پاکستان کی بجٹ عملدرآمد اصلاحات: آئی ایم ایف کیلئے نئی تجاویز تیار

پاکستان کی بجٹ اصلاحات، آئی ایم ایف مشاورت اور ڈیجیٹل فنانس نظام
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

بجٹ عملدرآمد اصلاحات کیلئے پاکستان کی تیاریاں تیز، آئی ایم ایف کو تجاویز آئندہ ماہ

آئی ایم ایف کا اجلاس، پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر قرض ملنے کا امکان

پاکستان میں مالیاتی نظم و ضبط، شفافیت اور حکومتی اخراجات کے مؤثر انتظام کے لیے وسیع پیمانے پر اصلاحات ناگزیر سمجھی جا رہی ہیں، اسی سلسلے میں وزارتِ خزانہ نے آئی ایم ایف کے تکنیکی ماہرین سے مشاورت کے بعد بجٹ عملدرآمد اصلاحات کا ایک جامع منصوبہ تیار کیا ہے، جسے آئندہ ماہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو پیش کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق بجٹ کی تیاری، اخراجات کی نگرانی، مالی شفافیت اور ڈیجیٹل نظام کے فروغ سے متعلق 15 سے زائد تجاویز زیرِ غور رہیں، جن میں سب سے اہم پبلک فنانس مینجمنٹ (PFM) سسٹم کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کرنا ہے، تاکہ مالیاتی معلومات تک بروقت رسائی، غلطیوں کی روک تھام اور اخراجات مؤثر نگرانی ممکن ہو سکے۔ تجویز یہ بھی سامنے آئی ہے کہ PFM کے ڈیجیٹائزڈ پلان کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے جو مالیاتی ڈیٹا کے معیار، حکومتی کارکردگی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی فعالیت کا جائزہ لے گی۔ اصلاحات میں بجٹ سازی کو مکمل طور پر ای آفس، ای پیڈز اور خودکار ڈیٹا سسٹمز پر منتقل کرنا شامل ہے، جس سے کاغذی کارروائی کم ہوگی، شفافیت بڑھے گی اور غلطیوں کے امکانات کم ہوں گے۔ مالیاتی ڈیٹا میں موجود تضادات کو دور کرنے کے لیے رئیل ٹائم ڈیٹا تک رسائی، اخراجات کی منظوری اور ریلیز کا خودکار ریکارڈ رکھنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔ بجٹ سازی میں وزارتِ خزانہ نے تمام وزارتوں کے ساتھ مزید مؤثر مشاورت پر زور دیا ہے تاکہ قومی ضروریات کے مطابق بجٹ ترتیب دیا جا سکے اور غیر ضروری فنڈز کی روک تھام ممکن ہو۔ آئی ایم ایف نے آئندہ بجٹ کے لیے ٹیکس پالیسی میں بھی بڑے پیمانے کی تبدیلیوں کی سفارشات دی ہیں جن میں سیلز ٹیکس نظام کو آسان بنانا، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور رعایات کم کرنا شامل ہے۔ وزارتِ خزانہ کا مؤقف ہے کہ ان تمام بجٹ عملدرآمد اصلاحات کا بنیادی مقصد مالی نظم و ضبط، شفافیت، ڈیجیٹل سسٹمز کی توسیع، اور پالیسی سازی میں ڈیٹا بیسڈ اپروچ کو فروغ دینا ہے تاکہ حکومتی وسائل کے بہتر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ اصلاحات مؤثر انداز میں نافذ ہو گئیں تو پاکستان کا مالیاتی ڈھانچہ جدید معیار کے مطابق ہو جائے گا، مالی بدانتظامی میں کمی آئے گی، کرپشن کے امکانات کم ہوں گے، وزارتوں کا ورک فلو بہتر ہوگا اور عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ بھی مضبوط ہوگی، جبکہ یہ تمام اقدامات ملکی معیشت کو ایک مضبوط اور شفاف مستقبل کی جانب لے جا سکتے ہیں۔

آئی ایم ایف رپورٹ پاکستان، اشرافیہ معاشی ترقی میں رکاوٹ بن گئی

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]