سمگل شدہ تیل اور غیر قانونی سپلائی چین کے خلاف بڑا فیصلہ، ATG سسٹم نافذ
ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی آئل سپلائی چین کے خلاف حکومت نے ایک بڑا اور فیصلہ کن قدم اٹھاتے ہوئے تمام پیٹرول پمپس پر آٹو میٹک ٹینک گیجنگ (ATG) سسٹم لازمی طور پر نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اقدام کو توانائی کے شعبے میں شفافیت، نگرانی اور ڈیجیٹل اصلاحات کی جانب ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس فیصلے کا بنیادی مقصد پیٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی نقل و حرکت، ذخیرہ اندوزی اور ٹیکس چوری جیسے سنگین مسائل کا مؤثر سدباب کرنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن نے ملک بھر میں موجود تمام پیٹرول پمپس پر آٹو میٹک ٹینک گیجنگ سسٹم کی تنصیب کو لازمی قرار دیتے ہوئے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ یہ نوٹیفکیشن پیٹرولیم ڈویژن کے ایکسپلوسوز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے، جس میں تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اندر اپنے تمام ریٹیل آؤٹ لیٹس پر یہ جدید نظام نصب کریں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق تمام پیٹرول پمپس کو 10 فروری تک آٹو میٹک ٹینک گیجنگ سسٹم کی تنصیب مکمل کرنا ہوگی، اور اس ضمن میں مزید کسی قسم کی توسیع یا رعایت نہیں دی جائے گی۔ حکام نے واضح کر دیا ہے کہ مقررہ تاریخ کے بعد جن پیٹرول پمپس پر اے ٹی جی سسٹم نصب نہیں ہوگا، انہیں اسٹوریج لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں ان پمپس کی قانونی حیثیت متاثر ہو سکتی ہے۔
آٹو میٹک ٹینک گیجنگ سسٹم ایک جدید اور خودکار ٹیکنالوجی ہے جس کے ذریعے پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی مقدار، ذخیرہ، ترسیل اور فروخت کا مکمل ریکارڈ ڈیجیٹل طریقے سے محفوظ کیا جاتا ہے۔ اس سسٹم کے تحت فیول ٹینکس میں موجود تیل کی سطح، درجہ حرارت، حجم اور استعمال کا ڈیٹا لمحہ بہ لمحہ ریکارڈ ہوتا ہے۔ ٹینک سے لے کر نوزل تک تمام معلومات ایک مرکزی نظام کے ذریعے منسلک ہوتی ہیں، جس سے کسی بھی قسم کی کمی بیشی، غیر قانونی نکاسی یا رد و بدل کو فوری طور پر پکڑا جا سکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اے ٹی جی سسٹم کے نفاذ سے پیٹرولیم مصنوعات کی پوری سپلائی چین ڈیجیٹل ہو جائے گی، جس سے نہ صرف حکومت بلکہ ریگولیٹری ادارے بھی حقیقی وقت میں ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے پیٹرول پمپس کی مؤثر نگرانی ممکن ہوگی اور غیر قانونی آئل سپلائی چین کے خلاف کارروائیاں مزید تیز اور مؤثر بنائی جا سکیں گی۔
ماہرین کے مطابق ملک میں سمگل شدہ تیل ایک طویل عرصے سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا رہا ہے۔ غیر قانونی تیل کی فروخت کے باعث حکومت کو اربوں روپے کے ٹیکس ریونیو سے محروم ہونا پڑتا ہے، جبکہ معیاری پیٹرولیم مصنوعات فراہم کرنے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو بھی شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آٹو میٹک ٹینک گیجنگ سسٹم اس مسئلے کے حل میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے ہر لیٹر تیل کا حساب رکھا جا سکے گا۔
اس کے علاوہ اے ٹی جی سسٹم صارفین کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔ ماضی میں پیٹرول پمپس پر فیول کی مقدار میں کمی، میٹر ٹیمپرنگ اور غیر معیاری ایندھن کی شکایات عام رہی ہیں۔ اس جدید نظام کے نفاذ سے صارفین کو یہ اعتماد حاصل ہوگا کہ انہیں مکمل مقدار میں معیاری ایندھن فراہم کیا جا رہا ہے، جس سے عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ حکومت کی اس وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد توانائی کے شعبے میں اصلاحات، شفافیت اور ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینا ہے۔ آٹو میٹک ٹینک گیجنگ سسٹم کے ذریعے نہ صرف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ممکن ہوگی بلکہ پالیسی سازی کے لیے درست اور مستند ڈیٹا بھی دستیاب ہوگا، جو مستقبل میں بہتر فیصلوں میں معاون ثابت ہوگا۔
پیٹرولیم ڈویژن کے اعلیٰ حکام کے مطابق اس نظام کی تنصیب کے بعد آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، ریٹیلرز اور حکومتی اداروں کے درمیان رابطہ مزید مضبوط ہوگا۔ ڈیجیٹل ڈیٹا کی بنیاد پر سپلائی، ڈیمانڈ اور اسٹاک مینجمنٹ کو بہتر بنایا جا سکے گا، جس سے فیول شارٹیج جیسے مسائل پر بھی قابو پانے میں مدد ملے گی۔
مجموعی طور پر آٹو میٹک ٹینک گیجنگ سسٹم کا نفاذ پیٹرولیم سیکٹر میں ایک انقلابی قدم سمجھا جا رہا ہے۔ اگر اس فیصلے پر مکمل اور مؤثر عملدرآمد کیا گیا تو یہ نہ صرف غیر قانونی آئل سپلائی چین کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ ملکی معیشت کو مضبوط بنانے، حکومتی ریونیو بڑھانے اور صارفین کے حقوق کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

