سعودی وزیر دفاع کی صدر ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات، محمد بن سلمان کا اہم پیغام پہنچایا

سعودی وزیر دفاع ٹرمپ ملاقات کے دوران اہم سفارتی گفتگو
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

سعودی وزیر دفاع ٹرمپ ملاقات: ولی عہد کا خصوصی پیغام امریکی صدر تک پہنچا دیا

سعودی وزیر دفاع ٹرمپ ملاقات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دی جا رہی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات کی، جس کا بنیادی مقصد سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا خصوصی پیغام امریکی صدر تک پہنچانا تھا۔

رپورٹس کے مطابق ملاقات میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال، ایران سے متعلق کشیدگی، عراق میں حالیہ پیش رفت، حوثی گروپ کی سرگرمیوں اور علاقائی سلامتی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس سے قبل سعودی وزیر دفاع نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی چاہتا ہے اور خطے میں استحکام کو ترجیح دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران نواز عراقی ملیشیاؤں کی جانب سے بنیادی ڈھانچے اور توانائی کی تنصیبات پر حملوں نے ایک سنگین صورتحال پیدا کی، جس کے باعث سعودی عرب کو دفاعی ردعمل دینا پڑا۔

سعودی وزیر دفاع نے واضح کیا کہ عراق میں کارروائی کا مقصد کشیدگی میں اضافہ نہیں بلکہ یہ پیغام دینا تھا کہ مملکت اپنی قومی سلامتی اور دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

انہوں نے امریکی نائب صدر کو یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ایران کے ساتھ مزید سخت مؤقف اپنانے پر زور دے رہے ہیں، تاہم سعودی عرب سفارتی ذرائع اور کشیدگی میں کمی کو زیادہ مؤثر راستہ سمجھتا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق سعودی حکام نے واضح کیا کہ عراق میں کارروائی کا ایک مقصد حوثی گروپ کو بھی واضح پیغام دینا تھا کہ مملکت اپنے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

شہزادہ خالد بن سلمان نے مزید کہا کہ حوثیوں سے نمٹنے کے لیے فی الحال امریکی فوجی مداخلت کی ضرورت نہیں، کیونکہ سعودی عرب اس چیلنج سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ حوثیوں کے ساتھ مذاکرات بھی جاری ہیں۔

READ MORE FAQS
  1. سعودی وزیر دفاع نے کس سے ملاقات کی؟

انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات کی۔

  1. ملاقات کا بنیادی مقصد کیا تھا؟

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا خصوصی پیغام امریکی صدر تک پہنچانا۔

  1. ملاقات میں کن موضوعات پر گفتگو ہوئی؟

ایران، عراق، حوثیوں، علاقائی سلامتی، مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال ہوا۔

  1. سعودی عرب کا ایران کے حوالے سے کیا مؤقف ہے؟

سعودی عرب نے کشیدگی میں کمی، سفارت کاری اور علاقائی استحکام کو اپنی ترجیح قرار دیا۔