خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں، بھارت نواز فتنۃ الخوارج کے 23 دہشتگرد ہلاک، کارروائیاں 16 اور 17 نومبر 2025 کو ضلع باجوڑ اور بنوں میں انجام دی گئیں
خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز نے دو اہم انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران بھارت کی سرپرستی میں سرگرم فتنۃ الخوارج کے مجموعی طور پر 23 دہشتگردوں کو کامیابی سے ہلاک کر دیا ہے۔ یہ کارروائیاں 16 اور 17 نومبر 2025 کو ضلع باجوڑ اور بنوں میں انجام دی گئیں، سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں کا مقصد علاقے میں موجود دہشتگرد عناصر کا مکمل خاتمہ اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پہلے آپریشن کا ہدف ضلع باجوڑ میں موجود ایک خفیہ ٹھکانہ تھا، جہاں خوارج کے کئی اہم دہشتگرد جمع تھے۔ سیکیورٹی فورسز نے انتہائی باریک بینی سے حاصل ہونے والی خفیہ اطلاعات پر کارروائی کرتے ہوئے اس ٹھکانے کو گھیرے میں لیا اور اسے مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ کارروائی کے نتیجے میں خوارج کا مرکزی سرغنہ سجاد عرف ابوذر سمیت 11 دہشتگرد مارے گئے۔ اس گروہ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ بھارت کی جانب سے مالی اور فنی معاونت حاصل کر کے پاکستان میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرتا تھا۔
فوج کے ترجمان کے مطابق دہشتگردوں کا یہ نیٹ ورک سیکیورٹی فورسز پر حملوں، بم دھماکوں اور شہریوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں ملوث تھا، اور اس کے خاتمے سے علاقے میں امن کی بحالی میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
دوسرا آپریشن — ضلع بنوں میں 12 خوارج ہلاک
اسی سلسلے میں ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ضلع بنوں میں کیا گیا، جہاں دہشتگرد ایک نئے مرکز کے طور پر سرگرم تھے۔ سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے 12 مزید دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا، جن کا تعلق بھی اسی بھارتی سرپرستی یافتہ گروہ "فتنۃ الخوارج” سے تھا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشتگرد ملک میں تخریب کاری کی نئی لہر کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
فوج کے ترجمان ادارے نے بتایا کہ دونوں اضلاع میں آپریشنز کے بعد علاقے کی مکمل کلیئرنس جاری ہے اور فورسز کسی بھی باقی ماندہ دہشتگرد کو نشانہ بنانے کے لیے مصروفِ عمل ہیں۔
دہشتگرد کا بارودی مواد نصب کرتے ہوئے ہلاک ہونا — مایوسی کی علامت
آئی ایس پی آر نے یہ بھی بتایا کہ ضلع بنوں میں ایک علیحدہ واقعے کے دوران فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والا ایک دہشتگرد اس وقت ہلاک ہو گیا جب وہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے بارودی مواد نصب کر رہا تھا۔ اس واقعے نے ثابت کیا کہ مؤثر اورسیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں کے باعث دہشتگرد تنظیمیں شدید مایوسی کا شکار ہیں اور اب آسان اہداف کے خلاف بزدلانہ حملوں کی کوششوں تک محدود ہو چکی ہیں۔
فوج کے مطابق یہ ناکام کوششیں نہ صرف دہشتگردوں کی کم ہوتی صلاحیتوں کو ظاہر کرتی ہیں بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہیں کہ وہ ریاستی اداروں کے بڑھتے ہوئے محاصرے میں بے بس ہوتے جا رہے ہیں۔
عزمِ استحکام — دہشتگردی کے مکمل خاتمے کی قومی حکمتِ عملی

آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہسیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں کا عزمِ استحکام کی قومی حکمتِ عملی کے تحت جاری رکھے ہوئے ہیں، جسے نیشنل ایکشن پلان کی فیڈرل ایپکس کمیٹی نے منظور کیا ہے۔ اس حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد پاکستان میں موجود کسی بھی غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشتگرد نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ ہے۔
فوج کے مطابق قوم کی حمایت، ریاستی اداروں کے تعاون اور مسلسل سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں سے ملک میں امن کے قیام کی کوششیں مزید مضبوط ہو رہی ہیں۔
آئی ایس پی آر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی سرزمین کو کسی بھی صورت دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔
On 15-16 November 2025, fifteen khwarij belonging to Indian Proxy Fitna Al Khwarij were killed in two separate engagements in Khyber Pakhtunkhwa Province.
On reported presence of khwarij, an intelligence based operation was conducted by the Security Forces in general area…
— DG ISPR (@OfficialDGISPR) November 18, 2025
2 Responses