سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کی فوجی عدالت کی سزا کے خلاف اپیل دائر

سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید نے فوجی عدالت کی 14 سالہ قید کی سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی

سابق ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید نے فوجی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کے خلاف باضابطہ طور پر اپیل دائر کر دی ہے، جس کے بعد اس ہائی پروفائل مقدمے میں قانونی عمل کا ایک نیا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ ان کے وکیل میاں علی اشفاق نے غیر ملکی خبر رساں ادارے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے فیصلے کے خلاف قانونی اپیل متعلقہ فورم پر جمع کرا دی گئی ہے، تاہم اپیل کی تفصیلات کو فی الحال ظاہر نہیں کیا گیا۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو 11 دسمبر کو فوجی عدالت نے چار سنگین الزامات میں قصوروار قرار دیتے ہوئے 14 برس قیدِ سخت کی سزا سنائی تھی۔ فوجی عدالت کے فیصلے کے مطابق ان پر سرکاری راز افشا کرنے، سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے، اختیارات کے ناجائز استعمال اور دیگر افراد کو نقصان پہنچانے کے الزامات ثابت ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ ان الزامات کو ملکی سلامتی اور فوجی نظم و ضبط کے حوالے سے انتہائی سنجیدہ قرار دیا جا رہا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت کسی بھی فوجی عدالت کی سزا کے بعد مجرم کو 40 دن کے اندر اپیل دائر کرنے کا قانونی حق حاصل ہوتا ہے۔ اس مدت کے اندر دائر کی جانے والی اپیل کے بعد معاملہ باضابطہ طور پر فوجی کورٹ آف اپیلز کے دائرہ اختیار میں آ جاتا ہے۔ اس عمل کے دوران سزا پر فوری طور پر عملدرآمد روکنے یا نہ روکنے کا فیصلہ بھی متعلقہ اتھارٹیز کے اختیار میں ہوتا ہے۔

آرمی ایکٹ کے تحت اپیل کا ابتدائی جائزہ میجر جنرل یا اس سے اعلیٰ رینک کے افسر کی سربراہی میں لیا جاتا ہے، جو کیس کے قانونی اور تکنیکی پہلوؤں کا تفصیلی مطالعہ کرتا ہے۔ اس جائزے کے بعد سفارشات اعلیٰ فوجی قیادت کو ارسال کی جاتی ہیں۔ حتمی مرحلے میں آرمی چیف کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ سزا کو برقرار رکھیں، اس میں کمی کریں یا مکمل طور پر کالعدم قرار دے دیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس اپیل کو قانونی کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی سطح پر بھی غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔

ماضی میں فوجی عدالتوں میں سنائے گئے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کے عمل کی کئی مثالیں موجود ہیں، جن میں بعض کیسز برسوں تک زیرِ التوا رہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ کیس ایک سابق سینئر ترین انٹیلی جنس افسر سے متعلق ہے، اس لیے اس کی سماعت اور فیصلے میں غیر معمولی احتیاط برتی جائے گی اور مکمل قانونی طریقہ کار پر عمل کیا جائے گا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی اگست 2024 میں شروع ہوئی تھی، جو تقریباً 15 ماہ تک جاری رہی۔ فوجی ترجمان کے مطابق اس دوران تمام شواہد، گواہوں اور متعلقہ دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ آئی ایس پی آر نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ بعض سیاسی سرگرمیوں سے متعلق معاملات کو الگ سے دیکھا جا رہا ہے، جس سے یہ تاثر ملا کہ کیس کے کچھ پہلوؤں پر مزید قانونی کارروائی بھی ممکن ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ آئی ایس پی آر کے بیان میں فیض حمید کو ’’سابق لیفٹیننٹ جنرل‘‘ قرار دیا گیا تھا، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ انہیں ان کے فوجی عہدے سے محروم کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن یا واضح تصدیق سامنے نہیں آ سکی۔ دفاعی امور پر نظر رکھنے والے مبصرین کے مطابق فوجی قوانین کے تحت بعض سزاؤں کے نتیجے میں عہدہ اور مراعات خود بخود ختم ہو جاتی ہیں، لیکن اس کی تصدیق عام طور پر الگ اعلامیے کے ذریعے کی جاتی ہے۔

فیض حمید کا شمار ماضی میں فوج کے بااثر افسران میں ہوتا تھا اور وہ بطور ڈی جی آئی ایس آئی ایک اہم اور حساس عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ ان کے خلاف فوجی عدالت کی کارروائی اور سزا کو ملکی تاریخ کے غیر معمولی واقعات میں شمار کیا جا رہا ہے، جس نے سیاسی، قانونی اور عسکری حلقوں میں وسیع بحث کو جنم دیا ہے۔

قانونی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپیل کے دوران دفاع کی جانب سے ممکنہ طور پر یہ مؤقف اختیار کیا جا سکتا ہے کہ شواہد ناکافی تھے، قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے یا سزا غیر متناسب ہے۔ تاہم چونکہ فوجی عدالتوں کا نظام سویلین عدالتی نظام سے مختلف ہوتا ہے، اس لیے اپیل کا دائرہ کار اور طریقہ کار بھی محدود اور مخصوص ہوتا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس مقدمے کے کچھ پہلو ملکی سیاست سے بھی جڑے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے آئی ایس پی آر کی جانب سے سیاسی سرگرمیوں سے متعلق معاملات کو الگ رکھنے کا بیان خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والے وقت میں یہ واضح ہو سکے گا کہ آیا ان پہلوؤں پر بھی باضابطہ قانونی کارروائی کی جاتی ہے یا نہیں۔

فی الوقت اپیل دائر کیے جانے کے بعد کیس ایک حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ دفاعی اور قانونی حلقے اس بات پر متفق ہیں کہ اس معاملے کا حتمی فیصلہ نہ صرف فیض حمید کے مستقبل بلکہ فوجی احتسابی نظام اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کے حوالے سے بھی ایک اہم نظیر ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ فوجی عدالتوں کے فیصلے عام طور پر حتمی سمجھے جاتے ہیں، تاہم اپیل کا حق آئین اور قانون کے تحت ایک اہم ضمانت ہے۔ اسی لیے اس اپیل کے نتائج کو نہایت غور سے دیکھا جائے گا، کیونکہ یہ مستقبل میں اسی نوعیت کے مقدمات کے لیے رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]