امریکی تحویل سے 31 پاکستانی اور ایرانی شہریوں کی واپسی، اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکی تحویل میں لیے گئے 31 افراد کی پاکستان کے ذریعے محفوظ واپسی ممکن بنائی گئی ہے، جن میں 11 پاکستانی اور 20 ایرانی شہری شامل ہیں۔ اسحاق ڈار کے مطابق تمام افراد سنگاپور کے تعاون سے بحفاظت وطن روانہ ہوئے جبکہ بینکاک سے خصوصی پرواز اسلام آباد بھیجی گئی۔
بنوں حملہ: پاکستان کا افغان طالبان حکومت سے سخت احتجاج، افغان ناظم الامور طلب

پاکستان نے بنوں میں فتح خیل پولیس پوسٹ پر دہشتگرد حملے کے بعد افغان ناظم الامور کو طلب کرکے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا اور افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کا مطالبہ کیا۔
پاکستان ایران کے خلاف اپنی سرزمین اور فضائی حدود استعمال نہ ہونے دینے کے مؤقف پر قائم ہے، دفتر خارجہ

دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان ایران کے خلاف اپنی سرزمین اور فضائی حدود استعمال نہ ہونے دینے کے مؤقف پر قائم ہے۔
پاکستان یمن کے تنازع کے پُرامن حل کا حامی، علاقائی استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت: ترجمان دفتر خارجہ کی پریس بریفنگ

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان یمن کے تنازع کے پُرامن حل کی حمایت کرتا ہے اور خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو خوش آئند قرار دیتا ہے۔ ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کے تبادلے، پاک سعودی روابط، چین اور افغانستان سے متعلق مؤقف اور سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کے مطالبات سے بھی آگاہ کیا۔
کل اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچیں گے

اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ دوم وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر آج دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ اس دوران وہ وزیراعظم، صدر اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کریں گے جبکہ انہیں پاکستان کا سب سے بڑا شہری اعزاز بھی دیا جائے گا۔ دورے میں دفاعی، اقتصادی اور سیاسی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بات چیت ہوگی۔
پاکستان کسی دہشت گرد گروہ سے مذاکرات نہیں کرے گا، ترجمان دفتر خارجہ

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کسی بھی دہشت گرد گروہ، خصوصاً ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سے مذاکرات نہیں کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ افغان طالبان کے ساتھ بات چیت کا تیسرا دور استنبول میں کامیابی سے مکمل ہوا، تاہم طالبان انتظامیہ عملی اقدامات کے بجائے صرف وعدوں تک محدود رہی۔ ترجمان کے مطابق افغانستان سے پاکستان پر حملوں میں اضافے کے باوجود پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کیا، مگر دہشت گردوں کو پناہ گزین ظاہر کرنا ایک خطرناک چال ہے۔ پاکستان اپنی سلامتی کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔