ایران میں احتجاج، امریکی دھمکیوں پر چین کا دوٹوک مؤقف، طاقت کے استعمال کی مخالفت، کسی بھی تنازع کا حل فوجی طاقت کے بجائے مذاکرات اور سیاسی عمل سے نکالا جائے
بیجنگ : ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں، ہلاکتوں میں اضافے اور امریکا کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکیوں پر چین کا اہم اور دوٹوک بیان سامنے آ گیا ہے۔ چین نے واضح کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے اور تمام ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے احترام کو ناگزیر سمجھتا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ چین کو امید ہے کہ ایران کی حکومت اور عوام موجودہ مشکل حالات پر قابو پا لیں گے اور ملک میں استحکام اور نظم و ضبط برقرار رہے گا۔
چینی ترجمان نے زور دیا کہ کسی بھی تنازع کا حل فوجی طاقت کے بجائے مذاکرات اور سیاسی عمل کے ذریعے نکالا جانا چاہیے، کیونکہ طاقت کا استعمال خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
چین کا دوٹوک مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممکن ہے مذاکرات سے پہلے ہی فوجی کارروائی کرنا پڑے۔ فلوریڈا سے واشنگٹن ڈی سی جاتے ہوئے صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگرچہ ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے اور ملاقات کے انتظامات کیے جا رہے ہیں، تاہم امریکا کے پاس انتہائی طاقتور آپشنز موجود ہیں جن میں فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی فوج ایران میں جاری مظاہروں اور شہری ہلاکتوں کی صورتحال کو قریب سے مانیٹر کر رہی ہے اور ایرانی اپوزیشن رہنماؤں سے بھی رابطے میں ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان سے رابطہ کریں گے تاکہ ایران میں انٹرنیٹ سروس کی بحالی میں مدد فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے اس ضمن میں ایلون مسک سے بات کرنے کا عندیہ بھی دیا تاکہ ایرانی عوام تک معلومات کی رسائی ممکن بنائی جا سکے۔
امریکی دھمکیوں کے جواب میں ایران کے وزیرِ خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہے، تاہم دباؤ یا دھمکیوں کے تحت کوئی فیصلہ نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے قومی مفادات کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چین کا دوٹوک مؤقف خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتا ہے اور یہ عالمی طاقتوں کے درمیان سفارتی محاذ پر ایک نئی صف بندی کی عکاسی کرتا ہے۔
Latin American and Caribbean countries are independent sovereign countries and have the right to choose their cooperation partners. pic.twitter.com/gtHnzIDD3I
— Mao Ning 毛宁 (@SpoxCHN_MaoNing) January 12, 2026
One Response