FBR Tax Collection Shortfall: پہلی ششماہی میں 321 ارب روپے کی کمی، معیشت پر اثرات
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لیے رواں مالی سال 2025-26 مشکلات کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر) کے اختتام پر حکومت کو ایک بڑے FBR tax collection shortfall کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس نے معاشی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

پہلی ششماہی کا جائزہ: اہداف اور حقیقت
رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں ٹیکس وصولیوں کا مجموعی ہدف 6490 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا، تاہم ایف بی آر صرف 6169 ارب روپے جمع کرنے میں کامیاب ہو سکا۔ اس طرح مجموعی طور پر 321 ارب روپے کا شارٹ فال ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ معاشی سست روی اور دیگر عوامل کی وجہ سے FBR tax collection shortfall میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
دسمبر 2025 کے اعداد و شمار
سال کے آخری مہینے یعنی دسمبر 2025 میں بھی ایف بی آر اپنے ہدف سے پیچھے رہا۔ دسمبر کے لیے 1446 ارب روپے کا ہدف مقرر تھا، جس کے مقابلے میں 1425 ارب روپے کی عبوری وصولی ہوئی۔ اگرچہ دسمبر میں شارٹ فال 21 ارب روپے رہا، لیکن پچھلے مہینوں کے جمع شدہ شارٹ فال نے مجموعی خسارے کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔
ماہانہ کارکردگی کا موازنہ
اگر ہم رواں مالی سال کے مہینوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ صرف جولائی 2025 وہ واحد مہینہ تھا جب کارکردگی مثبت رہی۔
- جولائی 2025: ہدف 748 ارب، وصولی 757 ارب (کامیاب مہینہ)
- اگست 2025: ہدف 950 ارب، وصولی 901 ارب
- ستمبر 2025: ہدف 1325 ارب، وصولی 1228 ارب
- اکتوبر 2025: ہدف 1026 ارب، وصولی 951 ارب
- نومبر 2025: ہدف 995 ارب، وصولی 895 ارب
ان اعداد و شمار سے واضح ہے کہ FBR tax collection shortfall کا سلسلہ اگست سے شروع ہوا جو دسمبر تک برقرار رہا۔
آئی ایم ایف کے اہداف اور نظرثانی شدہ ہدف
پاکستان نے ملک میں حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے پیش نظر آئی ایم ایف (IMF) کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ ٹیکس ہدف میں نرمی کی جائے۔ اسی بنیاد پر سالانہ ہدف 14,131 ارب روپے سے کم کر کے 13.9 ٹریلین روپے مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم، حالیہ FBR tax collection shortfall کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کم شدہ ہدف حاصل کرنا بھی ناممکن نظر آ رہا ہے۔
شارٹ فال کی بنیادی وجوہات
اس بڑے خسارے کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں:
- درآمدات میں کمی: حکومت کی جانب سے امپورٹ کنٹرول پالیسیوں کی وجہ سے کسٹمز ڈیوٹی میں کمی آئی ہے۔
- صنعتی سست روی: توانائی کی بلند قیمتوں کے باعث مینوفیکچرنگ سیکٹر کی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔
- سیلاب کے اثرات: زرعی شعبے اور دیہی معیشت پر سیلاب کے منفی اثرات اب بھی نمایاں ہیں۔
شیل کمپنی پاکستان میں 10 کروڑ ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کرے گی
اگر آنے والے مہینوں میں FBR tax collection shortfall پر قابو نہ پایا گیا تو حکومت کو منی بجٹ لانے یا ترقیاتی فنڈز میں کٹوتی کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔ ایف بی آر حکام پر امید ہیں کہ دسمبر کے حتمی اعداد و شمار مرتب ہونے پر شارٹ فال میں معمولی کمی آ سکتی ہے، لیکن 13.9 ٹریلین کا سالانہ ہدف اب بھی ایک کوہِ گراں محسوس ہوتا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرے اور ریٹیلرز و دیگر غیر دستاویزی شعبوں کو ٹیکس کے دائرے میں لانے کے لیے سخت اقدامات کرے۔ بصورت دیگر، یہ FBR tax collection shortfall ملکی معیشت کے لیے مزید سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
One Response