مقامی کار ساز کمپنیوں کی طرف سے آٹو پارٹس کی درآمدات میں تیزی، مارکیٹ میں سرگرمی بڑھی
ملک کی آٹو موٹیو صنعت میں ایک غیر معمولی تیزی کا رجحان سامنے آیا ہے، جہاں گاڑیوں کے اسمبلی کٹس اور آٹو پارٹس کی درآمدات میں پچھلے سال کے مقابلے میں کئی گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے باعث مقامی آٹو مارکیٹ میں سرگرمی بڑھی ہے، جو معیشت کے لیے ایک مثبت علامت ہے۔
اسمبلی کٹس کی درآمدات میں ریکارڈ اضافہ
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، مقامی کار ساز کمپنیوں کی طرف سے گاڑیوں کے اسمبلی کٹس (ایس کے ڈی/سی کے ڈی) کی درآمدات میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 123 فیصد کا حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے۔
- درآمدات کی مالیت: یہ درآمدات بڑھ کر چار ماہ کے دوران 62 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔
- وجہ: یہ تیزی کا رجحان ملک میں نئی اور استعمال شدہ گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی مانگ اور مقامی سطح پر ان کی تیاری کے لیے آٹو پارٹس کی درآمدات میں اضافے کی وجہ سے ہے۔
- صارفین کا رجحان: صارفین استعمال شدہ اور مقامی طور پر تیار شدہ دونوں گاڑیوں میں یکساں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔
مکمل تیار شدہ گاڑیوں کی درآمدات میں بھی اضافہ
گاڑیوں کے آٹو پارٹس کی درآمدات کے ساتھ ساتھ، مکمل تیار شدہ (CBU) نئی اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات میں بھی خاطر خواہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پی بی ایس کے اعداد و شمار کے مطابق:
- اضافے کا تناسب: سی بی یو گاڑیوں کی درآمدات میں 31 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
- مالیت: یہ درآمدات پچھلے سال کی اسی مدت میں 8 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر چار ماہ میں 11 کروڑ 30 لاکھ ڈالر ہو گئی ہیں۔
یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صارفین کے پاس مارکیٹ میں دستیاب گاڑیوں کے ماڈلز اور قیمتوں کے حوالے سے محدود انتخاب ہے، جس کی وجہ سے وہ استعمال شدہ یا درآمد شدہ گاڑیوں کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، آٹو پارٹس کی درآمدات میں تیزی کا مطلب ہے کہ مقامی صنعت ملک میں زیادہ گاڑیاں تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
آٹو پارٹس مینوفیکچررز کی شدید تشویش
ملک میں اسمبلی کٹس اور آٹو پارٹس کی درآمدات میں اضافہ ایک طرف، لیکن دوسری طرف پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز (پی اے اے پی اے ایم) نے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پی اے اے پی اے ایم نے پاکستان آٹو پارٹس شو (پی اے پی ایس) 2025 کے دوران ایک مہنگی میڈیا مہم چلائی، جس میں خبردار کیا گیا کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات کی وجہ سے مقامی صنعت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
- مالی اور معاشی نقصانات: ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری، 1 ہزار 200 فیکٹریاں اور 25 لاکھ ملازمتیں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات کی وجہ سے ختم ہو جائیں گی۔
- غیر قانونی ذرائع کا استعمال: ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد ایک طرح سے جرم ہے، کیونکہ حوالہ، ہنڈی اور چھپی ہوئی رقم آہستہ آہستہ پاکستان کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ آٹو پارٹس کی درآمدات کی سپورٹ سے چلنے والی مقامی صنعت کا تحفظ ضروری ہے۔
آئی ایم ایف کی شرائط گاڑیاں پر سخت اثرات: نئی پالیسی 2025 کی تفصیل
مقامی کار ساز کمپنیوں نے بھی اس بات کی تائید کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں کا مارکیٹ شیئر چند سال پہلے 10 فیصد سے بھی کم تھا، جو اب بڑھ کر 25 سے 30 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ ان کے نزدیک، آٹو پارٹس کی درآمدات کے ذریعے مقامی طور پر گاڑیاں بنانا ملکی معیشت کے لیے زیادہ مستحکم راستہ ہے۔
One Response