ٹرمپ نے ایران پر مجوزہ حملہ مؤخر کردیا، معاہدہ ہونے کی صورت میں فوجی کارروائی نہیں ہوگی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر مجوزہ حملہ مؤخر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران پر مجوزہ فوجی حملہ فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ایران اور خطے کے دیگر ممالک کی درخواست پر کیا گیا، تاہم حملے کی مستقل منسوخی ایران کے ساتھ جلد معاہدہ طے پانے سے مشروط ہوگی۔

سعودی وزیر دفاع کی صدر ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات، محمد بن سلمان کا اہم پیغام پہنچایا

سعودی وزیر دفاع ٹرمپ ملاقات کے دوران اہم سفارتی گفتگو

سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات کی، جس میں ولی عہد محمد بن سلمان کا خصوصی پیغام پہنچایا گیا جبکہ ایران، عراق، حوثیوں اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی اہم گفتگو ہوئی۔

صدر ٹرمپ نے ایران پر ایک روزہ حملے روک دیے، سفارت کاری کو موقع دینے کا فیصلہ

ٹرمپ ایران حملے روکنے کا حکم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارت کاری کو مزید موقع دینے کیلئے امریکی فوج کو ایک روز تک ایران پر نئے حملے نہ کرنے کی ہدایت جاری کردی، جبکہ عمانی ثالثی کے تحت ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

امریکا ایران ممکنہ کارروائی، مشرقِ وسطیٰ میں خصوصی فوجی دستوں کی تعیناتی شروع

امریکا ایران ممکنہ کارروائی کے لیے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی دستوں کی تعیناتی

امریکی میڈیا کے مطابق ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے پیش نظر امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اسپیشل فورسز، طبی عملہ، اضافی اسلحہ اور لڑاکا طیارے تعینات کرنا شروع کر دیے ہیں تاکہ فوجی آپشنز کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

فیفا ورلڈ کپ 2026: لامین یمال اور ڈونلڈ ٹرمپ کے مصافحے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر زیرِ بحث

لامین یمال اور ٹرمپ کا مصافحہ فیفا ورلڈ کپ 2026

فیفا ورلڈ کپ 2026 کی اختتامی تقریب میں اسپین کے نوجوان اسٹار لامین یمال اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والا مصافحہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔ ویڈیو کے مختلف انداز سے تجزیے کیے جا رہے ہیں، تاہم واقعے کی کوئی سرکاری وضاحت موجود نہیں۔

ٹرمپ نے ایران کے مؤقف کو مسترد کر دیا، کہا: مفاہمتی یادداشت پر عمل نہ کرے تو بھی پروا نہیں

ڈونلڈ ٹرمپ ایران اور مفاہمتی یادداشت کے متعلق بیان دیتے ہوئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے امریکا ایران مفاہمتی یادداشت پر عمل نہ کرنے کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس فیصلے کی کوئی پروا نہیں، جبکہ واشنگٹن کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔