بحیرہ عرب میں بھارتی اور پاکستانی بحری جہاز آپس میں ٹکرا گئے، دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سفارت کار طلب کرلیے

بحیرہ عرب میں بھارتی اور پاکستانی بحری جہازوں کا تصادم
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

بحیرہ عرب میں بھارتی اور پاکستانی بحری جہاز آپس میں ٹکرا گئے، دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سفارت کار طلب کرلیے

نئی دہلی/اسلام آباد، 17 ستمبر 2026: بحیرہ عرب میں بین الاقوامی پانیوں کے قریب بھارتی اور پاکستانی بحری جہازوں کے درمیان تصادم کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے اعلیٰ سفارتی حکام کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ واقعہ منگل کو پیش آیا، جس کے بعد بھارت اور پاکستان نے تصادم کا ذمہ دار ایک دوسرے کو قرار دیتے ہوئے 1991 کے دوطرفہ معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات بھی عائد کیے۔

پاکستان کا بھارتی بحری جہاز پر ’اشتعال انگیز‘ کارروائی کا الزام

مکہ معاہدے پر حملے کے ردعمل سے متعلق ڈی جی آئی ایس پی آر کا بیان
مکہ معاہدے کے دفاعی پہلو پر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا مؤقف۔

دوسری جانب پاکستان نے بھی اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے چارج ڈی افیئرز کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستانی بحریہ اپنی دو سالہ مشق SEASPARK-26 اپنے خصوصی اقتصادی زون (EEZ) میں کررہی تھی، اسی دوران بھارتی بحری جہاز نے پاکستانی بحری جہاز کے انتہائی قریب خطرناک اور جارحانہ انداز میں نقل و حرکت کی۔

پاکستان نے بھارتی اقدام کو ’’انتہائی اشتعال انگیز اور ناقابل قبول‘‘ قرار دیا۔

پاکستانی وزارت خارجہ نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ بھارت سے ایسے اقدامات سے گریز کرنے کا مطالبہ کرے جو جنوبی ایشیا کے استحکام کو متاثر کرسکتے ہیں۔

1991 کے معاہدے کا حوالہ

دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر Advance Notice on Military Exercises, Manoeuvres and Troops Movements معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

یہ معاہدہ 1991 میں اس مقصد کے تحت طے پایا تھا کہ دونوں ممالک کی فوجی سرگرمیوں کو غلط سمجھنے یا غلط اندازے سے کسی بحرانی صورتحال کے پیدا ہونے کے امکانات کو کم کیا جاسکے۔

بھارت نے بالخصوص معاہدے کے آرٹیکل 10 کا حوالہ دیا، جس کے مطابق بین الاقوامی پانیوں میں آپریشن کے دوران دونوں ممالک کے بحری جہازوں اور آبدوزوں کے درمیان حادثات سے بچنے کے لیے کم از کم تین بحری میل کا فاصلہ برقرار رکھا جانا چاہیے۔

بھارتی اور پاکستانی بحری جہاز کے تصادم کے بعد سفارتی احتجاج

مکہ مکرمہ کی جانب مبینہ ڈرون کے حوالے سے سعودی عرب کا دعویٰ، حوثیوں کی تردید
سعودی عرب نے مکہ مکرمہ کی جانب حوثیوں کا ڈرون بھیجے جانے کا دعویٰ کیا، حوثیوں نے الزام مسترد کردیا۔

واقعے کے بعد دونوں ممالک کی جانب سے سفارتی سطح پر احتجاج اس وقت سامنے آیا ہے جب بھارت اور پاکستان کے تعلقات پہلے ہی گزشتہ برس ہونے والی فوجی جھڑپوں کے بعد حساس صورتحال سے گزر رہے ہیں۔

دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے اقدامات کو معاہدوں اور علاقائی استحکام کے لیے تشویش کا باعث قرار دیا ہے، تاہم تصادم کی ذمہ داری سے متعلق دونوں حکومتوں کے مؤقف مختلف ہیں۔

بحری جہاز کو نقصان کتنا ہوا؟

بھارت نے کہا ہے کہ بھارتی اور پاکستانی بحری جہاز کے تصادم کے واقعے سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا، تاہم پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں پاکستانی بحری جہاز کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کی تفصیلات واضح نہیں کی گئیں۔

فی الحال دستیاب معلومات کے مطابق واقعے کے مکمل حالات اور دونوں بحری جہازوں کو پہنچنے والے نقصان کی آزادانہ تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

بھارت کا پاکستان پر الزام

بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے چارج ڈی افیئرز کو طلب کرکے بھارتی بحری یونٹ کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر شدید احتجاج کیا گیا۔

بھارت نے پاکستانی بحری یونٹ کے رویے کو ’’ناقابل قبول اور غیر پیشہ ورانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام فوجی یونٹس کو مناسب احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور دونوں ممالک کے درمیان موجود متعلقہ معاہدوں کی پاسداری کرنی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جاسکے۔

بھارت کا کہنا ہے کہ بھارتی اور پاکستانی بحری جہاز تصادم کے نتیجے میں کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔

اہم وضاحت: تصادم کی ذمہ داری سے متعلق بھارت اور پاکستان کے سرکاری بیانات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ بھارت پاکستانی بحری یونٹ کو ذمہ دار قرار دے رہا ہے، جبکہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ بھارتی بحری جہاز نے اس کے جہاز کے قریب خطرناک انداز میں نقل و حرکت کی۔ دونوں فریق 1991 کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی ایک دوسرے پر عائد کر رہے ہیں۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: بھارتی اور پاکستانی بحری جہاز کہاں ٹکرائے؟
جواب: دونوں بحری جہازوں کے درمیان تصادم بحیرہ عرب میں ہوا، جسے رپورٹ میں بین الاقوامی پانیوں میں پیش آنے والا واقعہ بتایا گیا ہے۔

سوال 2: بھارت اور پاکستان نے تصادم کا ذمہ دار کس کو قرار دیا؟
جواب: بھارت اور پاکستان دونوں نے واقعے کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کی ہے۔ بھارت نے پاکستانی بحری یونٹ کے رویے پر اعتراض کیا، جبکہ پاکستان نے بھارتی بحری جہاز کی خطرناک قریبی نقل و حرکت کو وجہ قرار دیا۔

سوال 3: SEASPARK-26 کیا ہے؟
جواب: پاکستان کے مطابق SEASPARK-26 اس کی دو سالہ بحری مشق ہے، جس کے دوران پاکستانی بحریہ اپنے خصوصی اقتصادی زون میں مشقیں کررہی تھی۔

سوال 4: بھارت اور پاکستان کے درمیان 1991 کے معاہدے کا کیا تعلق ہے؟
جواب: دونوں ممالک نے 1991 کے فوجی مشقوں، نقل و حرکت اور فوجی سرگرمیوں سے متعلق معاہدے کا حوالہ دیا ہے۔ بھارت نے خاص طور پر آرٹیکل 10 کا ذکر کیا، جس میں بین الاقوامی پانیوں میں بحری جہازوں اور آبدوزوں کے درمیان کم از کم تین بحری میل کا فاصلہ رکھنے کی شرط شامل ہے۔

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:28 AM
طلوع آفتاب05:52 AM
ظہر12:02 PM
عصر03:33 PM
مغرب06:13 PM
عشاء07:36 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6