سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان کسی بھی حد تک جائے گا: ڈی جی آئی ایس پی آر

پاکستان سعودی عرب دفاع کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان سعودی عرب دفاع کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ سعودی سلامتی کے لیے پاکستان کا عزم غیر مشروط ہے

پاکستان سعودی عرب دفاع کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ سفارتی اور عملی طور پر مکمل طور پر کھڑا ہے اور سعودی سلامتی کے لیے اس کا عزم غیر مشروط ہے۔

انٹرویو میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ تعاون دونوں مقدس ترین مقامات، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سمیت سعودی عرب کے تحفظ کے عزم تک پھیلا ہوا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے عوام، افواج اور قیادت کے درمیان تاریخی روابط اس تعاون کی بنیاد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کو کسی بھی جارحیت کے خلاف دفاع فراہم کرتا رہے گا۔ ان کے بقول سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پاکستان کا عزم غیر مشروط ہے اور اس حوالے سے پاکستان اپنے مؤقف پر قائم ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے مزید کہا کہ پاکستان سعودی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ ان کے مطابق خطے میں موجود دیگر حکومتوں سے بھی مشاورت کی جا رہی ہے تاکہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں مذاکرات اور پُرامن حل کی کوششوں کو آگے بڑھایا جاسکے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے خطے کی پیچیدہ صورتحال کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کے راستے کو اہم سمجھتا ہے اور متعلقہ فریقین کو دوبارہ بات چیت کی طرف لانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

انہوں نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو موجودہ پیچیدہ فوجی صورتحال سے نکلنے کے لیے واحد حقیقی راستہ قرار دیا۔ ان کے مطابق پاکستان واشنگٹن اور تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے مشترکہ بنیاد تلاش کر رہا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کے مطابق پاکستان کی کوشش ہے کہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور پائیدار امن کے لیے سفارتی ذرائع کو بروئے کار لایا جائے۔ اس سلسلے میں پاکستان سعودی قیادت سمیت خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی تعلقات کے تناظر میں دونوں ممالک کے دفاعی اور سفارتی روابط بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے انٹرویو میں سعودی سلامتی کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف اور موجودہ علاقائی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر بات کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ نہ صرف سفارتی سطح پر بلکہ عملی طور پر بھی کھڑا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان عوامی، عسکری اور قیادتی سطح کے تاریخی تعلقات باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

موجودہ علاقائی صورتحال کے دوران پاکستان کی جانب سے مذاکرات اور سفارتکاری پر زور ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں مختلف فریقوں کے درمیان کشیدگی موجود ہے۔ پاکستان کا مؤقف، جیسا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بیان کیا، سفارتی رابطوں کے ذریعے مسئلے کا پُرامن حل تلاش کرنے اور مذاکرات کا راستہ بحال کرنے کی کوششوں پر مرکوز ہے۔

READ MORE FAQS

سوال: ڈی جی آئی ایس پی آر نے سعودی عرب کے بارے میں کیا کہا؟
جواب: لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کے مطابق پاکستان سعودی عرب کے ساتھ سفارتی اور عملی طور پر مکمل طور پر کھڑا ہے اور سعودی سلامتی کے لیے اس کا عزم غیر مشروط ہے۔

سوال: پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے حوالے سے کیا مؤقف رکھتا ہے؟
جواب: ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان سعودی عرب کو کسی بھی جارحیت کے خلاف دفاع فراہم کرتا رہے گا۔

سوال: کیا پاکستان سعودی قیادت سے رابطے میں ہے؟
جواب: جی ہاں، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کے مطابق پاکستان سعودی قیادت سے مسلسل رابطے میں ہے۔

سوال: خطے کے مسائل کے حل کے لیے پاکستان کیا کوشش کر رہا ہے؟
جواب: ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان خطے کی حکومتوں سے مشاورت کے ذریعے مذاکرات اور پُرامن حل کی کوشش کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ

فجر04:29 AM
طلوع آفتاب05:53 AM
ظہر12:02 PM
عصر03:32 PM
مغرب06:11 PM
عشاء07:35 PM
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6