فیض حمید کی سزا کے خلاف اپیل: فوجی عدالت کے فیصلے کو چیلنج

فیض حمید کی سزا کے خلاف اپیل
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کی سزا کے خلاف اپیل – فوجی عدالت کے فیصلے پر نیا قانونی موڑ

لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید نے فوجی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کے خلاف باضابطہ طور پر قانونی اپیل دائر کر دی ہے، جس سے اس ہائی پروفائل مقدمے نے ایک نیا قانونی موڑ اختیار کر لیا ہے۔ ان کے وکیل میاں علی اشفاق نے غیر ملکی خبر رساں ادارے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے فیصلے کے خلاف متعلقہ فورم پر اپیل جمع کرا دی گئی ہے، تاہم اپیل میں اٹھائے گئے قانونی نکات اور دلائل کو فی الحال صیغۂ راز میں رکھا گیا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو 11 دسمبر کو فوجی عدالت نے چار سنگین الزامات میں قصوروار قرار دیتے ہوئے 14 برس قیدِ سخت کی سزا سنائی تھی۔ فوجی عدالتی فیصلے کے مطابق ان پر سرکاری راز افشا کرنے، سیاسی سرگرمیوں میں غیر قانونی طور پر ملوث ہونے، اختیارات کے ناجائز استعمال اور دیگر افراد کو نقصان پہنچانے جیسے الزامات ثابت ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ ملکی تاریخ میں ان چند مثالوں میں سے ایک ہے جہاں ایک سابق سینئر فوجی افسر کو اس نوعیت کی سخت سزا سنائی گئی۔

پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت کسی بھی فوجی سزا کے بعد ملزم کو 40 دن کے اندر اپیل دائر کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ اسی قانونی شق کے تحت فیض حمید کی جانب سے مقررہ مدت کے اندر اپیل دائر کی گئی ہے۔ فوجی قوانین کے مطابق اپیل کے بعد معاملہ کورٹ آف اپیلز کو بھیجا جاتا ہے، جہاں اس کا ابتدائی جائزہ ایک میجر جنرل یا اس سے اعلیٰ رینک کے افسر کی سربراہی میں لیا جاتا ہے۔ اس مرحلے پر شواہد، عدالتی کارروائی، قانونی نکات اور سزا کے جواز کا تفصیلی مطالعہ کیا جاتا ہے۔

پاکستان کے فوجی عدالتی نظام میں آرمی چیف کو غیر معمولی اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ وہ سزا کو برقرار رکھنے، اس میں کمی کرنے یا مکمل طور پر کالعدم قرار دینے کا اختیار رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فیض حمید کی اپیل کو نہ صرف قانونی بلکہ ادارہ جاتی سطح پر بھی غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ ماضی میں ایسے کئی مقدمات کی مثالیں موجود ہیں جہاں فوجی اپیلوں کا عمل کئی برسوں تک جاری رہا اور حتمی فیصلے میں خاصا وقت لگا۔

پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی اگست 2024 میں شروع ہوئی تھی، جو تقریباً 15 ماہ تک جاری رہی۔ اس طویل عدالتی عمل کے دوران مختلف مراحل پر شواہد پیش کیے گئے، گواہوں کے بیانات قلم بند کیے گئے اور قانونی دلائل سنے گئے۔ فوجی ترجمان کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ادارے کے اندر نظم و ضبط، قانون کی بالادستی اور احتساب کے اصول کو یقینی بنانا تھا۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ فیض حمید سے منسوب بعض سیاسی سرگرمیوں سے متعلق معاملات کو الگ سے دیکھا جا رہا ہے، جس سے یہ تاثر ملا کہ ان کے خلاف قانونی اور ادارہ جاتی سطح پر مزید تحقیقات یا کارروائیاں بھی زیر غور ہو سکتی ہیں۔ بیان میں انہیں ’’سابق لیفٹیننٹ جنرل‘‘ قرار دیا گیا تھا، جس سے ان کے عہدے سے محرومی یا ڈس مسل ہونے کا تاثر سامنے آیا، تاہم اس حوالے سے کسی باضابطہ نوٹیفکیشن یا سرکاری تصدیق کا اعلان نہیں کیا گیا۔

فیض حمید کا شمار ماضی میں پاکستان کے بااثر فوجی افسران میں ہوتا رہا ہے، اور ان کا نام قومی سیاست اور سلامتی کے معاملات میں اکثر زیر بحث رہا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے خلاف عدالتی کارروائی اور سزا نے نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی میڈیا کی بھی توجہ حاصل کی۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس اپیل کا فیصلہ مستقبل میں فوجی احتساب کے عمل اور سول ملٹری تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فوجی عدالتوں میں اپیل کا عمل عمومی عدالتوں کے مقابلے میں مختلف اور زیادہ خفیہ ہوتا ہے، جہاں شفافیت سے زیادہ ادارہ جاتی نظم و ضبط کو فوقیت دی جاتی ہے۔ تاہم اس کے باوجود ملزم کو بنیادی قانونی حقوق فراہم کیے جاتے ہیں، جن میں اپیل کا حق، قانونی نمائندگی اور سزا کے ازسرِنو جائزے کا اختیار شامل ہے۔

فی الوقت فیض حمید کی اپیل پر ابتدائی کارروائی کا آغاز ہو چکا ہے، مگر اس کے نتائج کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہے۔ یہ مقدمہ نہ صرف ایک فرد کے مستقبل بلکہ پاکستان کے فوجی عدالتی نظام کی سمت اور ساکھ کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں اس اپیل پر ہونے والی پیش رفت کو ملکی اور عالمی سطح پر گہری نظر سے دیکھا جائے گا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]