ایف سی ہیڈکوارٹر پشاور خودکش حملہ: مبینہ بمبار کی تصویر جاری

ایف سی ہیڈکوارٹر پشاور خودکش حملہ کرنے والے مبینہ بمبار کی تصویر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ایف سی ہیڈکوارٹر پشاور خودکش حملہ: مبینہ خودکش بمبار کی تصویر منظرعام پر

ایف سی ہیڈکوارٹر پشاور خودکش حملہ — واقعے کی تازہ ترین تفصیلات

پشاور میں آج صبح ہونے والے ایف سی ہیڈکوارٹر پشاور خودکش حملہ نے پورے شہر میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ حملہ آوروں نے فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، مگر سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملے کو ناکام بنا دیا۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ایک مبینہ خودکش بمبار کی تصویر بھی سامنے آچکی ہے۔

پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر حملہ کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں کی کارروائی

حملے کی نوعیت اور ابتدائی معلومات

پولیس حکام کے مطابق تین دہشتگردوں نے ایف سی ہیڈکوارٹر پشاور پر حملہ کیا۔ ان میں سے ایک مبینہ خودکش بمبار نے مرکزی گیٹ پر دھماکا کیا جب کہ دو دہشتگرد اندر گھسنے کی کوشش میں مارے گئے۔ سیکیورٹی فورسز کی فوری جوابی کارروائی نے بڑے نقصان سے بچا لیا۔

اس ایف سی ہیڈکوارٹر پشاور خودکش حملہ میں تین ایف سی اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہوئے، جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا۔

مبینہ خودکش بمبار کی تصویر کیسے سامنے آئی؟

ذرائع کے مطابق حملہ کرنے والے مبینہ خودکش بمبار کی واضح تصویر جیو نیوز نے حاصل کی ہے، جس کی پولیس نے بھی باضابطہ تصدیق کی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ خودکش بمبار حملے سے پہلے بی آر ٹی اسٹیشن کے علاقے میں تقریباً آٹھ بج کر سات منٹ پر دیکھا گیا تھا۔

تصویر میں دھماکا خیز مواد سے لیس مبینہ حملہ آور ٹوپی اور چادر اوڑھے نظر آرہا ہے۔

یہ تصویر حملے کی تفتیش میں انتہائی اہم کردار ادا کرے گی۔

فورسز کی بروقت کارروائی — بڑا سانحہ ٹل گیا

سیکیورٹی فورسز نے نہایت پیشہ ورانہ انداز میں حملے کو ناکام بنایا۔ بقول پولیس حکام:

  • دہشتگرد کا مقصد زیادہ سے زیادہ جانی نقصان تھا
  • بروقت فائرنگ اور کارروائی نے دہشتگردوں کو اندر داخل ہونے سے روکا
  • علاقہ مکمل طور پر کلیئر کرکے مزید تفتیش شروع کردی گئی ہے

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ فورسز کی حاضر دماغی نہ ہوتی تو ایف سی ہیڈکوارٹر پشاور خودکش حملہ زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا تھا۔

علاقے میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی

حملے کے بعد:

  • بی آر ٹی سروس بند کردی گئی
  • داخلی و خارجی راستے بند
  • تمام اطراف کا محاصرہ
  • سی سی پی او پشاور نے خود آپریشن کی نگرانی کی

شہر میں ہائی الرٹ جاری ہے اور مزید حملوں کے خدشے کے پیش نظر نفری بڑھا دی گئی ہے۔

پولیس اور سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے

پولیس ترجمان کے مطابق:

  • حملہ آور پہلے سے ریکی کرچکے تھے
  • ان کی نقل و حرکت سی سی ٹی وی میں ریکارڈ ہوئی
  • ڈیجیٹل شواہد تیزی سے تجزیہ کیے جارہے ہیں
  • دہشتگرد نیٹ ورک تک پہنچنے کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں

واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشتگرد شہر میں بڑی کارروائی کا منصوبہ رکھتے تھے، مگر ایف سی ہیڈکوارٹر پشاور خودکش حملہ ناکام بنا دیا گیا۔

اہم شہادتیں اور تفتیش کے اہم نکات

ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ:

  • دہشتگرد خفیہ راستوں سے شہر میں داخل ہوئے
  • حملے سے پہلے کچھ وقت بی آر ٹی اسٹیشن پر گزرا
  • حملہ آور کی حرکات مشکوک تھیں مگر موقع ملتے ہی اس نے دھماکہ کیا

مبینہ خودکش بمبار کی تصویر سوشل میڈیا پر بھی گردش کررہی ہے، تاہم پولیس شہریوں سے افواہوں سے گریز کی اپیل کر رہی ہے۔

شہریوں کے لیے ہدایات

حکام نے کہا ہے کہ شہری:

  • مشکوک افراد کی اطلاع دیں
  • ہجوم والی جگہوں میں احتیاط کریں
  • سی سی ٹی وی ویڈیوز سے مدد لینے میں تعاون کریں

یہ ہدایات اس لیے دی گئی ہیں کہ ایف سی ہیڈکوارٹر پشاور خودکش حملہ جیسے واقعات کی روک تھام کی جاسکے۔

حملے کا پس منظر — دہشتگردی کی نئی لہر؟

پاکستان میں حالیہ مہینوں کے دوران دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پشاور اور خیبرپختونخوا اس کا خاص نشانہ بنے ہیں۔

ماہرین کے مطابق:

  • دہشتگرد دوبارہ منظم ہونے کی کوشش کررہے ہیں
  • سرحد پار سے دہشتگردوں کی آمد کی اطلاعات بڑھ رہی ہیں
  • سیکیورٹی ادارے حالتِ جنگ میں ہیں

ایسے میں ایف سی ہیڈکوارٹر پشاور خودکش حملہ ایک بڑا الارم سمجھا جارہا ہے۔

مزید تحقیقات— نتائج کب متوقع؟

سیکیورٹی حکام کے مطابق تفتیش تیزی سے جاری ہے۔
مہیا شواہد:

  • سی سی ٹی وی فوٹیج
  • ڈیجیٹل ڈیوائسز
  • مبینہ بمبار کی تصویر
  • جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد

ان سب کے ذریعے پولیس جلد دہشتگرد نیٹ ورک تک پہنچنے کی امید رکھتی ہے۔

پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر حملہ: خودکش دھماکا اور فورسز کی بروقت کارروائی

یہ حقیقت ہے کہ ایف سی ہیڈکوارٹر پشاور خودکش حملہ ایک بڑا سانحہ بن سکتا تھا، مگر فورسز کی بروقت کارروائی نے شہر کو بڑے نقصان سے بچا لیا۔ مبینہ خودکش بمبار کی تصویر سامنے آنے سے تفتیش میں مزید پیش رفت کی توقع ہے۔

ملک بھر میں سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک اس جنگ کا جاری رہنا ضروری قرار دیا جارہا ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]