ملک بھر میں برائلر مرغی اور انڈوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، عوام پریشان
ملک بھر میں برائلر مرغی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق برائلر مرغی کے گوشت کی قیمت 500 روپے فی کلو کی حد عبور کرتے ہوئے 519 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جو عام صارف کی قوتِ خرید سے کہیں زیادہ سمجھی جا رہی ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق گزشتہ روز برائلر گوشت کی قیمت میں مزید 22 روپے فی کلو کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ پیر سے بدھ تک مجموعی طور پر 44 روپے فی کلو اضافہ ہو چکا ہے۔ اس تیز رفتار اضافے نے نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ ہوٹل، ریسٹورنٹ اور کیٹرنگ انڈسٹری کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق زندہ برائلر مرغی کی فارم ریٹ 330 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے، جبکہ تھوک مارکیٹ میں برائلر مرغی 344 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی ہے۔ دوسری جانب پرچون سطح پر زندہ برائلر کی قیمت 358 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔ مارکیٹ میں برائلر گوشت کی قیمتوں میں اضافے کے باعث قصائیوں کی دکانوں پر خریداروں کی تعداد میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں برائلر گوشت جو کبھی متوسط طبقے کی سستی پروٹین سمجھا جاتا تھا، اب عام آدمی کی دسترس سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ کئی صارفین نے بتایا کہ وہ مجبوراً گوشت کی خریداری کم کر رہے ہیں یا متبادل غذاؤں کی طرف جا رہے ہیں۔
دوسری جانب پولٹری فارمرز اور مارکیٹ ذرائع کا مؤقف ہے کہ قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں فیڈ کی مہنگی قیمت، بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ، ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات اور موسمی اثرات شامل ہیں۔ پولٹری انڈسٹری سے وابستہ افراد کے مطابق سرد موسم میں برائلر کی پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے، جس کا براہِ راست اثر قیمتوں پر پڑتا ہے۔
صرف برائلر مرغی ہی نہیں بلکہ فارمی انڈوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تازہ اضافے کے بعد فارمی انڈے 2 روپے فی درجن مہنگے ہو کر 361 روپے فی درجن فروخت ہو رہے ہیں۔ انڈوں کی قیمتوں میں اضافے نے بھی گھریلو بجٹ کو مزید دباؤ میں ڈال دیا ہے، کیونکہ انڈے عام طور پر سستی اور آسان غذائی شے سمجھے جاتے ہیں۔
دکانداروں کے مطابق انڈوں کی قیمت میں اضافے کی وجہ بھی فیڈ کی قیمتوں میں اضافہ اور سردیوں میں پیداوار میں کمی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں قیمتوں میں مزید اضافہ خارج از امکان نہیں۔
صارفین نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ برائلر مرغی اور انڈوں کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ نامے تو جاری کیے جاتے ہیں، تاہم ان پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر پولٹری انڈسٹری کو ریلیف نہ دیا گیا اور قیمتوں کی مؤثر نگرانی نہ کی گئی تو مہنگائی کی یہ لہر مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ فیڈ اور توانائی کے نرخوں میں ریلیف دے کر پولٹری سیکٹر کو سہارا دے تاکہ صارفین کو بھی کچھ ریلیف مل سکے۔
واضح رہے کہ برائلر مرغی اور انڈے پاکستان میں پروٹین کے اہم ذرائع ہیں اور ان کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ غذائی عدم تحفظ کے خدشات کو بھی جنم دے رہا ہے۔ عوام کی نظریں اب حکومت اور متعلقہ اداروں پر مرکوز ہیں کہ آیا وہ اس بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے میں کامیاب ہو پاتے ہیں یا نہیں

