عالمی سطح پر خام تیل مہنگا ہونے کے بعد پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں مزید 10 روپے اضافے کا خدشہ
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے مسلسل اضافے نے پاکستان میں مہنگائی کے ایک نئے طوفان کی دستک دے دی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، حکومت کی جانب سے اس ہفتے پیٹرول کی قیمت میں ایک بار پھر بڑے اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس نے عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
عالمی مارکیٹ کی تازہ ترین صورتحال
بین الاقوامی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل کی سطح کے قریب پہنچ چکی ہیں، جبکہ امریکی خام تیل (WTI) بھی 100 ڈالر کی نفسیاتی حد عبور کر چکا ہے۔ عالمی سطح پر سپلائی میں کمی اور بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی وہ عوامل ہیں جو تیل کی قیمتوں کو مسلسل اوپر لے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک عالمی حالات مستحکم نہیں ہوتے، پیٹرول کی قیمت پر دباؤ برقرار رہے گا۔
پاکستان پر اثرات اور عوامی خدشات
پاکستان اپنی ایندھن کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اسی لیے عالمی قیمتوں میں معمولی سی تبدیلی بھی ملک میں پیٹرول کی قیمت کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔ حکومت جمعہ کے روز قیمتوں کا جائزہ لینے والی ہے، اور موجودہ ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں کم از کم 10 روپے فی لیٹر تک کا مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
ماضی کے اضافے اور موجودہ قیمتیں
خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے ہی وزیر اعظم شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات میں بھاری اضافے کی منظوری دی تھی۔ اس وقت ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 14.92 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔ اس حالیہ اضافے کے بعد پیٹرول اور ڈیزل دونوں ہی 414 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر چکے ہیں۔ اگر اب دوبارہ پیٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو یہ عوام کے لیے ناقابل برداشت بوجھ ہوگا۔
مہنگائی کا نیا سلسلہ
معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں ہر اضافہ براہ راست اشیائے ضروریہ اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ جب ٹرانسپورٹیشن مہنگی ہوتی ہے تو سبزیوں، پھلوں اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں خود بخود بڑھ جاتی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پیٹرول کی قیمت بڑھانے کے بجائے ٹیکسوں میں کمی کر کے عوام کو ریلیف فراہم کرے۔
پیٹرولیم سپلائی چین برقرار: محمد اورنگزیب کا برآمدات میں ریکارڈ اضافے کا دعویٰ
پاکستان میں پیٹرول کی قیمت کا براہ راست تعلق عالمی سیاست اور معیشت سے جڑا ہوا ہے۔ تاہم، مقامی سطح پر روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ بھی اس میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ عوام اب جمعہ کے فیصلے کی منتظر ہے کہ آیا حکومت عالمی قیمتوں کا بوجھ خود اٹھاتی ہے یا ایک بار پھر پیٹرول کی قیمت بڑھا کر اسے عوام کی جیبوں سے نکالا جاتا ہے۔