کابینہ کا بڑا فیصلہ، دفاعی شعبے کا ریلیف پیکج منظور—سول آرمڈ فورسز کیلئے بھاری گرانٹس جاری
دفاعی شعبے کا ریلیف پیکج—50 ارب روپے کی تاریخی منظوری
قومی سلامتی، داخلی امن اور بارڈر مینجمنٹ جیسے اہم ترین شعبے ہمیشہ حکومتی ترجیحات میں شامل رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں حکومت پاکستان نے حالیہ اجلاس میں دفاعی شعبے کا ریلیف پیکج منظور کرتے ہوئے بھاری مالی وسائل فراہم کرنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے مجموعی طور پر 50 ارب روپے کی تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹ سمیت متعدد اہم اقدامات کی منظوری دی۔

وزیر خزانہ اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں ملکی دفاعی ضروریات، سول آرمڈ فورسز کی آپریشنل تیاریوں، اور داخلی سلامتی کے منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔
سول آرمڈ فورسز کے آلات کی مرمت کیلئے 10 کروڑ کی منظوری
اجلاس میں سب سے پہلے سول آرمڈ فورسز کے دفاعی آلات کی مرمت کیلئے 10 کروڑ 3 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی۔
حکام کے مطابق یہ مرمت فورسز کی فیلڈ آپریشنل صلاحیت میں بڑا کردار ادا کرے گی، اور اس سے ہنگامی صورتحال میں ردعمل کی رفتار بہتر ہو گی۔
یہ اقدام دفاعی شعبے کے ریلیف پیکج کا بنیادی حصہ ہے۔
84 کروڑ روپے کی اضافی گرانٹ—سول آرمڈ فورسز کی استعداد کار میں اضافہ
سول آرمڈ فورسز کو مزید 84 کروڑ 15 لاکھ 60 ہزار روپے دینے کی بھی منظوری دی گئی۔
یہ رقم جدید آلات، حفاظتی ساز و سامان، بارڈر پیٹرولنگ کی مضبوطی اور امن و امان برقرار رکھنے کیلئے استعمال کی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق یہ اضافہ داخلی امن کیلئے نہایت اہم ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں فورسز کو زیادہ چیلنجز کا سامنا ہے۔
دفاعی خدمات کے منصوبوں کیلئے 50 ارب روپے کی تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹ
اجلاس کا بڑا فیصلہ دفاعی خدمات کے منصوبوں کیلئے 50 ارب روپے کا دفاعی شعبے کا ریلیف پیکج تھا۔
یہ گرانٹ متعدد مدات میں استعمال کی جائے گی، جن میں شامل ہیں:
- داخلی سیکیورٹی آپریشنز
- بارڈر کنٹرول مؤثر بنانے کے منصوبے
- جدید دفاعی ٹیکنالوجی کی خریداری
- انسداد دہشتگردی کے اقدامات
- امن و امان کیلئے خصوصی مشن
وزارت خزانہ کے مطابق فنڈز "تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹ” کے تحت جاری کیے گئے ہیں، جو ہنگامی ضروریات پوری کرنے کیلئے ہوتا ہے۔
پاسکو کا خاتمہ اور نیا ادارہ قائم کرنے کی منظوری
اجلاس میں ایک اور اہم فیصلہ پاسکو کے خاتمے کا تھا۔
اس کی جگہ ایک نیا خصوصی ادارہ قائم کیا جائے گا جو گندم خریداری، ذخیرہ اندوزی کے خاتمے اور اسٹریٹیجک فوڈ مینجمنٹ کے کام انجام دے گا۔
یہ فیصلہ ملک میں فوڈ سیکیورٹی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے کیا گیا۔
آئل اینڈ گیس سیکٹر—آف شور بلاکس کا لائسنس بڑھانے کی منظوری
پیٹرولیم ڈویژن کی درخواست پر، اجلاس میں آف شور آئل اینڈ گیس بلاکس کے لائسنس میں توسیع کی منظوری بھی دی گئی۔
اس فیصلے کا مقصد:
- غیر ملکی کمپنیوں کی سرمایہ کاری بڑھانا
- آئل اینڈ گیس کی مقامی پیداوار میں اضافہ
- درآمدی انحصار کم کرنا
یہ فیصلہ توانائی کے مستقبل کو مضبوط بنانے کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے نئی مراعاتی تجاویز بھی منظور
اجلاس میں غیر ملکی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری میں آسانیاں پیدا کرنے کی نئی مراعات بھی منظور کی گئیں۔
یہ مراعات پاکستان کی معاشی بحالی، صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع بڑھانے کیلئے کلیدی کردار ادا کریں گی۔
حکومتی حکام کے مطابق ان مراعات کا براہ راست تعلق دفاعی شعبے کے ریلیف پیکج سے بھی ہے کیونکہ مضبوط معیشت ہی مضبوط دفاع کی بنیاد ہوتی ہے۔
فنڈز کا مقصد—داخلی سلامتی، بارڈر کنٹرول اور امن و امان کا استحکام
وزارت خزانہ نے وضاحت کی کہ منظور شدہ فنڈز کا مقصد ملک میں:
- داخلی سلامتی بہتر بنانا
- بارڈر مینجمنٹ مضبوط کرنا
- دہشتگردی کے خطرات کم کرنا
- شہریوں کا تحفظ یقینی بنانا
حکومت کا کہنا ہے کہ دفاع ملک کی ترجیح ہے اور اسی لیے دفاعی شعبے کا ریلیف پیکج ناگزیر تھا۔
ماہرین کی رائے—کیا یہ فیصلہ وقت کی ضرورت تھا؟
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق:
- پاکستان کو خطے کی بدلتی صورتحال میں اپنی فورسز کو جدید بنانے کی فوری ضرورت ہے
- دہشتگردی میں کمی کے باوجود خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے
- بارڈر پر دباؤ بڑھ رہا ہے
- جدید آلات کی کمی فورسز کی آپریشنل صلاحیت کو متاثر کر رہی تھی
لہٰذا اس موقع پر دفاعی شعبے کا ریلیف پیکج نہایت بروقت اور ضروری فیصلہ ہے۔
سلامتی اور استحکام کی جانب بڑا قدم
حکومت پاکستان کے اس فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ قومی سلامتی ملک کی اولین ترجیح ہے۔
50 ارب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ سمیت متعدد اہم فیصلوں نے دفاعی شعبے میں مضبوط پیش رفت کی بنیاد رکھ دی ہے۔
اجلاس میں منظور شدہ اقدامات نہ صرف دفاعی قوت بڑھائیں گے بلکہ امن و امان اور داخلی استحکام میں بھی نمایاں بہتری لائیں گے۔
اسی لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ حکومت کا دفاعی شعبے کا ریلیف پیکج ملک کی سلامتی کیلئے سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
One Response