اڈیالہ جیل ذرائع: عمران خان محفوظ، صحت مند اور جیل مینوئیل کے مطابق سہولیات سے مستفید
اڈیالہ جیل سے موصول اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعظم اور بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی صحت بہتر ہے اور وہ مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صحت اور سہولتوں کے حوالے سے افواہوں کی کوئی حقیقت نہیں، وہ نہ صرف معمول کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں بلکہ جیل قوانین کے مطابق تمام حقوق اور مراعات سے بھی مستفید ہو رہے ہیں۔
بانی پی ٹی آئی کی صحت تسلی بخش
جیل انتظامیہ کے مطابق عمران خان مکمل طور پر صحت مند ہیں اور انہیں کسی قسم کی جسمانی کمزوری یا طبی مسئلے کا سامنا نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی صحت کے حوالے سے سوشل میڈیا یا مختلف حلقوں میں گردش کرنے والی اطلاعات درست نہیں ہیں۔
جیل ذرائع نے واضح کیا کہ عمران خان کی صحت کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جاتا ہے اور وہ خود بھی اپنی روزمرہ معمولات میں متوازن طرزِ زندگی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
ہفتہ وار ملاقاتیں اور فیملی رسائی
ذرائع کے مطابق بانی چیئرمین پی ٹی آئی سے ہفتے میں ایک بار ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ملاقات کرائی جاتی ہے، جو مکمل طور پر جیل مینوئیل کے مطابق ہوتی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کسی قسم کی پابندی یا رکاوٹ نہیں ڈالی جاتی اور خاندانی ملاقاتوں کا سلسلہ مقررہ طریقہ کار کے مطابق جاری رہتا ہے۔
اس کے علاوہ جیل میں داخل ہونے والے ہر اس شخص کو جو ملاقات کے معیار پر پورا اترتا ہو، عمران خان سے ملاقات کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ جیل انتظامیہ کے مطابق:
"اڈیالہ جیل کی حدود میں آنے والے ہر فرد کی ملاقات کرائی جاتی ہے، حدود سے باہر کے معاملات ہماری ذمہ داری نہیں۔”
ایک بیرک کے 6 کمرے عمران خان کے زیر استعمال
اڈیالہ جیل ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ عمران خان کو جیل میں ایک علیحدہ بیرک دی گئی ہے جس میں 6 کمرے ان کے استعمال میں ہیں۔ یہ کمرے سیکیورٹی، رہائش، ملاقات اور آرام کے لیے مختص ہیں۔ جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ سہولتیں جیل مینوئیل کے تحت کسی بھی سابق وزیراعظم کو فراہم کی جا سکتی ہیں۔
ٹی وی اور اخبار کی سہولت بھی دستیاب
جیل ذرائع کے مطابق عمران خان کو بیرک میں:
- ٹی وی
- اخبارات
- اور روزمرہ معلومات تک رسائی
کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام اطلاعات تک رسائی جیل قوانین کے مطابق دی گئی ہے تاکہ وہ ملکی حالات سے باخبر رہ سکیں۔
باہر سے دیسی مرغی اور مچھلی بھی منگوائی جاتی ہے
جیل انتظامیہ کے مطابق عمران خان کو ہفتے میں ایک بار باہر سے کھانا منگوانے کی اجازت ہے۔ ذرائع کے مطابق وہ زیادہ تر دیسی مرغی اور مچھلی منگواتے ہیں، جو مقررہ دن جیل کے گیٹ پر وصول کرکے انہیں فراہم کی جاتی ہے۔ یہ سہولت جیل قوانین کے مطابق کسی بھی ایسے قیدی کو دی جا سکتی ہے جس کے لیے یہ سہولت اجازت یافتہ ہو۔
ملاقاتوں کا مکمل نظام جیل مینوئیل کے مطابق
جیل ذرائع نے واضح کیا کہ عمران خان سے ملاقاتوں کا سلسلہ مکمل طور پر جیل مینوئیل، سیکیورٹی قوانین اور سرکاری پروٹوکول کے مطابق ہوتا ہے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ جیل حدود میں داخل ہونے والا ہر شخص جو قانونی طور پر اہل ہو، اس کی ملاقات عمران خان سے کرائی جاتی ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے:
"جیل سے باہر کیا ہوتا ہے، کون ملنا چاہتا ہے یا کنہیں اجازت نہیں دی جاتی—یہ ہماری ذمہ داری نہیں۔ ہم صرف انہی افراد کو ملاقات کی اجازت دیتے ہیں جو جیل قواعد کے مطابق اہل ہوں اور جیل میں داخل ہوں۔”
افواہوں کی تردید
جیل ذرائع نے ان خبروں کی بھی تردید کی جو عمران خان کی سیکیورٹی، صحت یا ممکنہ پابندیوں سے متعلق مختلف حلقوں میں گردش کر رہی تھیں۔ ان کے مطابق:
- عمران خان مکمل طور پر محفوظ ہیں
- مناسب سکیورٹی فراہم کی گئی ہے
- صحت کا باقاعدہ طبی جائزہ لیا جاتا ہے
- انہیں تمام قانونی سہولتیں دی جا رہی ہیں
اڈیالہ جیل میں عمران خان سے متعلق ذرائع کا مؤقف واضح ہے: وہ صحت مند، محفوظ اور جیل قواعد کے مطابق مکمل سہولتوں سے مستفید ہو رہے ہیں۔ ملاقاتوں، خوراک اور روزمرہ معمولات میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ جیل انتظامیہ نے ایک بار پھر مؤکد کیا ہے کہ تمام سہولتیں سرکاری قوانین کے مطابق ہیں اور کسی قسم کی رعایت یا غیر معمولی پروٹوکول فراہم نہیں کیا جا رہا۔


One Response