بلوچستان پانی منصوبہ کا پس منظر اور اہمیت
پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں پانی کی شدید قلت ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔ یہاں کی معیشت کا دو تہائی حصہ زراعت پر منحصر ہے، جہاں 60 فیصد سے زیادہ آبادی اس شعبے سے وابستہ ہے۔ لیکن موسمیاتی تبدیلیاں، بار بار آنے والے خشک سالی اور پانی کی ناکافی دستیابی کی وجہ سے زرعی پیداوار شدید متاثر ہو رہی ہے۔ اس صورتحال میں ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی جانب سے بلوچستان پانی منصوبہ کیلئے 48 ملین ڈالر کی اضافی فنانسنگ کی منظوری ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ فنڈز بلوچستان واٹر ریسورسز ڈویلپمنٹ سیکٹر پروجیکٹ (بی ڈبلیو آر ڈی ایس پی) کو مکمل کرنے میں استعمال ہوں گے، جو صوبے کی پانی کی سپلائی کو جدید بنانے اور ضیاع کو کم کرنے پر مرکوز ہے۔
بلوچستان پانی منصوبہ کا آغاز 2010 کی دہائی کے آخر میں ہوا تھا، جب اے ڈی بی نے ابتدائی طور پر اس پروجیکٹ کیلئے فنڈز فراہم کیے۔ اب یہ اضافی فنانسنگ ان اجزاء کو مکمل کرے گی جو بجٹ کی کمی کی وجہ سے تاخیر کا شکار تھے۔ اس پروجیکٹ کا بنیادی مقصد ژوب اور مولا دریا کے بیسن میں پانی کے وسائل کو موثر طریقے سے منظم کرنا ہے۔ یہ نہ صرف زرعی پیداوار کو بڑھائے گا بلکہ مقامی معیشت کو بھی استحکام دے گا۔
پانی کی قلت کی وجوہات اور بلوچستان پر اثرات
بلوچستان میں پانی کی قلت کی بنیادی وجوہات میں زیر زمین پانی کی زیادہ کھدائی، ٹیوب ویلز کا بے دریغ استعمال، خشک سالی اور موسمیاتی تبدیلیاں شامل ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق، صوبے میں 93 فیصد پانی زراعت کیلئے استعمال ہوتا ہے، لیکن ناکافی آبپاشی نظام کی وجہ سے 50 فیصد سے زیادہ پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف فصلوں کی پیداوار کم ہوتی ہے بلکہ غذائی عدم تحفظ بھی بڑھتا ہے۔ مثال کے طور پر، کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں پانی کی سطح مسلسل گر رہی ہے، جس سے زرعی شعبہ شدید دباؤ کا شکار ہے۔
معاشی طور پر، پانی کی کمی کی وجہ سے بلوچستان میں غربت کی شرح قومی اوسط سے تقریباً دوگنی ہے۔ زراعت جو صوبے کی جی ڈی پی کا دو تہائی حصہ ہے، اسے شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ کسانوں کو فصلوں کی کم پیداوار کی وجہ سے آمدنی میں کمی کا سامنا ہے، جو بالآخر نقل مکانی اور شہری علاقوں میں دباؤ کا باعث بنتی ہے۔ موسمیاتی اثرات جیسے شدید بارشیں اور سیلاب بھی پانی کے وسائل کو مزید خراب کر رہے ہیں۔ بلوچستان پانی منصوبہ اسی تناظر میں ایک امید کی کرن ہے، جو پائیدار پانی کے انتظام کو فروغ دے کر ان مسائل سے نمٹنے میں مدد دے گا۔
فنانسنگ کی تفصیلات اور پروجیکٹ کے اجزاء
ایشیائی ترقیاتی بینک نے بلوچستان پانی منصوبہ کیلئے 48 ملین ڈالر کی اضافی فنانسنگ منظور کی ہے، جو قرض کی شکل میں ہے۔ کل پروجیکٹ کی لاگت تقریباً 125.5 ملین ڈالر ہے، جس میں اے ڈی بی کا حصہ 107 ملین ڈالر ہے جبکہ بلوچستان حکومت باقی رقم فراہم کرے گی۔ اس کے علاوہ، جاپان فنڈ فار پراسپیرس اینڈ ریزلیئنٹ ایشیا اینڈ پیسیفک اور ہائی لیول ٹیکنالوجی فنڈ سے کو فنانسنگ بھی شامل ہے۔ یہ فنڈز خاص طور پر چوری انفلٹریشن گیلری سب پروجیکٹ، سری توئی ڈیم کمانڈ ایریا کی ترقی اور واٹرشیڈ مینجمنٹ سرگرمیوں پر خرچ ہوں گے۔
پروجیکٹ کے کلیدی اجزاء میں جدید پائپڈ واٹر سپلائی سسٹم کا تعارف شامل ہے، جو روایتی کھلی نہروں کی نسبت زیادہ موثر ہے اور پانی کے ضیاع کو نمایاں طور پر کم کرے گا۔ سری توئی ڈیم، جو ژوب دریا کے بیسن میں ہے، 36 ملین کیوبک میٹر پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ 16,592 ہیکٹر اراضی کیلئے پانی فراہم کرے گا، جن میں 1,839 ہیکٹر بارانی (خشک کاشت) اراضی بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ، واٹرشیڈ مینجمنٹ اقدامات جیسے جنگلات کی کاشت، مٹی کی حفاظت اور چیک ڈیمز کی تعمیر سے سیلابوں سے ہونے والے نقصان کو کم کیا جائے گا۔
زراعت اور معیشت پر مثبت اثرات
بلوچستان پانی منصوبہ کا سب سے بڑا فائدہ زرعی شعبے کو ہوگا۔ صوبے میں پانی کی قلت کی وجہ سے فصلوں کی پیداوار کم ہے، لیکن اس پروجیکٹ سے آبپاشی کی کارکردگی بڑھے گی، جو پیداوار میں 20-30 فیصد اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، بارانی اراضی میں پانی کی بہتر دستیابی سے کسان نئی فصلیں اگا سکیں گے، جو غذائی تحفظ کو مضبوط کرے گی۔ اس کے علاوہ، پروجیکٹ روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، خاص طور پر خواتین کیلئے جو زرعی کاموں میں شامل ہیں۔ اے ڈی بی کی پاکستان کیلئے کنٹری ڈائریکٹر ایما فین کا کہنا ہے کہ یہ پروجیکٹ روزگار اور خواتین کیلئے معاشی مواقع بڑھائے گا۔

معاشی طور پر، یہ پروجیکٹ بلوچستان کی جی ڈی پی کو فروغ دے گا۔ زراعت کی بہتری سے برآمدات بڑھیں گی، جو پاکستان کی مجموعی معیشت کو فائدہ پہنچائے گی۔ اس کے علاوہ، پانی کے پائیدار استعمال سے ماحولیاتی توازن برقرار رہے گا، جو طویل مدتی ترقی کیلئے ضروری ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں کردار
موسمیاتی تبدیلیاں بلوچستان کیلئے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ شدید بارشیں، سیلاب اور خشک سالی سے پانی کے وسائل متاثر ہو رہے ہیں۔ بلوچستان پانی منصوبہ موسمیاتی مزاحم نظام قائم کرے گا، جو سیلابوں سے مٹی کی کٹاؤ کو روکے گا اور پانی کو محفوظ کرے گا۔ چیک ڈیمز اور جنگلات کی کاشت سے ماحول کو بہتر بنایا جائے گا، جو کاربن جذب کرنے میں بھی مدد دے گا۔ یہ پروجیکٹ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جی) سے مطابقت رکھتا ہے، خاص طور پر پانی اور زراعت سے متعلق اہداف۔
چیلنجز اور مستقبل کی سفارشات
اگرچہ بلوچستان پانی منصوبہ امید افزا ہے، لیکن اسے چیلنجز کا سامنا ہے جیسے مقامی سطح پر عمل درآمد کی مشکلات، سیکورٹی مسائل اور کمیونٹی کی شرکت کی کمی۔ حکومت کو چاہیے کہ مقامی لوگوں کو شامل کرکے پروجیکٹ کو کامیاب بنائے۔ مستقبل میں، ایسے مزید منصوبے شروع کیے جائیں جیسے نالنگ ڈیم، جو پانی کی قلت کو مزید کم کر سکتا ہے۔
پاکستان کیلئے ترقی کا راستہ
ایشیائی ترقیاتی بینک کی یہ فنانسنگ بلوچستان پانی منصوبہ کو مکمل کرنے کا سنہری موقع ہے۔ یہ نہ صرف پانی کی قلت کو کم کرے گا بلکہ زراعت، معیشت اور ماحول کو بھی فائدہ پہنچائے گا۔ اب وقت ہے کہ حکومت اور اے ڈی بی مل کر اسے عملی جامہ پہنائیں تاکہ بلوچستان کی عوام مستفید ہو سکیں۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ پروجیکٹ بلوچستان کی معیشت کو تبدیل کر دے گا؟ کمنٹس میں اپنی رائے دیں۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کا گلیشیئرز ٹو فارمز پروگرام — پانی اور زراعت کے لیے 25 کروڑ ڈالر کی منظوری