امریکا ایران جنگ بندی معاہدہ: آبنائے ہرمز کھولنے اور جوہری مذاکرات کی نئی تجویز سامنے آگئی

امریکا ایران جنگ بندی معاہدہ اور آبنائے ہرمز کی نمائندہ تصویر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

امریکا اور ایران میں کشیدگی کم کرنے کیلئے 3 مرحلوں پر مشتمل بڑا معاہدہ زیر غور

امریکا ایران جنگ بندی معاہدہ سے متعلق نئی تفصیلات منظر عام پر آگئی ہیں، جن کے مطابق دونوں ممالک مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم کرنے، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے اور وسیع سیاسی و جوہری مذاکرات شروع کرنے کیلئے ایک مرحلہ وار معاہدے پر غور کر رہے ہیں۔

‫غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدہ ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) کی صورت میں تیار کیا جا رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد خطے میں جاری بحران کو کم کرنا اور عالمی تجارتی راستوں کو دوبارہ محفوظ بنانا ہے۔‬

رپورٹس کے مطابق یہ امریکا ایران جنگ بندی معاہدہ تین اہم مراحل پر مشتمل ہوگا۔ پہلے مرحلے میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا، جس سے خطے میں فوری کشیدگی کم ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

دوسرے مرحلے میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کر کے جہازوں کی آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے گی۔ یاد رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل سپلائی کا ایک انتہائی اہم راستہ ہے، جہاں سے دنیا کے بڑے حصے کو تیل فراہم کیا جاتا ہے۔

تیسرے مرحلے میں 30 روزہ مذاکراتی دور شروع ہوگا، جس میں بڑے سیاسی، اقتصادی اور جوہری معاملات پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔

امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن نے تہران کے سامنے ایک 14 نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے، جس کے تحت ایران کو کم از کم 12 سال تک یورینیم افزودگی روکنے اور جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کی ضمانت دینا ہوگی۔

اس منصوبے کے مطابق ایران کو تقریباً 440 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیم بھی حوالے کرنا ہوگا تاکہ عالمی سطح پر جوہری خدشات کو کم کیا جا سکے۔

امریکا ایران جنگ بندی معاہدہ کے تحت امریکا مرحلہ وار ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں نرم کرے گا۔ رپورٹس کے مطابق اربوں ڈالر مالیت کے منجمد ایرانی اثاثے بحال کیے جا سکتے ہیں جبکہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی بھی ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ معاہدہ کامیاب ہو جاتا ہے تو اس سے نہ صرف مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہوگی بلکہ عالمی معیشت کو بھی بڑا ریلیف مل سکتا ہے۔

عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں حالیہ کشیدگی کے باعث شدید متاثر رہی ہیں، جبکہ سرمایہ کاروں میں بے یقینی پائی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا ایران جنگ بندی معاہدہ عالمی توانائی مارکیٹ میں استحکام پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

معاہدے پر دستخط کے 30 دن کے اندر دونوں ممالک آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال کرنے پر بھی متفق ہو سکتے ہیں، جس سے عالمی بحری تجارت دوبارہ معمول پر آنے کی امید ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی نے عالمی سفارتی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی تھی، کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت پر پڑ رہے تھے۔

سیاسی ماہرین کے مطابق اس مجوزہ معاہدے کی کامیابی دونوں ممالک کی سفارتی لچک اور مذاکراتی سنجیدگی پر منحصر ہوگی۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کیلئے یورینیم افزودگی روکنا ایک حساس معاملہ ہے، جبکہ امریکا بھی خطے میں اپنے اتحادیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔

امریکا ایران جنگ بندی معاہدہ کے حوالے سے عالمی برادری کی نظریں اب آنے والے چند ہفتوں پر مرکوز ہیں، کیونکہ یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔

اقوام متحدہ اور کئی یورپی ممالک بھی کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں، جبکہ عالمی طاقتیں چاہتی ہیں کہ خطے میں جنگ کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔

ماہرین اقتصادیات کے مطابق اگر آبنائے ہرمز مکمل طور پر بحال ہو جاتی ہے تو عالمی تیل سپلائی بہتر ہوگی، جس سے تیل کی قیمتوں میں استحکام آسکتا ہے اور مہنگائی کے عالمی دباؤ میں بھی کمی متوقع ہے۔

امریکا ایران جنگ بندی معاہدہ کی ممکنہ کامیابی عالمی سرمایہ کاروں کیلئے بھی ایک مثبت اشارہ ہوگی، کیونکہ خطے میں امن عالمی تجارت اور سرمایہ کاری کیلئے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔

آخر میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس معاہدے کے کئی نکات اب بھی حساس نوعیت کے ہیں، تاہم دونوں ممالک کی مذاکرات پر آمادگی اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی حل کی گنجائش موجود ہے، جو مشرق وسطیٰ اور عالمی معیشت دونوں کیلئے خوش آئند پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]