بسنٹ لاہور 2026 – پنجاب حکومت نے تین روزہ بسنت کی باضابطہ اجازت دے دی

بسنٹ لاہور 2026 – پتنگ بازی لاہور کا تہوار
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پنجاب حکومت کا بڑا اعلان: لاہوریوں کو بسنٹ لاہور 2026 محفوظ طریقے سے منانے کی باضابطہ اجازت

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ایک تاریخی اور عوام دوست فیصلے کے بعد حکومتِ پنجاب نے لاہوریوں کو سخت حفاظتی انتظامات کے تحت بسنت منانے کی اجازت دے دی ہے۔ طویل عرصے بعد بسنت کی بحالی کو شہریوں کی جانب سے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس بار تہوار کو مکمل طور پر محفوظ بنانے کے لیے سخت ضابطہ اخلاق نافذ کیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا نے فروری 2026 میں تین روزہ بسنت منانے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق بسنت 6، 7 اور 8 فروری کو منائی جائے گی۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ بسنت کے تمام انتظامات حکومت کی کڑی نگرانی میں ہوں گے اور ایس او پیز کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق پتنگ اور ڈور تیار کرنے والے تمام مینوفیکچررز کے لیے آن لائن رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے، تاکہ غیر معیاری اور خطرناک مواد کی تیاری اور فروخت کو روکا جا سکے۔ بغیر رجسٹریشن پتنگ یا ڈور تیار کرنے اور فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ڈپٹی کمشنر لاہور نے کیمیکل ڈور اور دھاتی چرخیاں فروخت کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ ڈور صرف “پنا” کی شکل میں فروخت کی جائے گی، جبکہ خونی یا دھاتی ڈور کی تیاری، فروخت اور استعمال پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔

موٹرسائیکل سواروں کے تحفظ کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ڈی سی لاہور سید موسیٰ رضا نے موٹرسائیکل سواروں کے لیے سیفٹی وائر (حفاظتی تار) کا استعمال لازمی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد حادثات اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹریفک پولیس اور ضلعی انتظامیہ مشترکہ طور پر اس پابندی پر عملدرآمد یقینی بنائیں گی۔

ڈپٹی کمشنر لاہور نے کہا کہ بسنت پنجاب کی ایک قدیم اور خوبصورت ثقافتی روایت ہے، مگر انسانی جانوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خوشی کے اس تہوار کو کسی صورت جان لیوا بننے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

انتظامیہ کے مطابق بسنت کے دوران خصوصی مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی، جبکہ پولیس، ریسکیو، ٹریفک اور ضلعی افسران فیلڈ میں موجود رہیں گے۔ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں اور بسنت کو محفوظ، خوشگوار اور ذمہ دارانہ انداز میں منائیں۔

حکومت پنجاب کے اس فیصلے کو ثقافتی سرگرمیوں کی بحالی اور شہریوں کے اعتماد کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بسنت کی کامیابی کا دارومدار مکمل اور سخت عملدرآمد پر ہوگا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]