پی ایس ایکس نئی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد مندی کا شکار
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروباری دن کے دوران شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جہاں ایک جانب سرمایہ کاروں میں جوش و خروش نظر آیا تو دوسری جانب منافع سمیٹنے کے رجحان نے مارکیٹ کو دباؤ میں رکھا۔ کاروبار کے آغاز پر حصص بازار میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی اور کے ایس ای 100 انڈیکس ایک نئی تاریخی بلند ترین سطح تک جا پہنچا، تاہم یہ تیزی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور بعد ازاں مارکیٹ مندی کی لپیٹ میں آ گئی۔
آج کاروبار کے آغاز پر سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں غیر معمولی تیزی ریکارڈ کی گئی۔ ابتدائی لمحات میں ہی کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1346 پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 83 ہزار 754 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ یہ سطح پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل سمجھی جا رہی ہے، جس نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید تقویت دی۔
ماہرین کے مطابق کاروبار کے آغاز پر تیزی کی بنیادی وجوہات میں گزشتہ روز کی شاندار کارکردگی، مثبت معاشی اشاریے، پالیسی کے تسلسل کی توقعات اور مالیاتی نظم و ضبط سے متعلق بہتر اشارے شامل تھے۔ اس کے علاوہ بعض بڑے سیکٹرز، خصوصاً بینکنگ، توانائی اور آئل اینڈ گیس کے حصص میں خریداری کا دباؤ دیکھا گیا، جس نے انڈیکس کو اوپر لے جانے میں اہم کردار ادا کیا۔
تاہم، نئی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد مارکیٹ میں منافع سمیٹنے (Profit Taking) کا رجحان غالب آ گیا۔ جیسے ہی سرمایہ کاروں نے حالیہ تیزی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے حصص فروخت کرنا شروع کیے، مارکیٹ پر دباؤ بڑھنے لگا۔ اس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس میں بتدریج کمی دیکھنے میں آئی اور پہلے 606 پوائنٹس کی مندی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے بعد فروخت کے دباؤ میں مزید اضافہ ہوا اور انڈیکس مجموعی طور پر 853 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ گھٹ کر ایک لاکھ 81 ہزار 555 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال اسٹاک مارکیٹ میں غیر معمولی نہیں ہوتی، خاص طور پر جب انڈیکس تیزی سے نئی بلند ترین سطحیں عبور کر رہا ہو۔ ان کے مطابق سرمایہ کار عموماً بلند سطحوں پر محتاط ہو جاتے ہیں اور اپنے منافع کو محفوظ بنانے کو ترجیح دیتے ہیں، جس کے باعث عارضی مندی دیکھنے میں آتی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی تھی، جب کے ایس ای 100 انڈیکس میں 4210 پوائنٹس کا تاریخی اضافہ ہوا تھا۔ اس شاندار تیزی کے نتیجے میں انڈیکس ایک لاکھ 83 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا، جو مارکیٹ کی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جاتی ہے۔ تاہم، دن کے اختتام پر معمولی اتار چڑھاؤ کے بعد اسٹاک ایکسچینج ایک لاکھ 82 ہزار 408 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوئی تھی۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ روز کی تیزی نے مارکیٹ میں ایک مثبت فضا قائم کی، جس کے اثرات آج کاروبار کے آغاز پر بھی واضح طور پر دیکھے گئے۔ تاہم، مسلسل تیزی کے بعد مندی کا آنا ایک فطری عمل ہے، جسے مارکیٹ کی صحت کے لیے بھی ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مارکیٹ میں اصلاح (Correction) نہ ہو تو غیر حقیقی بلبلے (Bubble) بننے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
سرمایہ کاروں کی جانب سے آج کے کاروبار کے دوران ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا۔ قلیل مدتی سرمایہ کاروں نے بلند سطحوں پر حصص فروخت کر کے منافع حاصل کیا، جب کہ طویل مدتی سرمایہ کاروں نے اس مندی کو خریداری کے ایک موقع کے طور پر دیکھا۔ اسی وجہ سے مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ برقرار رہا۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی مجموعی سمت اب بھی مثبت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں بتدریج کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پانے کی کوششیں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعاون جیسے عوامل مارکیٹ کے لیے حوصلہ افزا ہیں۔ تاہم، سیاسی غیر یقینی صورتحال، عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ اور خطے کی صورتحال جیسے عوامل قلیل مدت میں دباؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو آج کا کاروباری دن اس بات کا عکاس ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج اس وقت ایک حساس مگر متحرک مرحلے سے گزر رہی ہے۔ نئی بلند ترین سطحوں کا چھونا سرمایہ کاروں کے اعتماد کی علامت ہے، جب کہ مندی کا رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مارکیٹ میں احتیاط اور توازن کی ضرورت برقرار ہے۔
ماہرین سرمایہ کاروں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ جذباتی فیصلوں کے بجائے بنیادی معاشی عوامل، کمپنیوں کی مالی کارکردگی اور طویل مدتی حکمتِ عملی کو مدنظر رکھتے ہوئے سرمایہ کاری کریں۔ ان کے مطابق اگرچہ قلیل مدت میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے، تاہم مجموعی طور پر مارکیٹ کا رجحان محتاط امید (Cautious Optimism) پر مبنی دکھائی دیتا ہے۔

