ٹیکس دہندگان کیلئے بڑی سہولت، ایف بی آر نے IRIS سسٹم اپڈیٹ کر دیا
اسلام آباد: Federal Board of Revenue (ایف بی آر) نے ٹیکس دہندگان کی سہولت کے لیے IRIS System میں ایک نیا فیچر متعارف کرا دیا ہے، جس کا مقصد ٹیکس نظام کو مزید آسان، تیز اور شفاف بنانا ہے۔ اس اقدام کو ڈیجیٹلائزیشن کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو نہ صرف کاروباری طبقے بلکہ عام صارفین کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔
ایف بی آر کے مطابق اس نئے فیچر کے ذریعے کاروباری افراد اب باآسانی کٹے ہوئے سیلز ٹیکس کا کریڈٹ حاصل کر سکیں گے۔ ماضی میں اس عمل کے لیے پیچیدہ حساب کتاب اور متعدد مراحل سے گزرنا پڑتا تھا، تاہم اب آن لائن سسٹم کے ذریعے یہ تمام مراحل نہایت سادہ اور تیز بنا دیے گئے ہیں۔ اس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ غلطیوں کے امکانات بھی کم ہو جائیں گے۔
مزید برآں، صارفین کے لیے بھی ایک اہم سہولت فراہم کی گئی ہے، جس کے تحت وہ ودہولڈ سیلز ٹیکس کا کریڈٹ حاصل کرنے کے لیے براہِ راست آن لائن درخواست دے سکتے ہیں۔ اس سے پہلے یہ عمل خاصا مشکل اور وقت طلب سمجھا جاتا تھا، مگر اب جدید فیچر کی بدولت ٹیکس دہندگان چند آسان مراحل میں اپنی درخواست جمع کرا سکیں گے اور اس کی پیش رفت کو بھی باآسانی ٹریک کر سکیں گے۔
ماہرین کے مطابق یہ فیچر ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے کے لیے نہایت اہم ہے۔ ڈیجیٹل ریکارڈ کی موجودگی سے نہ صرف ٹیکس دہندگان اپنے مالی معاملات کو بہتر انداز میں منظم کر سکیں گے بلکہ حکومتی اداروں کے لیے بھی نگرانی اور تصدیق کا عمل آسان ہو جائے گا۔ اس سے ٹیکس چوری کی روک تھام میں بھی مدد ملنے کی توقع ہے۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ٹیکس دہندگان اپنے ریکارڈ کو درست اور اپ ڈیٹ رکھنے میں زیادہ سہولت محسوس کریں گے، جس کے نتیجے میں مجموعی ٹیکس کمپلائنس میں نمایاں بہتری آئے گی۔ جب افراد اور کاروبار اپنی ذمہ داریاں بروقت اور درست طریقے سے پوری کریں گے تو اس کا مثبت اثر ملکی ریونیو پر بھی پڑے گا۔
حکام کے مطابق حکومت کی پالیسی کا اہم حصہ ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو ٹیکس نیٹ میں لایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھایا جا رہا ہے اور ایسے فیچرز متعارف کرائے جا رہے ہیں جو صارفین کے لیے آسانی پیدا کریں۔
کاروباری برادری نے بھی اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس نظام میں سادگی اور شفافیت سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا۔ خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اس سہولت سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں گے، کیونکہ ان کے پاس پیچیدہ ٹیکس معاملات کو سنبھالنے کے لیے محدود وسائل ہوتے ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایف بی آر کی جانب سے آئی رس سسٹم میں نیا فیچر شامل کرنا ٹیکس نظام میں اصلاحات کی ایک اہم کڑی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف ٹیکس دہندگان کے لیے آسانی پیدا کرے گا بلکہ ملکی معیشت کو دستاویزی بنانے اور شفافیت کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ اگر اسی طرح مزید جدید سہولیات متعارف کرائی جاتی رہیں تو پاکستان کا ٹیکس نظام عالمی معیار کے قریب پہنچ سکتا ہے، جس سے معیشت کی مضبوطی اور استحکام میں اضافہ ہوگا۔

