کفایت شعاری مہم: بازار 9، شادی ہال 10 اور ریسٹورنٹس 11 بجے بند ہوں گے
اسلام آباد، 17 ستمبر 2026: وفاقی حکومت نے ایندھن کی بچت اور اضافی کفایت شعاری کے لیے مختلف اقدامات پر فوری عملدرآمد کے احکامات جاری کردیے ہیں، جن کے تحت دکانیں، مارکیٹس، شاپنگ مالز اور بازار رات 9 بجے، شادی ہالز اور مارکیز رات 10 بجے جبکہ ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس رات 11 بجے بند ہوں گے۔
وفاقی کابینہ ڈویژن نے کفایت شعاری مہم اور ایندھن کی بچت سے متعلق اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد کے لیے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کی سفارشات پر غور کے بعد کفایت شعاری مہم اور ایندھن بچت کے اقدامات پر فوری طور پر عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔

سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں 50 فیصد کمی
حکومت نے سرکاری گاڑیوں کے لیے تین ماہ تک ایندھن کی فراہمی میں 50 فیصد کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس کے علاوہ مالی سال 2026-27 کے پورے عرصے کے لیے نان ای آر ای بجٹ میں 5 فیصد کمی کی جائے گی، جس کا اطلاق ماہانہ بنیادوں پر ہوگا۔ تاہم ترقیاتی منصوبے اس کٹوتی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
یہ اقدامات بیرون ملک پاکستانی مشنز اور وہاں تعینات مختلف پیشہ ورانہ گروپس اور سروسز سے وابستہ افسران و اہلکاروں پر بھی لاگو ہوں گے، تاہم رہائش کے کرایوں، تعلیمی فیس اور طبی سہولیات سے متعلق واجبات اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔
گاڑیوں اور پائیدار اشیا کی خریداری پر پابندی
احکامات کے تحت تمام اقسام کی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے، جبکہ تمام پائیدار اشیا کی خریداری بھی ممنوع ہوگی۔ تاہم آئی ٹی سے متعلق خریداری اس پابندی سے مستثنیٰ رہے گی۔
مزید برآں تین ماہ کے لیے بیرون ملک تمام سرکاری دوروں اور سفری سرگرمیوں پر مکمل پابندی ہوگی، حتیٰ کہ لازمی نوعیت کے دورے بھی اس پابندی میں شامل ہوں گے۔ تاہم اسکالرشپس کے تحت کیے جانے والے دورے مستثنیٰ ہوں گے۔
سرکاری تقریبات اور اجلاسوں پر بھی پابندیاں
حکومت نے سرکاری اجلاسوں کے لیے ویڈیو کانفرنسنگ کو ترجیح دینے کی ہدایت کی ہے۔
غیرملکی وفود کے علاوہ سرکاری عشائیوں کی میزبانی پر مکمل پابندی ہوگی، جبکہ حکومتی فنڈز سے ہونے والے سرکاری سیمینارز، تربیتی پروگرامز اور کانفرنسز پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

ناگزیر سرکاری تقریبات کے لیے سرکاری آڈیٹوریمز اور کمیٹی رومز استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
شادیوں میں صرف ون ڈش
کفایت شعاری مہم کے احکامات کے مطابق شادی کی تقریبات میں صرف ایک ڈش پیش کی جائے گی۔
دکانیں، مارکیٹس، شاپنگ مالز اور بازار رات 9 بجے بند ہوں گے، جبکہ شادی ہالز، مارکیز اور دیگر تقریبات کے مقامات رات 10 بجے بند کیے جائیں گے۔
ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس رات 11 بجے بند ہوں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
ضروری شعبوں کو اوقات کار کی پابندی سے استثنیٰ
فارمیسیز، اسپتال، کلینکس، میڈیکل لیبارٹریز اور پٹرول پمپس سمیت دیگر ضروری شعبوں کو مقررہ اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
اسی طرح بیکری، تندور، دودھ و ڈیری شاپس، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اور جم بھی اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
حکومت کے مطابق کفایت شعاری کے اقدامات سے استثنیٰ کی درخواستوں پر کیس ٹو کیس بنیاد پر غور کیا جائے گا، جبکہ صوبائی اور علاقائی حکومتیں بھی اسی نوعیت کے اقدامات اپنانے پر غور کرسکتی ہیں۔
READ MORE FAQS”
سوال 1: بازار رات کتنے بجے بند ہوں گے؟
جواب: نئے احکامات کے مطابق دکانیں، مارکیٹس، شاپنگ مالز اور بازار رات 9 بجے بند ہوں گے۔
سوال 2: شادی ہال کتنے بجے بند ہوں گے؟
جواب: شادی ہالز، مارکیز اور دیگر تقریبات کے مقامات رات 10 بجے بند ہوں گے۔
سوال 3: ریسٹورنٹس کتنے بجے بند ہوں گے؟
جواب: ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس رات 11 بجے بند ہوں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری مستثنیٰ ہوں گے۔
سوال 4: کن شعبوں کو اوقات کار کی پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا؟
جواب: فارمیسی، اسپتال، کلینک، میڈیکل لیبارٹری، پٹرول پمپس، بیکری، تندور، دودھ و ڈیری شاپس، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اور جم مستثنیٰ ہوں گے۔






