دسمبر 2025: ایف بی آر ٹیکس وصولی میں تاریخی اضافہ اور وزیر خزانہ کی نئی ہدایات
معاشی استحکام کی جانب ایک اہم قدم پاکستان کی معاشی تاریخ میں دسمبر 2025 ایک سنگ میل ثابت ہوا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے محصولات کی وصولی میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف اپنے اہداف کے قریب ترین رسائی حاصل کی ہے بلکہ ایک نیا ریکارڈ بھی قائم کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ایف بی آر ٹیکس وصولی کے ان اعداد و شمار کو حکومت کی معاشی پالیسیوں اور ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کی کامیابی قرار دیا ہے۔

دسمبر 2025 کے اعداد و شمار: ایک جائزہ
دسمبر کے مہینے کے لیے مقرر کردہ 1,446 ارب روپے کے بھاری ہدف کے مقابلے میں ایف بی آر نے 1,427.1 ارب روپے جمع کیے، جو کہ ہدف کا 99 فیصد بنتا ہے۔ یہ کامیابی اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ گزشتہ ماہ (نومبر) کے مقابلے میں وصولیوں میں 59 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ایف بی آر ٹیکس وصولی کا نظام اب پہلے سے زیادہ فعال اور مؤثر ہو چکا ہے۔
ان لینڈ ریونیو سروس کی غیر معمولی کارکردگی
رپورٹ کے مطابق ان لینڈ ریونیو سروس نے اپنی کارکردگی سے سب کو حیران کر دیا ہے۔ 1,310 ارب روپے کے ہدف کے تعاقب میں 1,308 ارب روپے وصول کیے گئے، جو کہ 99.8 فیصد کی کامیابی ہے۔ اس کارکردگی کا سہرا براہ راست بہتر مانیٹرنگ اور فیلڈ فارمیشنز کی انتھک محنت کے سر جاتا ہے۔
مختلف ٹیکس شعبوں میں ہونے والا اضافہ
اگر ہم مختلف شعبوں کا موازنہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ انکم ٹیکس میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا:
- انکم ٹیکس: 107 فیصد اضافہ (402 ارب سے بڑھ کر 831.5 ارب روپے)۔
- سیلز ٹیکس: 25 فیصد اضافہ (مجموعی طور پر 403.7 ارب روپے)۔
- فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی: 6 فیصد اضافہ (72.8 ارب روپے)۔
- کسٹمز ڈیوٹی: 15 فیصد اضافہ (118.9 ارب روپے)۔
یہ تمام اشاریے بتاتے ہیں کہ ایف بی آر ٹیکس وصولی کی حکمت عملی اب پائیدار نتائج فراہم کر رہی ہے۔
ڈیجیٹلائزیشن اور معاشی اصلاحات کا اثر
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ٹیم ایف بی آر سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ گزشتہ 18 ماہ کی اصلاحات اب رنگ لا رہی ہیں۔ معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن، کیش لیس لین دین کا فروغ، اور سخت نفاذِ قانون نے ٹیکس چوری کے راستے بند کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر ٹیکس وصولی میں یہ بہتری براہ راست ڈیجیٹل ٹولز کے استعمال کا نتیجہ ہے۔
ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کی ضرورت
وزیر خزانہ نے فیلڈ فارمیشنز کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی کوششوں کو صرف موجودہ ٹیکس دہندگان تک محدود نہ رکھیں بلکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع اور گہرا کرنے کے لیے دگنی محنت کریں۔ حکومت کا مقصد رسمی شعبے پر بوجھ کم کرنا ہے، اور یہ تب ہی ممکن ہے جب غیر دستاویزی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ پائیدار ایف بی آر ٹیکس وصولی کے لیے نئے ٹیکس دہندگان کا اندراج ناگزیر ہے۔
ایف بی آر کی کارکردگی پر سوالیہ نشان: FBR Tax Collection Shortfall کا حجم 321 ارب روپے تک پہنچ گیا
حکومت کا وژن واضح ہے: ایک ایسی معیشت جہاں ٹیکس کی تعمیل بوجھ نہیں بلکہ قومی ذمہ داری سمجھی جائے۔ وزیر خزانہ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ٹیم ایف بی آر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے آنے والے مہینوں میں ایف بی آر ٹیکس وصولی کے مزید بڑے اہداف حاصل کرے گی۔
3 Responses