بجلی صارفین کو ریلیف، کیپٹو پاور لیوی سے بجلی سستی کرنے کا فیصلہ

بجلی صارفین کو ریلیف دینے کے لیے کیپٹو پاور لیوی کا نفاذ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

کیپٹو پاور لیوی کے ذریعے بجلی سستی کرنے کی راہ ہموار

شہباز شریف حکومت نے بجلی کے بوجھ تلے دبے عوام کے لیے ایک اور اہم ریلیف پیکج کی تیاری مکمل کرلی ہے، جس کے تحت بجلی کے نرخوں میں کمی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے مطابق کیپٹو پاور پلانٹس پر لیوی عائد کرنے کے فیصلے کو عملی جامہ پہنا دیا گیا ہے، جس سے حاصل ہونے والی آمدن براہِ راست بجلی صارفین کو ریلیف کی صورت میں منتقل کی جائے گی۔

پاکستان اس وقت شدید توانائی بحران، بڑھتے ہوئے گردشی قرضے اور مہنگی بجلی کے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں حکومت نے پاور سیکٹر میں اصلاحات کو تیز کرتے ہوئے ایک ایسی پالیسی متعارف کرائی ہے جس کا مقصد صنعتی شعبے میں موجود کیپٹو پاور پلانٹس کو قومی گرڈ کی طرف راغب کرنا اور ان سے حاصل ہونے والی لیوی کے ذریعے عام صارفین کے لیے بجلی سستی کرنا ہے۔

کیپٹو پاور لیوی کیا ہے؟

کیپٹو پاور پلانٹس وہ بجلی گھر ہیں جو صنعتیں اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے خود چلاتی ہیں، عموماً گیس یا ایل این جی کے ذریعے۔ آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ یہ پلانٹس سستی گیس استعمال کر کے قومی وسائل پر بوجھ بن رہے ہیں، جبکہ قومی گرڈ سے بجلی نہیں خریدتے۔ اسی لیے آئی ایم ایف نے پاکستان پر زور دیا کہ کیپٹو پاور پلانٹس پر اضافی لیوی عائد کی جائے تاکہ وہ یا تو گرڈ سے بجلی لیں یا قومی خزانے میں اپنا حصہ ڈالیں۔

حکومتی منصوبہ اور حکمتِ عملی

حکومتی ذرائع کے مطابق کیپٹو پاور لیوی سے حاصل ہونے والی رقم ماہانہ بنیادوں پر جمع کی جائے گی اور اس کا فائدہ ہر دو ماہ بعد بجلی کے صارفین کو منتقل کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے وفاقی کابینہ پہلے ہی منظوری دے چکی ہے کہ لیوی کی پوری رقم بجلی کے نرخ کم کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی، نہ کہ کسی اور مد میں۔

حکومت کو توقع ہے کہ جیسے جیسے لیوی کی شرح میں اضافہ ہوگا، ویسے ویسے بجلی صارفین کو دیے جانے والے ریلیف میں بھی اضافہ ممکن ہو سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اس پالیسی کو مرحلہ وار نافذ کیا جا رہا ہے تاکہ صنعتوں کو بھی ایڈجسٹ کرنے کا موقع ملے اور معیشت پر اچانک دباؤ نہ پڑے۔

مرحلہ وار لیوی کا نفاذ

  • وفاقی حکومت نے کیپٹو پاور پلانٹس پر مرحلہ وار 20 فیصد تک لیوی عائد کرنے کا قانون نافذ کر دیا ہے۔
  • پہلے مرحلے میں فوری طور پر 5 فیصد لیوی لاگو کی جا چکی ہے۔
  • دوسرے مرحلے میں لیوی کی شرح بڑھا کر 10 فیصد کر دی جائے گی۔
  • فروری 2026 میں یہ شرح 15 فیصد تک پہنچے گی۔
  • جبکہ اگست 2026 میں کیپٹو پاور پلانٹس پر لیوی کی حتمی شرح 20 فیصد ہو جائے گی۔

یہ تدریجی اضافہ اس لیے رکھا گیا ہے تاکہ صنعتی شعبہ بتدریج قومی گرڈ سے بجلی لینے یا متبادل توانائی ذرائع کی طرف منتقل ہو سکے۔

بجلی صارفین کو کیسے فائدہ ہوگا؟

حکومتی پالیسی کے مطابق کیپٹو پاور لیوی سے حاصل ہونے والی آمدن پاور سیکٹر کی تمام کیٹیگریز کے صارفین کے لیے ٹیرف میں کمی پر استعمال کی جائے گی۔ اس میں گھریلو، کمرشل اور صنعتی صارفین سب شامل ہوں گے۔ خاص طور پر گھریلو صارفین، جو پہلے ہی مہنگی بجلی اور کم آمدن کے باعث مشکلات کا شکار ہیں، اس فیصلے سے نسبتاً زیادہ فائدہ اٹھا سکیں گے۔

توانائی ماہرین کے مطابق اگر یہ پالیسی مؤثر انداز میں نافذ ہوئی تو نہ صرف بجلی کے نرخوں میں کمی آئے گی بلکہ گردشی قرضے میں کمی، قومی گرڈ کے بہتر استعمال اور گیس کے مؤثر استعمال جیسے فوائد بھی حاصل ہوں گے۔

عدم ادائیگی پر سخت کارروائی

حکومت نے واضح کیا ہے کہ کیپٹو پاور لیوی کی عدم ادائیگی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ مستقل ڈیفالٹرز کے خلاف نہ صرف قانونی اقدامات ہوں گے بلکہ متعلقہ کیپٹو پاور پلانٹس کو گیس یا ایل این جی کی فراہمی بھی منقطع کی جا سکتی ہے۔ ہر وہ کیپٹو پاور پلانٹ جو گیس یا ایل این جی استعمال کرتا ہے، وفاقی حکومت کو لیوی ادا کرنے کا پابند ہوگا۔

یہ اقدام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے کہ کوئی بھی صنعتی یونٹ حکومتی پالیسی سے بچنے کی کوشش نہ کرے اور تمام اسٹیک ہولڈرز قومی مفاد میں اپنا کردار ادا کریں۔

مجموعی اثرات اور مستقبل کا لائحہ عمل

ماہرین کے مطابق کیپٹو پاور لیوی نہ صرف آئی ایم ایف پروگرام کی تکمیل میں مدد دے گی بلکہ پاکستان کے توانائی نظام میں ایک بڑی اصلاح ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر صنعتیں قومی گرڈ کی طرف آتی ہیں تو بجلی کی طلب بڑھے گی، پیداواری لاگت کم ہو سکتی ہے اور پاور سیکٹر میں موجود اضافی صلاحیت بہتر انداز میں استعمال ہو سکے گی۔

شہباز شریف حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی اصلاحات کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں، اور یہی وجہ ہے کہ مشکل مگر ضروری فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینا اس کی اولین ترجیح ہے، اور کیپٹو پاور لیوی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

کیپٹو پاور پلانٹس پر لیوی عائد کرنے کا فیصلہ بظاہر مشکل ضرور ہے، مگر طویل المدتی تناظر میں یہ قومی معیشت، پاور سیکٹر اور عام بجلی صارفین کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر شفافیت، مؤثر نفاذ اور بروقت ریلیف کو یقینی بنایا گیا تو یہ پالیسی حکومت کے لیے ایک بڑی کامیابی اور عوام کے لیے حقیقی سہولت بن سکتی ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]