امریکا ایران جنگ اور پاکستان کا کردار: ڈونلڈ ٹرمپ سے منسوب وائرل ویڈیو کا کچا چٹھا کھل گیا
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حالیہ حملوں کے بعد انٹرنیٹ کی دنیا میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر ایک ویڈیو تیزی سے گردش کر رہی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو اس جنگ سے دور رہنے کی سخت وارننگ دی ہے۔ اس ویڈیو نے دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں ویوز حاصل کر لیے اور لوگ اسے سچ سمجھ کر شیئر کرنے لگے، جس سے عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
ویڈیو میں کیا دکھایا گیا ہے؟
وائرل ہونے والے کلپ میں بظاہر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ پاکستان نے اسرائیل اور امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ ہوا تو پاکستان خاموش نہیں رہے گا۔ ویڈیو میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان کی مسلح افواج ہائی الرٹ پر ہیں اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسرائیل کے خلاف سخت ترین موقف اختیار کیا ہے۔ ویڈیو کا لب لباب یہ تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کو اس معاملے سے دور رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
فیکٹ چیک: مصنوعی ذہانت کا سہارا
تحقیق اور فیکٹ چیک سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ یہ تمام دعوے سرے سے بے بنیاد ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ویڈیو دراصل مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے اور اس میں شامل آواز بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی اصل آواز نہیں بلکہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا شاخسانہ ہے۔ ڈیجیٹل دور میں اس قسم کی ویڈیوز بنانا اب بہت آسان ہو چکا ہے جس کا مقصد صرف سنسنی پھیلانا ہوتا ہے۔
اصل فوٹیج کی حقیقت کیا ہے؟
ریورس امیج سرچ اور گہری تحقیق سے پتا چلا کہ ویڈیو میں استعمال ہونے والی فوٹیج 30 مئی 2025 کی ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایلون مسک کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کی تھی۔ اس پریس کانفرنس کا ایران اور اسرائیل کی حالیہ کشیدگی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ پوری پریس کانفرنس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہیں بھی پاکستان کے وزیر دفاع یا کسی جنگی صورتحال کا ذکر تک نہیں کیا تھا۔
پاکستان کا واحد ذکر اور اے آئی رپورٹ
مذکورہ پریس کانفرنس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے صرف ایک بار پاکستان کا نام لیا تھا اور وہ بھی بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم ہونے پر دونوں ممالک کے حکام کا شکریہ ادا کرنے کے لیے تھا۔ اے آئی مواد کی نشاندہی کرنے والے عالمی پلیٹ فارم Hive Moderation نے اس ویڈیو کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور اسے 95 فیصد سے زائد امکان کے ساتھ "جعلی” قرار دیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے نام سے منسوب یہ پیغام محض ایک دھوکہ ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے اتحادیوں پر الزامات، آبنائے ہرمز پر دنیا سے ناراضگی
حقائق سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ایران پر حملوں کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان یا اس کی فوج کے حوالے سے کوئی حالیہ بیان سامنے نہیں آیا۔ عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ ایسی سنسنی خیز ویڈیوز پر یقین کرنے سے پہلے ان کی تصدیق کر لیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ جیسے عالمی رہنماؤں کے نام پر سوشل میڈیا پر چلنے والی ایسی گمراہ کن معلومات کا مقصد صرف افراتفری پھیلانا ہوتا ہے، جس کا حقیقت سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔