ایف بی آر کا جیولرز پر کریک ڈاؤن: ٹیکس چوری کے خلاف بڑی کارروائی، ہزاروں کو نوٹس جاری

ایف بی آر کا جیولرز کے خلاف کریک ڈاؤن
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ایف بی آر کا جیولرز پر کریک ڈاؤن: پنڈی، اسلام آباد، فیصل آباد اور ملتان میں نوٹس جاری

اسلام آباد (رئیس الاخبار نیوز) – فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ملک میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور ٹیکس چوری کے سدباب کے لیے کریک ڈاؤن کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ حالیہ کارروائیوں میں راولپنڈی، اسلام آباد، فیصل آباد اور ملتان میں درجنوں سناروں کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں، جب کہ اسلام آباد میں ایک بڑی رئیل اسٹیٹ کمپنی کے دفاتر پر چھاپہ مار کر اہم ریکارڈ بھی قبضے میں لیا گیا ہے۔

ایف بی آر کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ان افراد اور کاروباری اداروں کو قانون کے دائرے میں لانا ہے جو برسوں سے بھاری منافع کما رہے ہیں لیکن ٹیکس دینے سے مسلسل گریزاں ہیں۔

جیولری سیکٹر میں ٹیکس چوری کا انکشاف

ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے ملک بھر سے 60 ہزار جیولرز کا ڈیٹا اکٹھا کیا ہے، جن میں سے صرف 21 ہزار افراد ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ ان رجسٹرڈ جیولرز میں سے بھی محض 10 ہزار 524 افراد نے باقاعدہ ٹیکس ریٹرن جمع کروایا ہے۔ یہ صورتِ حال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جیولری سیکٹر میں بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری ہو رہی ہے۔

ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ بیشتر جیولرز اپنی آمدنی کم ظاہر کرکے یا اپنی فروخت کو نقد لین دین تک محدود رکھ کر نہ صرف ٹیکس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ قومی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان تمام معلومات کی روشنی میں ایف بی آر نے جیولرز کے خلاف منظم کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

پنجاب کے 900 جیولرز کی ابتدائی فہرست

حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں پنجاب بھر سے ایسے 900 جیولرز کی فہرست تیار کی گئی ہے جو بظاہر بھاری کاروبار کر رہے ہیں لیکن یا تو ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں یا رجسٹرڈ ہونے کے باوجود اپنی آمدنی چھپا رہے ہیں۔ ان تمام افراد کو مرحلہ وار نوٹسز بھیجے جا رہے ہیں، جن میں ان سے کاروباری تفصیلات، سیلز، آمدنی اور ٹیکس ریٹرنز کی وضاحت طلب کی گئی ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایف بی آر کے پاس نادرا، بینکنگ چینلز، مارکیٹ رپورٹس، اور فیلڈ انٹیلیجنس سے حاصل کردہ ڈیٹا موجود ہے جس کی بنیاد پر یہ کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ اگر نوٹسز کے باوجود تسلی بخش جواب نہ دیا گیا تو ان جیولرز کے خلاف چھاپے، اکاؤنٹ فریزنگ، اور اثاثوں کی قرقی جیسے سخت اقدامات بھی اٹھائے جا سکتے ہیں۔

اسلام آباد میں بڑی رئیل اسٹیٹ کمپنی پر چھاپہ

ٹیکس چوری کے خلاف جاری مہم کے دوران ایف بی آر نے اسلام آباد میں ایک معروف اور بڑی رئیل اسٹیٹ کمپنی کے دفتر پر چھاپہ مارا ہے۔ اس کارروائی کے دوران ایف بی آر ٹیم نے کمپنی کے مالیاتی ریکارڈ، سودوں کی تفصیلات، اور کسٹمر ڈیٹا کو قبضے میں لے لیا ہے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق کمپنی مبینہ طور پر اربوں روپے مالیت کی زمینوں اور پلاٹوں کی خرید و فروخت میں ملوث ہے لیکن اپنی آمدنی اور منافع کو اصل سے کہیں کم ظاہر کرتی رہی ہے۔ ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ کمپنی کے خلاف کارروائی مکمل شواہد کی بنیاد پر کی گئی اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔

ایف بی آر کا موقف

ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام اقدامات کا مقصد کسی خاص طبقے کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ٹیکس نظام کو شفاف اور جامع بنانا ہے۔ ایک اعلیٰ افسر کے مطابق:

"ہم نے بارہا کہا ہے کہ اگر آپ آمدنی کما رہے ہیں تو آپ پر قومی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپ اس کا کچھ حصہ ریاست کو ٹیکس کی صورت میں ادا کریں۔ ہمارے پاس جدید ڈیجیٹل ٹولز اور ڈیٹا اینالٹکس کی سہولت موجود ہے، جس سے ہم با آسانی اُن افراد تک پہنچ سکتے ہیں جو اپنی اصل آمدنی چھپا رہے ہیں۔”

ماہرین کا ردِ عمل

ٹیکس امور کے ماہرین نے ایف بی آر کے اس اقدام کو سراہا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ کارروائی کے ساتھ ساتھ آگاہی مہم اور سہولت کاری کا عمل بھی ضروری ہے۔

معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر زبیر کہتے ہیں:

"پاکستان میں لوگ ٹیکس چوری اس لیے بھی کرتے ہیں کہ انہیں نظام پر اعتماد نہیں ہوتا۔ ایف بی آر کو چاہیے کہ وہ اعتماد کی فضا پیدا کرے، نظام کو آسان اور سہل بنائے، تاکہ لوگ خود بخود ٹیکس نیٹ میں آنے پر آمادہ ہوں۔”

معاشی اثرات

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایف بی آر اپنی موجودہ مہم میں کامیاب ہو جاتا ہے تو نہ صرف قومی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ ٹیکس نظام میں موجود عدم مساوات کو بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔ جیولری اور رئیل اسٹیٹ جیسے شعبے جو اب تک غیر رسمی معیشت کا حصہ رہے ہیں، اگر باضابطہ نظام میں آ جائیں تو یہ پاکستان کی جی ڈی پی، مالیاتی خودمختاری اور بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ کے لیے بھی فائدہ مند ہوگا۔

مستقبل کی حکمت عملی

ایف بی آر نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ یہ کارروائیاں صرف آغاز ہیں۔ اگلے مرحلوں میں کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ سمیت دیگر بڑے شہروں میں بھی جیولرز اور دیگر ہائی ویلیو کاروباری طبقات کے خلاف منظم کارروائیاں کی جائیں گی۔

اس کے علاوہ رئیل اسٹیٹ، ہول سیل مارکیٹ، پرچون فروش، اور آن لائن کاروبار کرنے والے افراد و کمپنیوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کا پلان بنایا جا رہا ہے۔

ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس چوروں کے خلاف کریک ڈاؤن پاکستان کے ٹیکس نظام کی اصلاحات میں ایک اہم قدم ہے۔ یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ ریاست اب ان کاروباری طبقوں کو مزید نظر انداز کرنے کے موڈ میں نہیں جو سالوں سے ٹیکس دیے بغیر منافع سمیٹ رہے ہیں۔ اگر ان اقدامات کو مستقل، شفاف اور غیرجانبدار انداز میں جاری رکھا گیا تو اس کے مثبت اثرات پورے ملک کی معیشت پر مرتب ہوں گے۔

ایف بی آر کا بڑا اقدام جیولرز کے خلاف ٹیکس ایکشن
ایف بی آر نے جیولرز کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا۔
پاکستان میں سونے کی قیمت نئی بلند سطح پر
پاکستان میں سونا مہنگا، فی تولہ 3 لاکھ 93 ہزار 700 روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]