پاکستان سٹاک ایکس چینج میں شدید مندی، ہنڈرڈ انڈیکس 1465 پوائنٹس گر گیا

پاکستان سٹاک ایکس چینج میں ہنڈرڈ انڈیکس میں بڑی کمی ظاہر کرتا ڈیجیٹل بورڈ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان سٹاک ایکس چینج میں مسلسل دوسرے روز مندی، سرمایہ کار محتاط

پاکستان سٹاک ایکس چینج میں مسلسل دوسرے روز بھی مندی کا رجحان برقرار رہا، جس کے باعث سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ کاروباری ہفتے کے دوران مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار رہی اور سرمایہ کار غیر یقینی معاشی و عالمی حالات کے باعث محتاط حکمت عملی اختیار کرتے دکھائی دیے۔

کاروبار کے اختتام پر پاکستان سٹاک ایکس چینج کا ہنڈرڈ انڈیکس 1465 پوائنٹس کی نمایاں کمی کے بعد 1 لاکھ 67 ہزار 451 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔ دورانِ ٹریڈنگ مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ اس قدر بڑھ گیا کہ انڈیکس 1 لاکھ 67 ہزار 329 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک بھی گر گیا، جس سے سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے۔

مارکیٹ ماہرین کے مطابق حالیہ مندی کی بنیادی وجہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی ہے۔ خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور امریکہ و ایران کے درمیان جاری مذاکرات سے متعلق غیر یقینی حالات نے عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا، جس کے اثرات پاکستانی مارکیٹ پر بھی واضح طور پر دیکھے گئے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اس وقت محفوظ سرمایہ کاری کی جانب مائل ہو رہے ہیں جبکہ اسٹاک مارکیٹ میں رسک لینے کا رجحان کم ہوگیا ہے۔ غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار حصص فروخت کر کے محتاط پوزیشن اختیار کر رہے ہیں، جس سے مارکیٹ میں مسلسل دباؤ برقرار ہے۔

ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹوں میں تیل کی قیمتوں، ڈالر کی قدر اور سیاسی حالات میں تبدیلیاں بھی پاکستان سٹاک ایکس چینج کی کارکردگی پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، جس کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں سیاسی اور سفارتی صورتحال مزید خراب ہوئی تو اس کے اثرات آنے والے دنوں میں اسٹاک مارکیٹ پر مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب اگر امریکہ اور ایران مذاکرات میں مثبت پیش رفت سامنے آتی ہے تو مارکیٹ میں اعتماد بحال ہونے کا امکان موجود ہے۔

کاروباری حلقوں کے مطابق حالیہ مندی نے سرمایہ کاروں کو پریشان کر دیا ہے، تاہم بعض ماہرین اسے مارکیٹ کی عارضی اصلاح قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق مارکیٹ میں وقتاً فوقتاً اتار چڑھاؤ معمول کا حصہ ہوتا ہے اور طویل المدتی سرمایہ کاروں کیلئے ایسے مواقع فائدہ مند بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔

پاکستانی معیشت کے حوالے سے جاری غیر یقینی صورتحال، مہنگائی، شرح سود اور روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ بھی مارکیٹ کی سمت پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ سرمایہ کار اب حکومت کی معاشی پالیسیوں اور عالمی مالیاتی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق بینکنگ، توانائی، سیمنٹ اور ٹیکنالوجی سیکٹرز میں فروخت کا رجحان زیادہ دیکھا گیا، جس کے باعث مجموعی انڈیکس نیچے آیا۔ بروکریج ہاؤسز کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اس وقت نئی سرمایہ کاری سے گریز کرتے ہوئے محتاط انداز اختیار کر رہے ہیں۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر حکومت معاشی استحکام اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں پر توجہ دے تو مارکیٹ میں اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ عالمی سطح پر کشیدگی میں کمی اور معاشی اشاریوں میں بہتری بھی پاکستان سٹاک ایکس چینج کیلئے مثبت ثابت ہوسکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز مارکیٹ کیلئے انتہائی اہم ہوں گے کیونکہ سرمایہ کار عالمی خبروں، سیاسی صورتحال اور معاشی فیصلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی مرتب کریں گے۔ موجودہ حالات میں مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور غیر یقینی کیفیت برقرار رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]