پی ٹی آئی رہنما صنم جاوید کی طبیعت خراب، جناح اسپتال میں علاج جاری
صنم جاوید کی طبیعت خراب ہونے کے بعد انہیں فوری طور پر کوٹ لکھپت جیل سے جناح اسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی متحرک رہنما صنم جاوید کی اچانک طبیعت خراب ہونے کی خبر سامنے آنے کے بعد سیاسی اور عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق صنم جاوید کو جیل میں آنکھ اور معدے میں شدید تکلیف کی شکایت ہوئی، جس کے بعد جیل انتظامیہ نے انہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ تاہم طبیعت مزید بگڑنے پر ڈاکٹروں نے انہیں فوری طور پر جناح اسپتال منتقل کرنے کی سفارش کی۔
صنم جاوید کے شوہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی اہلیہ کی بیماری سے متعلق مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی جا رہیں، جس کی وجہ سے خاندان شدید پریشانی میں مبتلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں صرف اتنا بتایا گیا کہ آنکھ اور معدے میں تکلیف کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
اس وقت جناح اسپتال کی ایمرجنسی وارڈ میں ڈاکٹروں کی خصوصی ٹیم صنم جاوید کا معائنہ کر رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف طبی ٹیسٹ بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ بیماری کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔ تاہم اسپتال انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ میڈیکل رپورٹ جاری نہیں کی گئی۔
سیاسی کارکنان اور پی ٹی آئی کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر صنم جاوید کی جلد صحتیابی کیلئے دعاؤں اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔ مختلف سیاسی شخصیات نے بھی ان کی صحت کے حوالے سے تشویش ظاہر کی ہے۔
صنم جاوید پاکستان تحریک انصاف کی سرگرم اور نمایاں خواتین رہنماؤں میں شمار ہوتی ہیں۔ حالیہ سیاسی کشیدگی اور مختلف مقدمات کے دوران وہ کئی بار خبروں کا حصہ رہی ہیں۔ ان کی گرفتاری اور بعد ازاں جیل منتقلی کے بعد بھی سیاسی حلقوں میں ان کے معاملات زیر بحث رہے۔
جیل ذرائع کے مطابق قیدیوں کی صحت کے حوالے سے تمام قانونی اور طبی تقاضے پورے کیے جاتے ہیں، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اسپتال منتقلی کی سہولت موجود ہوتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صنم جاوید کو بھی بروقت طبی امداد فراہم کی گئی۔
قانونی اور انسانی حقوق کے حلقوں نے اس واقعے کے بعد جیلوں میں طبی سہولیات کے معیار پر ایک بار پھر سوالات اٹھائے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جیلوں میں قیدیوں کی صحت کا مکمل خیال رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے، خاص طور پر ایسے افراد جو پہلے سے ذہنی دباؤ یا دیگر مسائل کا شکار ہوں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق صنم جاوید کی طبیعت خراب ہونے کی خبر ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ملک کی سیاسی فضا پہلے ہی خاصی کشیدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے پر عوامی توجہ غیر معمولی طور پر مرکوز ہو گئی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق آنکھ اور معدے کی تکالیف مختلف وجوہات کی بنا پر ہو سکتی ہیں، جن میں ذہنی دباؤ، خوراک، انفیکشن یا دیگر طبی مسائل شامل ہیں۔ تاہم حتمی صورتحال مکمل طبی معائنے اور رپورٹس کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔
جناح اسپتال لاہور صوبے کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں شمار ہوتا ہے جہاں ایمرجنسی سمیت مختلف شعبوں میں جدید طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ اسپتال میں روزانہ بڑی تعداد میں مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے خصوصی ٹیمیں موجود رہتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس خبر کے بعد مختلف افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں، تاہم صنم جاوید کے اہل خانہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کیا جائے اور صرف مستند ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کو اہمیت دی جائے۔
پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے بھی حکومت اور جیل انتظامیہ سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ صنم جاوید کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور ان کی صحت کے حوالے سے شفاف معلومات سامنے لائی جائیں۔
عوامی سطح پر بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، خاص طور پر خواتین سیاسی کارکنان کی صحت اور جیلوں میں حالات کے حوالے سے بحث دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق مسلسل سیاسی دباؤ، مقدمات اور جیل کا ماحول بعض اوقات قیدیوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر اثر ڈال سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے معاملات میں فوری اور معیاری طبی امداد نہایت ضروری سمجھی جاتی ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ صنم جاوید کی طبیعت خراب ہونے کی خبر نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ ان کی صحت سے متعلق مزید تفصیلات اور میڈیکل رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

