راولپنڈی میں ڈینگی کے حملے تیز، 24 گھنٹوں میں 22 نئے کیس رپورٹ
راولپنڈی: پنجاب کے اہم ترین شہروں میں شمار ہونے والا راولپنڈی اس وقت ڈینگی وائرس کے شدید حملے کی زد میں ہے۔ سال 2025 کے دوران اب تک ڈینگی کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور صورتحال روز بروز تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی کی جاری کردہ تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ڈینگی کے 22 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
ڈینگی کیسز کی مجموعی صورتحال
ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے مطابق سال 2025 میں اب تک 12 ہزار 338 افراد کی اسکریننگ مکمل کی جا چکی ہے، جن میں سے 815 افراد میں ڈینگی کی تصدیق ہو چکی ہے۔ یہ تعداد شہر میں موجود ڈینگی کے بڑھتے ہوئے خطرے کا واضح ثبوت ہے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ تاحال کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی، تاہم ماہرین صحت اور ضلعی حکام اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اگر حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر نہ بنایا گیا تو صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔
اسپتالوں میں زیرِ علاج مریضوں کی صورتحال
راولپنڈی کے مختلف سرکاری و نجی اسپتالوں میں اس وقت 88 مریض زیرِ علاج ہیں، جنہیں ڈینگی کی مخصوص علامات کے باعث داخل کیا گیا ہے۔ اسپتالوں میں ڈینگی وارڈز کو فعال کر دیا گیا ہے اور مریضوں کو خصوصی نگہداشت فراہم کی جا رہی ہے۔ تاہم، مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث اسپتالوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
انسداد ڈینگی مہم: ٹیمیں، معائنہ اور اقدامات
ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے مطابق ضلع بھر میں 1499 انسداد ڈینگی ٹیمیں فعال طور پر کام کر رہی ہیں، جو روزانہ کی بنیاد پر گھروں، دکانوں، دفاتر، زیر تعمیر عمارتوں، قبرستانوں اور پارکوں سمیت مختلف مقامات کا معائنہ کر رہی ہیں۔
اب تک 15 لاکھ 9 ہزار 479 مقامات کی چیکنگ مکمل کی جا چکی ہے، جن میں سے 23 ہزار 227 مقامات پر ڈینگی لاروا کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ انسدادِ ڈینگی ٹیموں نے مجموعی طور پر 1 لاکھ 95 ہزار 753 لاروا تلف کیے ہیں، جو کہ ایک بڑی کامیابی تصور کی جا سکتی ہے، مگر اس سے ڈینگی کے پھیلاؤ کی شدت کا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔
قانونی کارروائیاں اور سزائیں
ڈینگی ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ضلعی انتظامیہ نے کافی سخت اقدامات کیے ہیں:
- 4413 ایف آئی آرز درج کی گئیں۔
- 3475 چالان کیے گئے۔
- 1 کروڑ 8 لاکھ روپے سے زائد جرمانے عائد کیے گئے۔
- 1843 مقامات کو سیل بھی کیا گیا۔
یہ کارروائیاں ان افراد یا اداروں کے خلاف کی گئیں جو صفائی، پانی کے کھلے ذخائر یا مچھر افزائش روکنے میں غفلت کے مرتکب پائے گئے۔
متاثرہ علاقے اور نئے کیسز کی تفصیل
گزشتہ 24 گھنٹوں میں جن علاقوں سے ڈینگی کے نئے کیسز سامنے آئے، ان میں یہ علاقے شامل ہیں:
- گرجا (4 کیسز)
- دھماں سیداں (2 کیسز)
- لکھن (2 کیسز)
- امراپورہ
- کھنہ ڈاک
- چکلالہ
- ڈھوک گنگال
ان علاقوں میں انسدادِ ڈینگی ٹیموں کی موجودگی کو مزید بڑھا دیا گیا ہے جبکہ اسپرے اور آگاہی مہمات کا دائرہ بھی وسیع کیا جا رہا ہے۔
ڈینگی وائرس اور اس کی علامات
ڈینگی ایک وائرس زدہ بیماری ہے جو "ایڈیز ایجپٹائی” نامی مچھر کے کاٹنے سے پھیلتی ہے۔ اس وائرس کی عام علامات میں شامل ہیں:
- تیز بخار
- سر درد
- آنکھوں کے پیچھے درد
- جوڑوں اور پٹھوں میں درد
- متلی یا قے
- جلد پر سرخ دھبے
شدید صورت میں مریض کو ڈینگی ہیمرجک فیور یا ڈینگی شاک سنڈروم ہو سکتا ہے، جو جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
عوامی تعاون کی اہمیت
ڈینگی کی روک تھام صرف حکومتی اداروں کی ذمہ داری نہیں، بلکہ عوام کا بھی اس میں کلیدی کردار ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ:
- گھروں اور اطراف میں پانی جمع نہ ہونے دیں
- پانی کے برتن ڈھانپ کر رکھیں
- پرانے ٹائروں، گملوں، کولرز اور ٹینکیوں کی صفائی کریں
- مچھر مار دوا کا استعمال کریں
- رات کو مچھر دانی استعمال کریں
- انسدادِ ڈینگی ٹیموں سے مکمل تعاون کریں
حکومتی سطح پر مزید اقدامات کی ضرورت
اگرچہ ضلعی حکومت اور ہیلتھ اتھارٹی کی جانب سے قابل قدر اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم موجودہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ:
- ڈینگی ایمرجنسی نافذ کی جائے
- تعلیمی اداروں میں آگاہی مہمات چلائی جائیں
- اسپتالوں میں ڈینگی وارڈز کی گنجائش بڑھائی جائے
- ڈیجیٹل سرویلنس سسٹم کے ذریعے متاثرہ علاقوں کی مسلسل نگرانی کی جائے
- میڈیا کے ذریعے عوامی شعور اجاگر کیا جائے
راولپنڈی کو اجتماعی کوششوں کی ضرورت
راولپنڈی شہر اس وقت ایک سنگین صحت عامہ کے بحران سے دوچار ہے۔ ڈینگی وائرس کی شدت اور پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ صرف سرکاری سطح پر کیے گئے اقدامات کافی نہیں، بلکہ اس وبا کو روکنے کے لیے عوام، انتظامیہ، میڈیا، تعلیمی اداروں، اور سول سوسائٹی سب کو مل کر کام کرنا ہو گا۔
ڈینگی کے خلاف کامیابی صرف اسی وقت ممکن ہو گی جب ہر فرد اپنی ذمہ داری سمجھے اور احتیاطی تدابیر کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب متحد ہو کر اس خطرناک وائرس کو جڑ سے ختم کریں۔


One Response