جرمن صدر کا امریکی خارجہ پالیسی پر شدید حملہ عالمی نظام کو بچانا اب سب کی ذمہ داری ہے

بین الاقوامی قوانین پر مبنی عالمی نظام کا دفاع
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

امریکی اقدامات اور عالمی نظام کی بقا جرمن صدر کا ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر تاریخی احتجاج

جرمنی کے صدر فرینک والٹر اسٹین مائر نے بین الاقوامی سیاست کے بدلتے ہوئے منظر نامے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی خارجہ پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ برلن میں ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ امریکی اقدامات سے دہائیوں سے قائم عالمی نظام کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بین الاقوامی قوانین کی پاسداری نہ کی گئی تو دنیا ایک ایسے جنگل میں بدل جائے گی جہاں صرف طاقتور کی حکمرانی ہوگی۔

طاقتور ممالک اور کمزور ریاستوں کا مستقبل

جرمن صدر نے خبردار کیا کہ جب قواعد و ضوابط پر مبنی عالمی نظام کمزور ہوتا ہے، تو اس کا سب سے زیادہ نقصان چھوٹی اور کمزور ریاستوں کو ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اتحاد کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ طاقتور ممالک اپنی مرضی کمزور قوموں پر تھوپیں گے، جس سے عالمی امن کا توازن بگڑ جائے گا۔ ان کے بقول، ہمیں ہر صورت دنیا کو "لٹیروں کے ٹھکانے” میں تبدیل ہونے سے بچانا ہوگا تاکہ ایک منصفانہ عالمی نظام برقرار رہ سکے۔

ٹرمپ کی خارجہ پالیسی پر کڑی تنقید

فرینک والٹر اسٹین مائر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور ان کی "سب سے پہلے امریکہ” کی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی حالیہ پالیسیاں پائیدار عالمی نظام کے بنیادی ستونوں، یعنی جمہوریت اور بین الاقوامی اقدار کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ صدر اسٹین مائر کے مطابق، اگر عالمی قوانین کا احترام نہ کیا گیا تو بین الاقوامی تعاون کا ڈھانچہ گر جائے گا، جس کا خمیازہ پوری انسانیت کو بھگتنا پڑے گا۔

روس اور امریکہ کا موازنہ اور عالمی خطرات

اپنے خطاب کے دوران جرمن صدر نے روس کے کریمیا سے الحاق اور یوکرین پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان واقعات نے پہلے ہی عالمی نظام کو کمزور کر دیا تھا۔ اب امریکہ کی حالیہ پالیسیاں اس صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ جب بڑی طاقتیں بین الاقوامی معاہدوں سے پیچھے ہٹتی ہیں، تو موجودہ عالمی نظام میں انتشار پھیلتا ہے اور خودمختاری کے تصور کو ٹھیس پہنچتی ہے۔

یورپ کا کردار اور دفاع کی ضرورت

جرمن صدر نے یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ خاموش تماشائی بننے کے بجائے متحد ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپ کو ایک واضح موقف اختیار کرنا ہوگا تاکہ بین الاقوامی قوانین پر مبنی عالمی نظام کا دفاع کیا جا سکے۔ ان کا ماننا ہے کہ صرف ایک مضبوط اور متحد یورپ ہی دنیا کو افراتفری سے نکالنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے اور ایک مستحکم عالمی نظام کی بنیادوں کو دوبارہ مضبوط کر سکتا ہے۔

امریکی صدر کے لامحدود اختیارات کا دعویٰ

دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بطور ‘کمانڈر ان چیف’ وہ کسی بھی ملک پر فوجی کارروائی کا مکمل اختیار رکھتے ہیں اور انہیں صرف ان کی اپنی ذاتی سوچ روک سکتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے بیانات موجودہ عالمی نظام کے پرامن ڈھانچے کے خلاف ہیں اور اس سے عالمی سطح پر عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو مستقبل کا عالمی نظام مکمل طور پر تبدیل ہو جائے گا جہاں سفارت کاری کی جگہ طاقت لے لے گی۔

منیاپولس میں امریکی امیگریشن افسر کی فائرنگ: آئی سی ای اہلکار کے ہاتھوں خاتون کی ہلاکت، شہر میں شدید احتجاج

آخر میں جرمن صدر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جمہوریت اور عالمی امن کے تحفظ کے لیے ایک متوازن عالمی نظام ناگزیر ہے اور عالمی برادری کو اس "لٹیرے پن” کے خلاف صف آرا ہونا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]