پیٹرول مہنگا کیوں؟ 117 روپے فی لیٹر لیوی کا انکشاف

پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ سامنے آگئی، 117 روپے فی لیٹر لیوی نافذ

پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ایک بار پھر قومی سطح پر بحث کا موضوع بن گیا ہے، جہاں پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں پیٹرول مہنگا ہونے کی بڑی وجہ 117 روپے فی لیٹر لیوی کا نفاذ ہے۔ یہ انکشاف سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس کے دوران سامنے آیا۔

اجلاس میں علی پرویز ملک اور پیٹرولیم ڈویژن کے اعلیٰ حکام نے ارکان کمیٹی کو بریفنگ دی۔ اجلاس کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، عالمی منڈی میں خام تیل کی صورتحال، اور ملکی اسٹاکس پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

رکن کمیٹی سیف اللہ ابڑو نے اجلاس میں سوال اٹھایا کہ 28 فروری تک پاکستان کے پاس پیٹرولیم مصنوعات کا کتنا ذخیرہ موجود تھا اور فوری بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55، 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیوں کیا گیا۔

اس پر پیٹرولیم ڈویژن حکام نے بتایا کہ یکم مارچ کے بعد عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمت 285 ڈالر فی بیرل جبکہ پیٹرول کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی تھی، جس کے باعث حکومت کو مہنگی پیٹرولیم مصنوعات خریدنا پڑیں۔

حکام کے مطابق اس وقت پاکستان کے پاس پیٹرول کے تقریباً 30 دن جبکہ ڈیزل کے 27 دن کے ذخائر موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باوجود ملک میں سپلائی برقرار رکھنے کیلئے فوری اقدامات کیے گئے۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے مہنگے داموں تیل خریدا تاکہ کسی قسم کا بحران پیدا نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت خریداری نہ کی جاتی تو ملک میں ایندھن کی قلت پیدا ہو سکتی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے پاس اس وقت اسٹریٹیجک پیٹرولیم ذخائر موجود نہیں ہیں، بلکہ تمام اسٹاک آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس ہوتا ہے۔ وزیر پیٹرولیم نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ مستقبل میں اسٹریٹیجک ذخائر کے قیام پر توجہ دینا ضروری ہے تاکہ عالمی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکے۔

اجلاس کے دوران رکن کمیٹی عامر چشتی نے تجویز دی کہ تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا آڈٹ کیا جائے تاکہ قیمتوں اور ذخائر کے معاملات میں شفافیت لائی جا سکے۔ اس پر علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت تمام 42 آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا آڈٹ کرانے کیلئے تیار ہے۔

سیف اللہ ابڑو نے مزید استفسار کیا کہ عوام کو تحریری طور پر بتایا جائے کہ پیٹرول کی قیمت میں مختلف ٹیکسز اور لیوی کا کتنا حصہ شامل ہے۔ اس پر پیٹرولیم ڈویژن حکام نے انکشاف کیا کہ پیٹرول کی موجودہ قیمت میں 117 روپے فی لیٹر صرف لیوی شامل ہے، جو قیمتوں میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرولیم لیوی حکومت کیلئے ایک اہم ریونیو ذریعہ بن چکی ہے۔ حکومت اس رقم کو مختلف ترقیاتی منصوبوں، مالی خسارے پر قابو پانے اور دیگر معاشی ضروریات کیلئے استعمال کرتی ہے۔ تاہم عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی لیوی کے باعث عام شہریوں پر مالی بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر مہنگائی پر پڑتا ہے۔ ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش، صنعتی لاگت اور روزمرہ استعمال کی متعدد اشیا کی قیمتیں ایندھن مہنگا ہونے سے متاثر ہوتی ہیں۔

ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں بڑھنے کے ساتھ ساتھ روپے کی قدر میں کمی بھی مقامی سطح پر پیٹرول مہنگا ہونے کی ایک بڑی وجہ بنتی ہے۔ اگر عالمی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو آئندہ بھی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے۔

اجلاس میں اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا کہ اس معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے بھی کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ذخائر اور قیمتوں کے معاملات میں کسی قسم کی بے ضابطگی ہوئی یا نہیں۔

سیاسی حلقوں میں بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی لیوی اور مہنگائی نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ حکومتی مؤقف ہے کہ عالمی معاشی صورتحال اور درآمدی لاگت کے باعث سخت فیصلے ناگزیر ہیں۔

عوامی سطح پر بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر تشویش پائی جاتی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے ایندھن کے نرخوں نے روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حکومت مستقبل میں پیٹرولیم لیوی میں کمی کرتی ہے تو عوام کو کچھ ریلیف مل سکتا ہے، تاہم اس سے حکومتی ریونیو متاثر ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو طویل المدتی بنیادوں پر متبادل توانائی ذرائع اور اسٹریٹیجک آئل ذخائر پر توجہ دینا ہوگی تاکہ عالمی مارکیٹ میں اچانک تبدیلیوں کے اثرات کم کیے جا سکیں۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف عوام بلکہ ملکی معیشت کیلئے بھی ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے، جبکہ 117 روپے فی لیٹر لیوی کے انکشاف نے اس بحث کو مزید شدت دے دی ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]