پشاور میں ایک ہفتے کے دوران 20 کلو آٹے کا تھیلا 400 روپے مہنگا، شہری پریشان
خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں آٹے کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ عوام کے لیے ایک نئے معاشی بحران کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ صرف ایک ہفتے کے دوران 20 کلوگرام آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 400 روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث متوسط اور غریب طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ آٹا جو عام آدمی کی بنیادی خوراک ہے، اس کی قیمت میں اس قدر تیز رفتار اضافہ عوامی تشویش کا سبب بن گیا ہے۔
آٹا ڈیلرز کے مطابق مکس آٹے کے 20 کلوگرام تھیلے کی قیمت گزشتہ ہفتے 2 ہزار 600 روپے تھی، جو اب بڑھ کر 3 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے۔ اسی طرح فائن آٹے کے 20 کلوگرام تھیلے کی قیمت 2 ہزار 700 روپے سے بڑھ کر 3 ہزار 100 روپے ہو گئی ہے۔ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں یہ اضافہ اچانک نہیں بلکہ آٹے کی ترسیل میں رکاوٹوں اور سپلائی میں کمی کا نتیجہ ہے۔
ڈیلرز کے مطابق پنجاب سے پشاور اور دیگر علاقوں کو آٹے کی ترسیل اس وقت بند ہے، جس کے باعث مقامی مارکیٹ میں قلت پیدا ہو گئی ہے۔ آٹے کی سپلائی میں اس کمی نے طلب اور رسد کے توازن کو شدید متاثر کیا ہے، جس کا براہِ راست اثر قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ تاجروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
پشاور کے مختلف علاقوں میں آٹا خریدنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ اخراجات پہلے ہی ناقابلِ برداشت ہو چکے ہیں اور اب آٹے جیسی بنیادی ضرورت کی قیمت میں اضافے نے گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کئی شہریوں نے شکایت کی ہے کہ ایک ہی ہفتے میں قیمتوں میں اتنا بڑا اضافہ سمجھ سے بالاتر ہے اور حکومتی نگرانی نہ ہونے کے برابر نظر آتی ہے۔
ماہرینِ معیشت کے مطابق آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں گندم کی قلت، ذخیرہ اندوزی، بین الصوبائی ترسیل میں رکاوٹیں اور انتظامی کمزوریاں شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے، کیونکہ آٹا صرف ایک جنس نہیں بلکہ عوامی زندگی کا بنیادی جزو ہے۔
آٹا ڈیلرز کا کہنا ہے کہ وہ من مانی قیمتیں مقرر نہیں کر رہے بلکہ انہیں آٹا ہی مہنگے داموں مل رہا ہے۔ ان کے مطابق ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات، بجلی اور دیگر کاروباری لاگت نے بھی قیمتوں پر اثر ڈالا ہے۔ ڈیلرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب سے آٹے کی ترسیل بحال کی جائے اور مارکیٹ میں استحکام لانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
دوسری جانب شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت نگرانی کی جائے اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوری مداخلت نہ کی تو آٹے جیسی بنیادی چیز عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائے گی۔
سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی یہ لہر نہ صرف شہری علاقوں بلکہ دیہی علاقوں کو بھی متاثر کر رہی ہے، جہاں آمدنی کے ذرائع محدود ہیں۔ مزدور طبقہ، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد اور کم آمدنی والے خاندان سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، کیونکہ ان کے لیے خوراک پر آنے والا خرچ پہلے ہی آمدنی کا بڑا حصہ بن چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ گندم کے ذخائر، فلور ملز اور آٹے کی ترسیل کے نظام پر کڑی نظر رکھے۔ بین الصوبائی تعاون کے ذریعے آٹے کی سپلائی کو یقینی بنایا جائے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔
مجموعی طور پر پشاور میں آٹے کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ نہ صرف مہنگائی کی موجودہ لہر کا تسلسل ہے بلکہ یہ حکومتی پالیسیوں اور انتظامی فیصلوں پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ عوام اس بات کے منتظر ہیں کہ حکومت اور متعلقہ ادارے کب اس سنگین مسئلے کا نوٹس لیتے ہیں اور عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرتے ہیں۔


One Response