازمین نے انکشاف کیا ہے کہ اگرچہ شہر بھر میں گزشتہ کئی سالوں سے کوئی باقاعدہ اسپرے مہم نہیں چلائی گئی، تاہم بااثر اور سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے افسران کے گھروں میں باقاعدگی سے اسپرے کیا جاتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف ناانصافی بلکہ عوام کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔

مچھر مار ادویات کا بجٹ موجود، لیکن اسپرے نہیں ہو رہا

دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق، مالی سال 2024-25 کے لیے ڈینگی کنٹرول پروگرام کا بجٹ 2.5 ملین روپے سے بڑھا کر 67.349 ملین روپے کر دیا گیا۔ اس میں:

اسپرے کی مد میں 16.66 ملین روپے

ادویات کی خریداری کے لیے 14.5 ملین روپے

مختص کیے گئے ہیں۔ مگر اس کے باوجود کراچی میں نہ کوئی مؤثر اسپرے مہم شروع کی گئی ہے اور نہ ہی ادویات کا صحیح استعمال ہو رہا ہے۔

مون سون کے بعد وباؤں کا خطرہ، مگر حکام غفلت میں

ماہرین صحت اور متاثرہ ملازمین کا کہنا ہے کہ مون سون کے بعد ستمبر سے دسمبر تک ڈینگی اور ملیریا کے کیسز میں زبردست اضافہ ہوتا ہے۔ ان مہینوں میں مچھروں کی افزائش زیادہ ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں ہر سال سینکڑوں قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ مگر بدقسمتی سے، اس موسم سے پہلے کسی قسم کی پیشگی کارروائی نہیں کی جاتی۔

سیاسی مفادات کا شکار عوامی صحت

اس پورے نظام کی بگڑی ہوئی صورتحال کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ڈینگی اور ملیریا سے بچاؤ کے یہ پروگرام بھی سیاسی مفادات کی نذر ہو چکے ہیں۔ اس کے نتیجے میں:

بجٹ تو موجود ہوتا ہے، مگر اس کا صحیح استعمال نہیں کیا جاتا۔

ادویات یا تو خریدی ہی نہیں جاتیں یا پھر بروقت فراہم نہیں کی جاتیں۔

ملازمین نہ صرف نظرانداز کیے جاتے ہیں بلکہ انہیں بنیادی سہولیات تک فراہم نہیں کی جاتیں۔

اصل اعداد و شمار چھپائے جا رہے ہیں

متاثرہ ملازمین نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں ڈینگی اور ملیریا کے متاثرین کی اصل تعداد کو چھپایا جاتا ہے۔ حکام صرف وہی اعداد و شمار جاری کرتے ہیں جو کم ہوں، تاکہ عوامی ردعمل یا میڈیا کی توجہ سے بچا جا سکے۔ مگر اسپتالوں اور نجی کلینکس میں روزانہ درجنوں کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔

مالی کرپشن یا ناقص حکمرانی؟

جب بجٹ موجود ہو، ملازمین تعینات ہوں، اور موسم بھی خبردار کرے کہ ڈینگی و ملیریا کا خطرہ بڑھ رہا ہے، تو پھر بھی مہم کیوں نہیں چلتی؟ اس سوال کا جواب صرف دو امکانات میں آتا ہے:

مالی بدعنوانی (کرپشن): بجٹ جاری تو ہوتا ہے مگر نیچے تک پہنچنے سے پہلے غائب ہو جاتا ہے۔

ناقص حکمرانی: ادارہ جاتی کمزوری، ناقص پالیسی، اور ترجیحات کا فقدان۔

دونوں صورتوں میں نقصان صرف اور صرف عوام کا ہے، جنہیں اپنی جان کے تحفظ کے لیے خود اقدامات کرنا پڑتے ہیں۔

شہری حکومت، صوبائی حکومت، یا وفاق؟

یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ اس صورتحال کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ اگرچہ صحت صوبائی معاملہ ہے، مگر کراچی جیسے شہر میں بلدیاتی سطح پر بھی کئی ادارے کام کر رہے ہیں، جیسے کہ:

بلدیہ عظمیٰ کراچی (KMC)

سندھ حکومت کا محکمہ صحت

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفسز

مگر بدقسمتی سے یہ تمام ادارے ہم آہنگی اور مؤثر رابطے سے محروم ہیں، جس کی وجہ سے کوئی بھی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں۔

مچھر آزاد، عوام بے حال، حکومت خاموش

کراچی میں ملیریا اور ڈینگی کی صورتحال ایک صحت عامہ کا بحران بن چکی ہے۔ جب ایک شہر میں جہاں تین کروڑ سے زائد لوگ رہتے ہوں، وہاں صرف 18 افراد اسپرے کرنے کے لیے ہوں، وہ بھی 8 ماہ سے تنخواہوں سے محروم، تو یہ کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے شرمندگی کی بات ہے۔

اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے مہینوں میں ڈینگی اور ملیریا کی وجہ سے نہ صرف اسپتال بھر جائیں گے بلکہ سینکڑوں مزید قیمتی جانیں ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔

یہ وقت ہے کہ:

حکومت سندھ فوری طور پر اسپرے مہم کا آغاز کرے۔

متاثرہ ملازمین کو مستقل کیا جائے اور ان کی تنخواہیں فوری جاری کی جائیں۔

خالی اسامیوں پر میرٹ پر بھرتیاں کی جائیں۔

ڈینگی و ملیریا سے متعلق اصل اعداد و شمار شفاف انداز میں عوام کے سامنے لائے جائیں۔

مچھر مار ادویات کی خریداری اور استعمال کے نظام میں شفافیت یقینی بنائی جائے۔

عوام کا حق ہے کہ انہیں صاف ماحول، مؤثر صحت عامہ کی سہولیات، اور ایک محفوظ زندگی فراہم کی جائے۔ بصورت دیگر، یہ بحران کسی بڑی وبا کی صورت اختیار کر سکتا ہے — جس کا خمیازہ پورا ملک بھگتے گا۔

اسلام آباد ڈینگی کیسز میں اضافہ اور اسپتالوں کی صورتحال
اسلام آباد ڈینگی کیسز — مریضوں کی بڑھتی تعداد
اسلام آباد ڈینگی کیسز میں اضافہ، اسپتالوں میں مریضوں کا علاج جاری
اسلام آباد میں ڈینگی کیسز بڑھنے کے بعد اسپتالوں میں مریضوں کا علاج جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]