بیرسٹر گوہر کی اڈیالہ ناکے پر گفتگو: 2025 گزر گیا، اب تو حالات بدلنے چاہئیں

بیرسٹر گوہر کی اڈیالہ ناکے پر گفتگو ملاقات نہ ہونے پر تشویش
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

بیرسٹر گوہر کی اڈیالہ ناکے پر گفتگو: 2025 گزر گیا، اب تو حالات بدلنے چاہئیں، حالات جن تقاضوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، بدقسمتی سے مذاکرات اس سمت میں نہیں جا رہے

راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے قریب داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ وہ ہر منگل یہاں آتے ہیں لیکن افسوس کے ساتھ ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی۔

بیرسٹر گوہر کی اڈیالہ ناکے پر گفتگو کہا کہ حالات بدلنے کے لیے ملاقات کی اجازت مانگنی پڑ رہی ہے، جو انتہائی افسوسناک ہے۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق 2025 گزر چکا ہے اور اب تو حالات بدلنے چاہئیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ تحریک اپنی جگہ موجود ہے لیکن ساتھ ساتھ مذاکرات بھی ہونے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات جن تقاضوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، بدقسمتی سے مذاکرات اس سمت میں نہیں جا رہے۔

بیرسٹر گوہر علی خان نے صاحبِ اقتدار حلقوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ حالات کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے دل بڑا کریں اور اس قوم کے بچوں پر رحم کیا جائے۔

فیض حمید کی سزا کے خلاف اپیل
سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کی سزا کے خلاف اپیل دائر – قانونی سفر کا نیا آغاز

بیرسٹر گوہر کی اڈیالہ ناکے پر گفتگو میں الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے لیے پورا سسٹم رک گیا ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ روز اڈیالہ ناکے پر کھڑے نظر نہ آتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات اور ایس او پیز موجود ہیں، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ کوئی ایسا طریقہ نکالا جائے جس سے حالات بہتر ہو سکیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ رواں سال بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو دو سزائیں سنائی گئیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 2025 میں دشمن کے ساتھ سیز فائر ہو گیا لیکن ہمارے اندرونی تنازعات ختم نہ ہو سکے۔

بیرسٹر گوہر نے خدشہ ظاہر کیا کہ 2026 میں داخل ہو رہے ہیں اور ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ یہ سال بھی سزاؤں کا سال ثابت ہوگا۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]