آٹے کی قیمتوں میں اضافہ، عوام پر مہنگائی کا نیا وار

آٹے کی قیمتوں میں اضافہ سے متاثر عوام
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

آٹے کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ، ایک ہفتے میں 590 روپے تک مہنگا

ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اور تشویشناک اضافے نے عام شہریوں کی زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ آٹا جو کہ ہر گھر کی بنیادی ضرورت اور روزمرہ خوراک کا لازمی جزو ہے، اس کی قیمتوں میں تیزی سے ہونے والا اضافہ نہ صرف غریب اور متوسط طبقے کے لیے مشکلات کا سبب بن رہا ہے بلکہ مجموعی طور پر مہنگائی کی ایک نئی لہر کو بھی جنم دے رہا ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کی تازہ ترین سرکاری دستاویزات کے مطابق صرف ایک ہفتے کے دوران آٹے کے 20 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت میں مختلف شہروں میں 40 روپے سے لے کر 590 روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صورتحال کس قدر سنگین رخ اختیار کر چکی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں آٹے کے 20 کلو کے تھیلے کی قیمت ملک بھر میں سب سے زیادہ ہو کر 2 ہزار 893 روپے 33 پیسے تک جا پہنچی ہے۔ یہ قیمت عام شہریوں کی قوتِ خرید سے کہیں زیادہ سمجھی جا رہی ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو یومیہ اجرت یا محدود آمدن پر گزارا کرتے ہیں۔ اسلام آباد کے بعد راولپنڈی میں بھی آٹے کی قیمت 2 ہزار 866 روپے 47 پیسے تک پہنچ چکی ہے، جو جڑواں شہروں میں رہنے والے عوام کے لیے ایک بڑا مالی بوجھ بن چکی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ایک ہفتے کے دوران آٹے کی قیمت میں سب سے زیادہ اضافہ سرگودھا میں ریکارڈ کیا گیا، جہاں 20 کلو کے تھیلے کی قیمت میں 590 روپے کا غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اسی طرح ملتان میں 226 روپے 66 پیسے، خضدار میں 200 روپے، بہاولپور میں 163 روپے 33 پیسے اور کوئٹہ میں 140 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ نہ صرف شہری علاقوں بلکہ نسبتاً پسماندہ علاقوں میں بھی مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو ظاہر کرتا ہے۔

کراچی، پشاور، سکھر اور لاڑکانہ جیسے بڑے شہروں میں بھی آٹے کی قیمت میں 100 روپے تک اضافہ سامنے آیا ہے، جبکہ حیدرآباد اور سیالکوٹ میں 80 روپے، بنوں میں 50 روپے اور لاہور میں 40 روپے تک قیمت بڑھی ہے۔ اگرچہ بعض شہروں میں اضافہ نسبتاً کم ہے، تاہم مجموعی طور پر یہ صورتحال اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ آٹے کی قیمتیں پورے ملک میں ایک ہی سمت میں بڑھ رہی ہیں، جس سے کسی بھی طبقے کو ریلیف حاصل نہیں ہو پا رہا۔

وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق تازہ قیمتوں کے تحت پشاور میں آٹے کے 20 کلو کے تھیلے کی قیمت 2 ہزار 850 روپے، بنوں میں 2 ہزار 800 روپے، کوئٹہ میں 2 ہزار 660 روپے جبکہ کراچی میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2 ہزار 600 روپے تک جا پہنچا ہے۔ کراچی جیسے صنعتی اور تجارتی شہر میں بھی آٹے کی اس قدر بلند قیمت نے شہریوں کو پریشان کر رکھا ہے، جہاں پہلے ہی بجلی، گیس اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں عوام کی کمر توڑ چکی ہیں۔

ماہرین کے مطابق آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں، جن میں گندم کی کم پیداوار، ذخیرہ اندوزی، ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور حکومتی سطح پر مؤثر نگرانی کا فقدان شامل ہے۔ اس کے علاوہ صوبوں کے درمیان گندم اور آٹے کی ترسیل میں رکاوٹیں اور پالیسیوں کا عدم تسلسل بھی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔

عوامی سطح پر اس صورتحال پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کی آمدن میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ مہنگائی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ ایک مزدور طبقے سے تعلق رکھنے والے شہری کا کہنا تھا کہ “ہماری روز کی کمائی اتنی نہیں کہ ہم مہنگا آٹا خرید سکیں، اگر یہی حال رہا تو بچوں کو دو وقت کی روٹی کھلانا بھی مشکل ہو جائے گا۔”

سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ آٹے جیسی بنیادی خوراک کی قیمتوں میں اضافہ غذائی عدم تحفظ کو جنم دے سکتا ہے، جس کے اثرات طویل المدت ہوں گے۔ کم آمدن والے خاندان خوراک کی مقدار یا معیار کم کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جس سے صحت کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر بچوں اور بزرگوں میں۔

عوام کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔ ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی، گندم کی منصفانہ تقسیم، اور سبسڈی کے نظام کو شفاف بنانے جیسے اقدامات اس مسئلے کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قیمتوں کی نگرانی کے نظام کو مؤثر بنانا بھی ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ عام شہری کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ آٹے کی قیمتوں میں تیز رفتار اضافہ صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی چیلنج بن چکا ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔ مہنگائی کے ستائے عوام اب حکومتی اعلانات نہیں بلکہ عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ ان کی روزمرہ زندگی میں کچھ آسانی پیدا ہو سکے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]