
ارب پتی جوڑے کا عطیہ: 29 کھرب روپے فلاحی کاموں کے لیے وقف
نینسی اور رچ کنڈر نے 29 کھرب روپے فلاحی کاموں کے لیے دینے کا فیصلہ کر لیا، عالمی سطح پر تعریف

نینسی اور رچ کنڈر نے 29 کھرب روپے فلاحی کاموں کے لیے دینے کا فیصلہ کر لیا، عالمی سطح پر تعریف

پاکستان نیوی کارروائی نے سمندری منشیات کا بڑے پیمانے پر نیٹ ورک پکڑا، امریکی سینٹ کام نے تحسین کی

ایران میں زلزلہ 5.35 شدت کا، سعودی عرب میں اثرات محسوس نہیں ہوئے، ماہرین صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے سال کے آغاز میں چین کا دورہ کریں گے، جہاں ان کی ملاقات صدر شی جن پنگ سے متوقع ہے۔ اس موقع پر ایک اہم تجارتی معاہدے پر دستخط کی امید ظاہر کی گئی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق یہ معاہدہ امریکا اور چین کے درمیان تعلقات میں نیا موڑ ثابت ہوگا، جبکہ آسٹریلیا کے ساتھ دفاعی تعاون بھی مزید مضبوط کیا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کی جانب سے روسی تیل خریدنے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ بھارت آئندہ روس سے تیل نہیں خریدے گا۔ بھارتی حکومت نے فوری طور پر اس بیان کی تردید کر دی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی پیدا ہوگئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا بیان امریکی انتخابی سیاست اور عالمی توانائی سیاست دونوں پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔

غزہ میں 42 فلسطینی شہید، صیہونی حملوں کے بعد جنگ بندی کا معاہدہ بحال — مصر، قطر اور ترکی نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔

امریکی قیادت نے ہنگامی طور پر مداخلت کی ہے تاکہ غزہ امن معاہدہ خطرے میں نہ پڑے۔

اسرائیلی فوج کے تازہ فضائی حملوں نے غزہ میں امن کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
38 فلسطینی شہید، 143 زخمی، رفح کراسنگ بند، اقوام متحدہ کی تشویش —
جنگ بندی کا مستقبل غیر یقینی۔

کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے امریکی فوج کی کولمبیا کے ساحلی پانیوں میں مبینہ کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملک کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ صدر نے کہا کہ امریکہ نے ایک بے گناہ ماہی گیر کو نشانہ بنایا اور کولمبیا کسی بیرونی طاقت کی مداخلت قبول نہیں کرے گا۔

یمن کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل عبدالکریم الغماری اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ حوثی حکومت نے ان کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے اسے “جنگی جرم” قرار دیا ہے جبکہ اسرائیل نے حملے کو دفاعی کارروائی کہا ہے۔
یہ واقعہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو نئی سطح پر لے آیا ہے جہاں ایران، ترکی، اور اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔