ڈی آئی جی ٹریفک کی وارننگ: ای چالان پنجاب کی عدم ادائیگی پر اب پورے صوبے میں ہوگی پکڑ دھکڑ
پنجاب بھر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں اور چالان کی ادائیگی میں غفلت برتنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔ ڈی آئی جی ٹریفک وقاص نذیر نے واضح کیا ہے کہ اب ای چالان پنجاب کے حوالے سے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
ون ایپ (One App) کے ذریعے ریکوری کا نیا نظام
ٹریفک پولیس نے ادائیگیوں کے نظام کو جدید بناتے ہوئے "ون ایپ” متعارف کروائی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ای چالان پنجاب کی وصولی کو شفاف اور تیز تر بنانا ہے۔ اب پنجاب کا کوئی بھی شہری، چاہے وہ کسی بھی ضلع سے تعلق رکھتا ہو، اپنی گاڑی پر واجب الادا چالان کی ادائیگی اس ایپ کے ذریعے کر سکے گا۔
ڈیفالٹرز کے گرد گھیرا تنگ
ڈی آئی جی ٹریفک وقاص نذیر کے مطابق، اب یہ عذر قبول نہیں کیا جائے گا کہ چالان کسی دوسرے شہر کا ہے۔ اگر آپ کا ای چالان پنجاب کے کسی ایک شہر میں ہوا ہے اور آپ دوسرے شہر میں سفر کر رہے ہیں، تو وہاں کی پولیس بھی آپ کو روک کر واجبات کی وصولی کا اختیار رکھتی ہے۔ اس سے قبل یہ نظام صرف مخصوص شہروں تک محدود تھا، لیکن اب اس کا دائرہ کار پورے صوبے تک پھیلا دیا گیا ہے۔
ریکوری میں ریکارڈ اضافہ اور شفافیت
حکام کا کہنا ہے کہ ون ایپ کے آغاز کے بعد سے ای چالان پنجاب کی ریکوری میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ٹریفک حکام نے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ اس وقت صوبے کے 24 بڑے شہروں میں روزانہ کی بنیاد پر 30 سے 35 ہزار چالان کیے جا رہے ہیں۔ نئے ڈیجیٹل نظام کی بدولت اب یہ عمل نہ صرف تیز ہوگا بلکہ اس میں انسانی مداخلت کم ہونے سے شفافیت بھی آئے گی۔
آئندہ ہفتے سے خصوصی مہم کا آغاز
ٹریفک پولیس اگلے ہفتے سے ای چالان پنجاب کی وصولی کے لیے خصوصی مہم شروع کر رہی ہے۔ اس مہم کے تحت سڑکوں پر ناکہ بندی کر کے ان گاڑیوں کو قبضے میں لیا جا سکتا ہے جن کے ذمہ کئی چالان واجب الادا ہیں۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی پریشانی سے بچنے کے لیے فوری طور پر اپنے چالان چیک کریں اور انہیں جمع کروائیں۔
کراچی ای چالان کے 30 روز 93 ہزار چالان، کروڑوں کے جرمانے
یاد رہے کہ ای چالان پنجاب کا مقصد صرف جرمانہ وصول کرنا نہیں بلکہ شہریوں کو ٹریفک قوانین کی پاسداری کی طرف راغب کرنا ہے تاکہ سڑکوں پر حادثات میں کمی لائی جا سکے۔