پاکستان اسٹاک ایکسچینج مندی، ہنڈریڈ انڈیکس ایک لاکھ 84 ہزار کی حد برقرار نہ رکھ سکا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے پہلے دن مندی کا رجحان غالب رہا، جس نے سرمایہ کاروں کو ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا۔ ہفتے کے آغاز پر مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ واضح طور پر دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک ہنڈریڈ انڈیکس ایک اہم نفسیاتی حد کھو بیٹھا۔ کاروبار کے دوران 1000 سے زائد پوائنٹس کی نمایاں کمی کے بعد کے ایس ای 100 انڈیکس 1 لاکھ 84 ہزار پوائنٹس کی سطح برقرار نہ رکھ سکا اور گھٹ کر 183,485 پوائنٹس پر آ گیا۔
مارکیٹ کے ابتدائی اوقات میں ہی سرمایہ کاروں کی جانب سے محتاط رویہ اختیار کیا گیا، جب کہ کئی شعبوں میں منافع سمیٹنے (Profit Taking) کا رجحان غالب رہا۔ خاص طور پر بینکنگ، سیمنٹ، توانائی اور آئل اینڈ گیس کے شعبوں میں فروخت کے دباؤ نے مجموعی انڈیکس کو منفی سمت میں دھکیل دیا۔ ماہرین کے مطابق حالیہ دنوں میں مارکیٹ میں تیزی کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع حاصل کرنے کا عمل فطری تھا، تاہم اندرونی و بیرونی معاشی خدشات نے اس دباؤ کو مزید بڑھا دیا۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال، مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی شرح سود سے متعلق خدشات نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ اس کے علاوہ مقامی سطح پر مالی سال کے اہداف، ٹیکس اصلاحات، آئی ایم ایف پروگرام کے مستقبل اور مہنگائی کے دباؤ جیسے عوامل بھی مارکیٹ کے مزاج پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
کاروباری حلقوں کا ماننا ہے کہ اگرچہ حالیہ دنوں میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے تاریخی سطحیں عبور کیں، مگر تیزی کے اس تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے مضبوط معاشی اشاریوں اور پالیسیوں میں تسلسل ناگزیر ہے۔ سرمایہ کار اس وقت حکومت کی معاشی پالیسیوں، بجٹ سے متعلق اعلانات اور اسٹیٹ بینک کی آئندہ مانیٹری پالیسی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ادھر زرمبادلہ کی مارکیٹ میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر میں 2 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد ڈالر 280.02 روپے سے کم ہو کر 280 روپے کی سطح پر آ گیا۔ اگرچہ یہ کمی بظاہر معمولی ہے، تاہم ماہرین اسے روپے کے استحکام کی ایک علامت قرار دے رہے ہیں، جو حالیہ مہینوں میں سخت مانیٹری پالیسی اور درآمدات پر کنٹرول کے نتیجے میں ممکن ہوا ہے۔
دوسری جانب ہفتے کے اختتام پر اوپن مارکیٹ میں بھی امریکی ڈالر کی قدر میں 5 پیسے کی کمی دیکھی گئی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرنسی مارکیٹ میں طلب و رسد نسبتاً متوازن ہو رہی ہے۔ زر مبادلہ کے ماہرین کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں بہتری، درآمدی بل میں کمی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پانے کے اقدامات نے روپے کو سہارا دیا ہے۔
تاہم ماہرین اس بات پر بھی متفق ہیں کہ روپے کی قدر میں پائیدار استحکام کے لیے برآمدات میں اضافہ، صنعتی سرگرمیوں کا فروغ اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا تسلسل انتہائی ضروری ہے۔ اگرچہ حالیہ دنوں میں اسٹاک مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی محدود دلچسپی دیکھی گئی ہے، لیکن مجموعی طور پر وہ اب بھی محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔
اسٹاک بروکرز کا کہنا ہے کہ مارکیٹ اس وقت ایک “کنسولیڈیشن فیز” میں داخل ہو چکی ہے، جہاں اتار چڑھاؤ معمول کا حصہ ہوگا۔ ان کے مطابق قلیل مدت میں مندی کے رجحانات دیکھنے کو مل سکتے ہیں، تاہم طویل مدت کے سرمایہ کاروں کے لیے بنیادی طور پر مضبوط کمپنیوں میں سرمایہ کاری کے مواقع اب بھی موجود ہیں۔
عوامی سطح پر بھی اسٹاک مارکیٹ کی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، کیونکہ اس کا براہ راست تعلق ملکی معیشت، کاروباری اعتماد اور سرمایہ کاری کے ماحول سے ہوتا ہے۔ مارکیٹ میں مندی نہ صرف سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کرتی ہے بلکہ صنعتی سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع پر بھی بالواسطہ اثر ڈالتی ہے۔
ماہرین نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ افواہوں اور قلیل مدتی اتار چڑھاؤ کی بنیاد پر فیصلے کرنے کے بجائے کمپنیوں کی مالی کارکردگی، معاشی اشاریوں اور حکومتی پالیسیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دانشمندانہ سرمایہ کاری کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں کامیابی کے لیے صبر، تحقیق اور طویل مدتی حکمت عملی بنیادی عناصر ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے پہلے دن کی مندی ایک وقتی دباؤ کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے، تاہم آئندہ دنوں میں مارکیٹ کا رخ ملکی معاشی فیصلوں، عالمی حالات اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منحصر ہوگا۔ اگر حکومت معاشی اصلاحات کے عمل کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھاتی ہے اور عالمی حالات میں بہتری آتی ہے تو مارکیٹ ایک بار پھر مثبت سمت اختیار کر سکتی ہے۔


One Response