چمن آٹے کی قیمت میں خطرناک اضافہ، عوام کی مشکلات میں اضافہ

چمن آٹے کی قیمت میں بڑا اضافہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

چمن آٹے کی قیمت میں ایک ہفتے کے دوران بڑا اضافہ، انتظامیہ بے بس

چمن اور سرحدی علاقوں میں آٹے کی قیمتوں میں اچانک اور غیر معمولی اضافے نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ صرف ایک ہفتے کے قلیل عرصے میں آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے باعث غریب اور متوسط طبقہ شدید پریشانی کا شکار ہو چکا ہے۔ روزمرہ استعمال کی اس بنیادی غذائی ضرورت کی قیمت میں اضافے نے مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران آٹے کی 100 کلوگرام بوری کی قیمت میں 2500 روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مارکیٹ ذرائع اور فلور مل ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پنجاب سے آٹے کی ترسیل بند ہونے یا محدود ہونے کے باعث چمن اور دیگر سرحدی اضلاع میں آٹے کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں نے قیمتوں میں من مانا اضافہ کر دیا ہے۔

چمن کی مقامی مارکیٹوں میں ایک ہفتہ قبل جو 50 کلوگرام آٹے کی بوری 5000 روپے میں دستیاب تھی، وہی بوری اب 6300 روپے تک فروخت کی جا رہی ہے۔ بعض علاقوں میں تو قیمتیں اس سے بھی تجاوز کر چکی ہیں۔ شہریوں کے مطابق صرف چند دنوں میں 50 کلو آٹے کی قیمت میں 1000 سے 1200 روپے تک اضافہ ہوا ہے، جو غریب عوام کی قوتِ خرید سے کہیں زیادہ ہے۔

سرحدی ضلع ہونے کی وجہ سے چمن پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل سے دوچار ہے، لیکن آٹے کی قیمتوں میں اس بے تحاشا اضافے نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ دیہاڑی دار مزدور، کم آمدنی والے ملازمین اور بے روزگار افراد کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ مہنگائی پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام نظر آ رہی ہے۔ ریٹ کنٹرول کمیٹیاں صرف کاغذی کارروائیوں تک محدود ہیں جبکہ بازاروں میں من مانے نرخ وصول کیے جا رہے ہیں۔ دکاندار سرکاری نرخ ناموں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہے ہیں، مگر ان کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ دنوں میں آٹے کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب سے آٹے کی ترسیل فوری طور پر بحال کی جائے اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ قیمتوں کو قابو میں لایا جا سکے۔

مارکیٹ ایسوسی ایشن کے نمائندوں کے مطابق آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ٹرانسپورٹ کے مسائل، ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ اور پنجاب سے سپلائی میں تعطل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک آٹے کی باقاعدہ اور مسلسل ترسیل بحال نہیں ہوتی، قیمتوں میں استحکام آنا مشکل ہے۔

دوسری جانب سماجی حلقوں اور عوامی نمائندوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ غریب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ یوٹیلیٹی اسٹورز پر سستا آٹا فراہم کیا جائے اور خصوصی سبسڈی پیکجز متعارف کرائے جائیں تاکہ عوام کو کچھ سہولت میسر آ سکے۔

چمن کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی نے پہلے ہی ان کی کمر توڑ رکھی ہے۔ بجلی، گیس اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اب آٹا بھی عوام کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ ایک شہری نے کہا کہ "ہم مزدوری کر کے بمشکل بچوں کا پیٹ پالتے ہیں، لیکن آٹے کی اس قدر مہنگائی میں گزارا کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔”

ماہرین کے مطابق اگر حکومت نے فوری طور پر صورتحال کا نوٹس نہ لیا تو غذائی عدم تحفظ کا مسئلہ جنم لے سکتا ہے۔ آٹا چونکہ بنیادی خوراک ہے، اس کی قلت اور مہنگائی سماجی بے چینی اور احتجاج کا سبب بن سکتی ہے۔

آخر میں عوام نے وزیر اعلیٰ بلوچستان، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا فوری نوٹس لیا جائے، پنجاب سے سپلائی بحال کی جائے، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے اور ریٹ کنٹرول کے نظام کو مؤثر بنایا جائے تاکہ غریب عوام کو سکھ کا سانس نصیب ہو سکے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]