امریکا ایران جنگ: خلیجی ممالک ٹرمپ سے مایوس، امریکی اڈوں پر نظرثانی شروع

امریکا ایران جنگ کے دوران خلیجی ممالک اور امریکی فوجی اڈے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

خلیجی ممالک ٹرمپ سے مایوس، امریکی فوجی اڈوں پر غور

امریکا ایران جنگ کے دوران خلیجی ممالک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے مایوسی اور بے چینی بڑھنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے عرب، یورپی اور امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ بعض خلیجی اتحادی ممالک خطے میں امریکی سکیورٹی کردار اور اپنی سرزمین پر امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی پر دوبارہ غور کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین سمیت بعض خلیجی حکومتیں ایران کے ساتھ جاری جنگ اور سفارتی کوششوں کی صورتحال پر تشویش کا شکار ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ سے مایوسی کا دعویٰ

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ امن کے لیے ضروری سفارتی عمل کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کئی ماہ سے جاری جنگ اور ایران و اس کے اتحادی گروہوں کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد بعض خلیجی ممالک میں امریکی فوجی موجودگی کے فائدے اور نقصانات پر بحث شروع ہوگئی ہے۔

ایک خلیجی ملک کے اعلیٰ عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار نے دعویٰ کیا کہ جنگ کا آغاز امریکا نے کیا جبکہ اس کی قیمت خلیجی ممالک ادا کر رہے ہیں۔

یہ بیان خطے کے بعض اتحادی ممالک میں پیدا ہونے والی مبینہ بے چینی کی عکاسی کرتا ہے۔

امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی پر غور

رپورٹ کے مطابق بعض خلیجی ممالک اپنی سرزمین پر بڑے امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی جاری رکھنے یا نہ رکھنے کے معاملے پر بھی غور کر رہے ہیں۔

قطر اور بحرین میں اہم امریکی فوجی تنصیبات موجود ہیں، جبکہ امریکا طویل عرصے سے خلیجی خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو علاقائی سکیورٹی اور اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے اہم قرار دیتا رہا ہے۔

تاہم موجودہ صورتحال میں بعض ممالک نئے سکیورٹی انتظامات اور متبادل راستوں پر غور کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ خلیجی ممالک کے لیے امریکا کی اہمیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔

خلیجی ممالک اب بھی واشنگٹن کو اپنا قریبی سکیورٹی پارٹنر اور اسلحے کا اہم فراہم کنندہ سمجھتے ہیں۔ تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگ کے اثرات نے بعض حکومتوں کو اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے پر مجبور کیا ہے۔

یعنی امریکی شراکت داری برقرار رکھنے کے باوجود بعض ممالک اپنے دفاع کے لیے اضافی اور متبادل راستے تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مکہ دفاعی معاہدہ بھی اہم پیشرفت

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے کو ایک سینئر یورپی عہدیدار نے امریکا کے لیے اہم اشارہ قرار دیا ہے۔

یورپی عہدیدار کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ اس بات کا اشارہ ہے کہ خلیجی ممالک مستقبل میں اپنی دفاعی اور سکیورٹی ضروریات کے لیے صرف امریکا پر انحصار نہیں کرنا چاہتے۔

سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون میں اضافہ خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال میں اہم پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

موجودہ صورتحال نے مشرق وسطیٰ میں روایتی سکیورٹی اتحادوں اور شراکت داریوں کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

اگر خلیجی ممالک واقعی امریکی فوجی موجودگی کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرتے ہیں تو اس کے خطے کے دفاعی توازن اور امریکا کے مشرق وسطیٰ میں کردار پر دور رس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

تاہم واشنگٹن کے ساتھ خلیجی ممالک کے دیرینہ دفاعی، معاشی اور عسکری تعلقات کے باعث کسی بڑی پالیسی تبدیلی کا حتمی اندازہ موجودہ صورتحال میں قبل از وقت ہوگا۔

READ MORE FAQS
  1. خلیجی ممالک ٹرمپ سے کیوں مایوس ہیں؟

رپورٹ کے مطابق بعض خلیجی ممالک ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے مؤثر سفارتی کوششوں کی کمی پر تشویش کا شکار ہیں۔

  1. کون سے خلیجی ممالک امریکی پالیسی سے متاثر ہیں؟

رپورٹ میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین کا ذکر کیا گیا ہے۔

  1. کیا خلیجی ممالک امریکی فوجی اڈے ختم کر رہے ہیں؟

رپورٹ کے مطابق بعض ممالک امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی جاری رکھنے یا نہ رکھنے پر غور کر رہے ہیں؛ حتمی فیصلے کا ذکر نہیں کیا گیا۔

  1. قطر اور بحرین کی کیا اہمیت ہے؟

دونوں ممالک میں اہم امریکی فوجی اڈے موجود ہیں اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی کا اہم حصہ ہیں۔