فیلڈ مارشل کا معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ پر بھارت کو دوٹوک پیغام، آئندہ کسی بھی مہم جوئی کے نتائج خطرناک ہوں گے

فیلڈ مارشل کا معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ پر خطاب
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

فیلڈ مارشل کا معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ پر بھارت کو دوٹوک پیغام، آئندہ کسی بھی مہم جوئی کے نتائج خطرناک ہوں گے۔

راولپنڈی: معرکۂ حق میں تاریخی فتح کا ایک سال مکمل ہونے پر جی ایچ کیو راولپنڈی میں خصوصی تقریب منعقد ہوئی، جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ کسی بھی مہم جوئی کی کوشش کے نتائج انتہائی وسیع اور خطرناک ہوں گے جبکہ آنے والی جنگیں ملٹی ڈومین آپریشنز پر مشتمل ہوں گی۔

تقریب میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف، اعلیٰ عسکری حکام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کے آغاز میں یادگارِ شہداء پر پھول رکھے گئے اور فاتحہ خوانی کی گئی۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ معرکۂ حق صرف دو ممالک یا افواج کے درمیان روایتی جنگ نہیں تھی بلکہ یہ حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا، جس میں حق کو فتح اور باطل کو شکست ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ مئی 2025 کا واقعہ اچانک پیش آنے والا معرکہ نہیں تھا بلکہ بھارت ایک مرتبہ پھر اپنی فرسودہ سوچ اور خود فریبی کا شکار ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت خود ساختہ واقعات کا الزام پاکستان پر لگا کر خطے میں جنگی ماحول پیدا کرنا چاہتا تھا تاکہ اپنی برتری ثابت کر سکے۔

وزیراعظم شہباز شریف معرکۂ حق کی سالگرہ پر خطاب
وزیراعظم شہباز شریف نے معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ پر افواجِ پاکستان اور شہداء کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

فیلڈ مارشل کا معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ پر اپنے خطاب میں کہا کہ افواجِ پاکستان اور پاکستانی قوم پہلے کبھی طاقت سے مرعوب ہوئی اور نہ آئندہ ہوں گی۔ انہوں نے شہداء اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء نے اپنے خون سے فتح کی قیمت ادا کی اور وطن کے پرچم کی لاج رکھی۔

انہوں نے صدرِ مملکت، وزیراعظم، وفاقی کابینہ، سیاسی قیادت، میڈیا اور نوجوانوں کی خدمات کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ دشمن کی چالوں کو ناکام بنانے میں پوری قوم نے اہم کردار ادا کیا۔

فیلڈ مارشل کا معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ پر اپنے خطاب میں کہا کہ یہ معرکہ صرف میدان جنگ میں نہیں بلکہ معاشرے کے تمام شعبوں میں جیتا گیا، پوری قوم دفاعِ وطن کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔ انہوں نے پاک فضائیہ کے شاہینوں اور بحری افواج کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دشمن کے جنگی طیاروں کو زمین تک محدود کر دیا گیا جبکہ بحری افواج نے دشمن کو سیکڑوں میل دور روکے رکھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ دشمن کے 26 سے زائد عسکری اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا جبکہ شکست خوردہ دشمن کو سفید جھنڈا لہرانے پر مجبور ہونا پڑا۔

فیلڈ مارشل کا معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ پر اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان نے خطے کے وسیع تر امن کی خاطر دشمن کی ثالثی کی پیشکش قبول کی، تاہم امن قائم رکھنے کے لیے ہر وقت جنگ کے لیے تیار رہنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا اہم سنگ میل ہے جبکہ پاکستان اپنی ذمہ دارانہ سفارتکاری کے ذریعے “اسلام آباد ٹاکس” کی میزبانی کر رہا ہے۔

فیلڈ مارشل کا معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ پر اپنے خطاب میں کہا کہ افغانستان پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردی کے مراکز اور محفوظ پناہ گاہوں کا مکمل خاتمہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر بے گناہ شہری کے خون کا حساب لے گا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا سبز ہلالی پرچم امید کی علامت ہے اور اس کی مسلح افواج ہر لمحہ دفاعِ وطن کے لیے تیار ہیں۔

خطاب کے اختتام پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ “جب حق اور باطل آمنے سامنے ہوں تو فتح ہمیشہ حق کا مقدر بنتی ہے، پاکستان کل بھی ناقابلِ تسخیر تھا اور ان شاء اللہ ہمیشہ ناقابلِ تسخیر رہے گا۔

 

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]