او جی ڈی سی ایل تیل پیداوار میں بڑا اضافہ، پاکستان میں 17 سال کے ذخائر موجود

او جی ڈی سی ایل کے مطابق پاکستان میں تیل کی پیداوار 41 ہزار بیرل یومیہ ہوگئی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان میں تیل کی پیداوار 41 ہزار بیرل یومیہ تک پہنچ گئی، او جی ڈی سی ایل کا بڑا انکشاف

‫او جی ڈی سی ایل نے پاکستان کے توانائی شعبے سے متعلق ایک اہم پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں مقامی سطح پر تیل کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (OGDCL) کے منیجنگ ڈائریکٹر احمد حیات لک کے مطابق حالیہ عرصے کے دوران پاکستان میں تیل کی یومیہ پیداوار 32 ہزار بیرل سے بڑھ کر 41 ہزار بیرل تک پہنچ گئی ہے، جبکہ مستقبل میں اسے 43 ہزار بیرل یومیہ سے بھی زائد تک لے جانے کی صلاحیت موجود ہے۔‬

احمد حیات لک نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی سے قبل او جی ڈی سی ایل کی یومیہ تیل پیداوار تقریباً ساڑھے 32 ہزار بیرل تھی، تاہم مقامی سطح پر اضافی پیداوار بڑھانے کیلئے کی گئی کوششوں کے نتیجے میں پیداوار میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ان کے مطابق پاکستان کے اندر تیل اور گیس کے وافر ذخائر موجود ہیں جو آئندہ 17 سال تک ملکی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

توانائی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کیلئے انتہائی اہم ہے کیونکہ ملک طویل عرصے سے تیل اور گیس کی درآمدات پر انحصار کرتا رہا ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث پاکستان کو توانائی بحران اور درآمدی بل میں اضافے جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ ایسے میں مقامی سطح پر پیداوار میں اضافہ ملکی معیشت کیلئے مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

او جی ڈی سی ایل پاکستان کی سب سے بڑی تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنی ہے، جو ملک بھر میں مختلف آئل فیلڈز اور گیس منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، نئے کنوؤں کی کھدائی اور موجودہ فیلڈز کی استعداد بڑھانے کے باعث پیداوار میں اضافہ ممکن ہوا۔

احمد حیات لک کے مطابق کمپنی صرف تیل ہی نہیں بلکہ قدرتی گیس کی پیداوار بڑھانے پر بھی کام کر رہی ہے تاکہ ملک میں توانائی بحران پر قابو پایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں اور اگر مقامی وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کیا جائے تو درآمدی انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ مقامی تیل پیداوار میں اضافہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔ پاکستان ہر سال اربوں ڈالر مالیت کا خام تیل اور ایل این جی درآمد کرتا ہے، جس سے تجارتی خسارہ بڑھتا ہے۔ اگر مقامی پیداوار میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو درآمدی بل کم ہونے کے ساتھ روپے پر دباؤ میں بھی کمی آسکتی ہے۔

دوسری جانب عالمی سطح پر ایران اسرائیل کشیدگی، مشرق وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال اور عالمی منڈی میں تیل قیمتوں میں اضافے کے خدشات کے باعث توانائی کے شعبے کو خاص اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کیلئے مقامی توانائی وسائل کی ترقی نہایت ضروری سمجھی جا رہی ہے۔

او جی ڈی سی ایل حکام کے مطابق کمپنی نئے ذخائر کی تلاش کیلئے مختلف علاقوں میں سروے بھی کر رہی ہے۔ بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں کئی مقامات پر تیل و گیس کے نئے ذخائر دریافت ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ اگر یہ منصوبے کامیاب ہوتے ہیں تو پاکستان مستقبل میں توانائی کے شعبے میں مزید خود کفالت حاصل کر سکتا ہے۔

توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف پیداوار بڑھانا ہی کافی نہیں بلکہ ریفائنری سسٹم، ذخیرہ اندوزی اور ترسیل کے نظام کو بھی جدید بنانا ہوگا۔ پاکستان میں تیل کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے، اس لیے حکومت اور نجی شعبے کو مشترکہ طور پر توانائی انفراسٹرکچر بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور نئی سرمایہ کاری کی پالیسیوں پر بھی کام جاری ہے تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں تیل و گیس منصوبوں کی جانب راغب کیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق اگر سیاسی اور معاشی استحکام برقرار رہا تو پاکستان آئندہ برسوں میں توانائی کے شعبے میں نمایاں ترقی حاصل کر سکتا ہے۔

او جی ڈی سی ایل کے ایم ڈی احمد حیات لک کا کہنا ہے کہ کمپنی مستقبل میں بھی پیداوار بڑھانے کیلئے پرعزم ہے اور پاکستان کو توانائی کے میدان میں مستحکم بنانے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مقامی پیداوار میں اضافے سے نہ صرف معیشت کو سہارا ملے گا بلکہ عوام کو بھی توانائی بحران سے ریلیف ملے گا۔

پاکستان میں تیل و گیس کے ذخائر سے متعلق یہ تازہ اعداد و شمار ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ملک کو معاشی چیلنجز، مہنگائی اور درآمدی اخراجات میں اضافے کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر توانائی کے مقامی وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے تو پاکستان اپنی معاشی مشکلات میں نمایاں کمی لا سکتا ہے

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]