ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجاویز مسترد، ایران کا سخت ردعمل، ہتھیار ڈالنے والا معاہدہ قبول نہیں
تہران: ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجاویز مسترد کیے جانے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی منصوبہ دراصل ’’ٹرمپ کی لالچ کے سامنے ایران کی ہتھیار ڈالنے‘‘ کے مترادف تھا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران نے اپنے تازہ جواب میں واضح کیا ہے کہ ایران کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو اس کی خودمختاری، قومی مفادات یا بنیادی حقوق کے خلاف ہو۔

الجزیرہ کے مطابق ایرانی میڈیا نے اپنے ٹیلیگرام بیان میں کہا کہ ایران کی جانب سے دیے گئے جواب میں قومی خودمختاری اور خطے میں اپنے مؤقف پر زور دیا گیا ہے جبکہ امریکا سے جنگی نقصانات کے ازالے کا مطالبہ بھی شامل کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنے مؤقف کو دہرایا ہے اور واضح کیا ہے کہ خطے کی سلامتی اور بحری گزرگاہوں سے متعلق اس کی پالیسی غیر متزلزل ہے۔
آئی آر آئی بی کے مطابق ایرانی تجاویز میں یہ مطالبہ بھی شامل ہے کہ امریکا ایران پر عائد تمام پابندیاں ختم کرے اور بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثے فوری طور پر بحال کیے جائیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی ایرانی تجاویز کو ’’ناقابل قبول‘‘ قرار دے چکے ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز، پابندیوں کے خاتمے اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات اب بھی کسی بڑے معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں جبکہ خطے کی صورتحال آنے والے دنوں میں مزید اہم رخ اختیار کر سکتی ہے۔
BREAKING: Iran says the US is seeking “any form of victory” and has broken every promise it has made over the past 20 years, Foreign Ministry spokesperson says.
🔴 LIVE updates: https://t.co/wil9UgTI9s pic.twitter.com/88voCtQF0t
— Al Jazeera English (@AJEnglish) May 11, 2026