ملک میں مہنگائی میں اضافہ، سیمنٹ، آٹا اور چکن عوام کی پہنچ سے دور

ملک میں مہنگائی میں اضافہ، روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ملک میں مہنگائی میں اضافہ: عوام پر ایک اور معاشی وار

پاکستان میں مہنگائی کا جن ایک بار پھر بے قابو ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ملک میں مہنگائی میں اضافہ اس حد تک ہو چکا ہے کہ اب نہ صرف گھر بنانا خواب بنتا جا رہا ہے بلکہ دو وقت کی روٹی اور سادہ پروٹین بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو رہی ہے۔ سیمنٹ، آٹا، برائلر گوشت اور انڈوں کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اس تلخ حقیقت کی واضح مثال ہے۔

سیمنٹ مہنگی، تعمیراتی خواب چکناچور

گھر بنانے کا ارادہ رکھنے والے ہزاروں خاندانوں کے لیے ملک میں مہنگائی میں اضافہ سب سے پہلے سیمنٹ کی قیمتوں کی صورت میں سامنے آیا۔ پاکستان بیورو برائے شماریات کے مطابق 11 دسمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں ملک کے شمالی شہروں میں سیمنٹ کی فی بوری اوسط قیمت 1389 روپے ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ ہفتے 1379 روپے تھی۔

جنوبی شہروں میں صورتحال مزید تشویشناک ہے، جہاں سیمنٹ کی فی بوری اوسط قیمت 1445 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ کراچی، کوئٹہ، سکھر اور خضدار جیسے شہروں میں قیمتیں 1500 روپے کے قریب پہنچنا خطرے کی گھنٹی ہے۔

بڑے شہروں میں سیمنٹ کی قیمتیں

اسلام آباد، لاہور، فیصل آباد، ملتان اور پشاور جیسے شہروں میں بھی سیمنٹ کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں مہنگائی میں اضافہ صرف قیمتوں کا مسئلہ نہیں بلکہ تعمیراتی شعبے کی سست روی، بے روزگاری اور ہاؤسنگ بحران کو بھی جنم دے رہا ہے۔

آٹا مہنگا، غریب کی روٹی خطرے میں

مہنگائی کی مار کا دوسرا بڑا وار آٹے پر پڑا ہے۔ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں آٹے کی قیمتوں نے عوام کے ہوش اڑا دیے ہیں۔ صرف ایک دن میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 200 روپے مہنگا ہو کر 2550 روپے تک جا پہنچا۔

گزشتہ چار ماہ میں آٹے کی قیمت میں مجموعی طور پر 700 روپے اضافہ ہو چکا ہے، جو واضح طور پر ملک میں مہنگائی میں اضافہ کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔

گندم پابندیاں اور سپلائی بحران

فلور مل مالکان کے مطابق پنجاب کی جانب سے گندم اور آٹے کی بین الصوبائی نقل و حمل پر پابندی نے بلوچستان میں شدید قلت پیدا کر دی ہے۔ اگر یہ پابندی برقرار رہی تو آٹے کی قیمتیں مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، جس کا بوجھ براہِ راست عام شہری پر پڑے گا۔

چکن اور انڈے بھی عوام کی پہنچ سے باہر

غذائی ضروریات میں شامل برائلر گوشت بھی ملک میں مہنگائی میں اضافہ کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں برائلر گوشت کی قیمت 22 روپے فی کلو مزید بڑھ کر 497 روپے تک جا پہنچی، جبکہ دو دن میں مجموعی اضافہ 36 روپے رہا۔

زندہ مرغی، تھوک اور پرچون ریٹس بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں، جس کے باعث متوسط طبقہ چکن خریدنے سے پہلے کئی بار سوچنے پر مجبور ہے۔

انڈے بھی مہنگے، پروٹین بحران

انڈے، جو کبھی غریب کی پروٹین سمجھے جاتے تھے، اب مہنگائی کی فہرست میں شامل ہو چکے ہیں۔ فارمی انڈے 360 روپے فی درجن اور پیٹی 10,680 روپے تک جا پہنچی ہے، جو واضح کرتا ہے کہ ملک میں مہنگائی میں اضافہ کس طرح روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہا ہے۔

عوام کی آواز، حکومت خاموش؟

شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی نے ان کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ آٹا، چکن اور سیمنٹ جیسی بنیادی اشیاء مہنگی ہو جائیں تو عام آدمی کہاں جائے؟ پرائس کنٹرول کمیٹیاں غیر فعال اور ضلعی انتظامیہ خاموش دکھائی دیتی ہے۔

ماہرین کا انتباہ

معاشی ماہرین کے مطابق اگر ملک میں مہنگائی میں اضافہ اسی رفتار سے جاری رہا تو غربت کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کو فوری طور پر سپلائی چین، سبسڈی اور پرائس کنٹرول پر سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔

نومبر میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر 6.1 فیصد پر آگئی

نتیجہ

ملک میں مہنگائی میں اضافہ اب محض اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ہر گھر، ہر باورچی خانے اور ہر خواب کو متاثر کر رہا ہے۔ اگر فوری اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو عام آدمی کے لیے زندگی مزید مشکل ہو جائے گی۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]