بنوں حملہ: پاکستان کا افغان طالبان حکومت سے سخت احتجاج، افغان ناظم الامور طلب

بنوں حملہ کے بعد پاکستان کا افغان طالبان سے احتجاج
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

بنوں حملہ: پاکستان کا افغان طالبان حکومت سے سخت احتجاج، افغان ناظم الامور طلب

اسلام آباد: پاکستان نے خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں فتح خیل پولیس پوسٹ پر ہونے والے دہشتگرد حملے کے معاملے پر افغان طالبان حکومت کے خلاف سخت احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر لیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق 9 مئی کو بنوں کے علاقے فتح خیل میں فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے پولیس پوسٹ پر حملہ کیا، بنوں حملہ کے نتیجے میں 15 پولیس اہلکار شہید جبکہ 4 افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک شہری بھی شامل ہے۔

فیلڈ مارشل کا معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ پر خطاب
جی ایچ کیو میں معرکۂ حق کی سالگرہ تقریب سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خطاب۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ واقعے کی تفصیلی تحقیقات، شواہد اور تکنیکی انٹیلی جنس سے واضح ہوتا ہے کہ بنوں حملہ کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود دہشتگردوں نے کی۔

ترجمان کے مطابق پاکستان نے افغان حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکیں اور دہشتگرد تنظیموں کے خلاف مؤثر اور قابلِ تصدیق اقدامات کریں۔

دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان اس بزدلانہ حملے کے ذمہ دار عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے اور قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس میں بھی افغان سرزمین پر مختلف دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی اور انہیں حاصل سہولتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے برادر اور دوست ممالک کی ثالثی میں افغان طالبان حکومت کے ساتھ متعدد مذاکراتی دور بھی کیے، تاہم افغان حکام دہشتگرد تنظیموں کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہے۔

پاکستان نے ایک بار پھر زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ مشترکہ ذمہ داری ہے اور افغان طالبان کو اپنے وعدوں کے مطابق اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینی چاہیے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان اور داعش خراسان (آئی ایس کے پی) کے خلاف ٹھوس کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]